پاک جنوبی افریقہ ٹی 20سیریز  فتح کا تاج کس کے سر؟

 پاک جنوبی افریقہ ٹی 20سیریز  فتح کا تاج کس کے سر؟

  

پاکستان اورجنوبی افریقہ کے مابین3 ٹی  ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کا  پہلا میچ ایک زبردست مقابلے کے بعد پاکستان نے جیت لیا جبکہ اس سیریز کا آخری مقابلہ آج قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوگا۔دونوں ٹیموں نے پہلے میچ میں یہ ثابت کیاکہ بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتری ہیں،جنوبی افریقہ کی ٹیم نوخیز ہونے کے باوجود فل فارم میں تھی تاہم پاکستانی کھلاڑیوں نے جوش و جذبے سے بھرپور کھیل پیش کیا اور تین رنز سے شکست دے کر پہلے میچ کی فتح اپنے نام کر لی۔ دوسرا میچ بھی اسی طرز کا تھا اور دونوں ٹیموں نے خوب زور لگایا۔آج کا فیصلہ کن میچ  ٹی 20سیریز کا اہم میچ ثابت ہوگاجب شام 6بجے دونوں ٹیمیں قذافی سٹیڈیم کے وسیع و عریض میدان میں اتریں گی۔ دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے پُرامید انداز میں اپنی کامیابی کے دعوے کئے ہیں اور اس عزم کااظہار کیا ہے کہ فتح ہماری ہوگی۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سنچری کرنے کے بعد اپنی خوشی کا اظہار کرتے اسے اپنے لیے اعزاز قرار دے دیا۔ گفتگو میں انہوں نے کہا کہ میرے لیے اعزازا کی بات ہے کہ میں پاکستان کا پہلا وکٹ کیپر بیٹسمین ہوں جس نے تینوں فارمیٹ میں سنچری بنائی۔  انہوں نے اپنی باری میں 104 رنز بنائے۔ اس اننگز میں 7 چھکے اور 6 چوکے شامل تھے۔محمد رضوان کی سنچری پاکستان کی طرف سے انٹرنیشنل ٹی ٹونٹی کرکٹ میں بننے والی دوسری سنچری ہے، اس سے قبل یہ اعزازسابق اوپنر احمد شہزاد کے پاس تھا جنہوں نے 111 رنز کی باری کھیلی تھی۔ یہ باری انہوں نے بنگلا دیش کیخلاف 2014ء میں بنائی تھی۔دوسری طرف محمد رضوان تینوں فارمیٹ میں سنچری سکور کرنے والے دنیا کے دوسرے وکٹ کیپر بیٹسمین ہیں۔ ان سے قبل برینڈن میکولم نے بطور وکٹ کیپر تینوں فارمیٹس میں سنچریاں کیں۔جبکہ دوسری جانب جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بابر اعظم قومی ٹیم کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔ بابر اعظم ان کپتانوں کی فہرست کا حصہ بن گئے جنھوں نے بطور کپتان اپنی پہلی ہی سیریز میں قومی ٹیم کو سیریز میں فتح دلوادی۔ پاکستان ٹیم نے بابر اعظم کی کپتانی میں جنوبی افریقہ کو پہلے کراچی ٹیسٹ اور پھر راولپنڈی ٹیسٹ میں بھی شکست دے کر مہمان ٹیم کے خلاف 0-2 سے وائٹ واش کردیا۔ اس سیریز میں بابر اعظم نے پہلی مرتبہ قومی ٹیم کی کمان سنبھالی اور ٹیم کو جیت دلوادی۔ اپنی اس فتح کے ساتھ ہی بابر اعظم ان کپتانوں کی خصوصی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں جنھوں نے قومی ٹیم کو پہلی ہی ٹیسٹ سیریز میں کامیابی دلوائی۔ یہ کارنامہ اپنی پہلی سیریز میں لیجنڈری فاسٹ بولر فضل محمود نے سال 1959 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف انجام دیا تھا۔ ان کے بعد عظیم بیٹسمین مشتاق محمد نے 1976 میں کپتان بننے کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف انجام دیا۔ لیجنڈری جاوید میانداد نے کپتانی سنبھالی تو انھوں نے 1980 میں اپنی پہلی ہی ٹیسٹ سیریز میں قومی ٹیم کو کامیابی دلوائی اور وقت ان کی حریف ٹیم آسٹریلیا تھی۔ سال 1994 میں سلیم ملک نے کمان سنبھالتے ہی اپنی پہلی ہی ٹیسٹ سیریز میں قومی ٹیم کو کامیابی دلوائی جہاں ان کی حریف ٹیم نیوزی لینڈ تھی۔ اب سال 2021 میں بابراعظم نے اپنی پہلی ہی سیریز میں ٹیم کو کامیابی دلوادی لیکن یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ بابراعظم نے حریف ٹیم کو وائٹ واش کردیا، جبکہ ان سے پہلے کسی کپتان کی ٹیم یہ کارنامہ انجام نہ دے سکی۔جبکہ دوسری جانب فاسٹ باؤلر حسن علی نے قومی ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ باؤلنگ کوچ وقار یونس کا 23 سالہ پرانا ریکارڈ توڑ ڈالا ہے۔ 26 سالہ حسن علی نے جنوبی افریقہ کے خلاف راولپنڈی میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں بھی 5 وکٹیں حاصل کیں اور میچ میں مجموعی طور پر 114 رنز کے عوض اپنے 10 شکار مکمل کیے، یہ کسی بھی پاکستانی باؤلر کی جانب سے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں بہترین باؤلنگ کارکردگی تھی۔قومی ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ باؤلنگ کوچ وقار یونس نے 1998 میں پورٹ ایلزبتھ ٹیسٹ میں 133 رنز کے عوض 10 وکٹیں حاصل کی تھی۔ سابق آف سپنر سعید اجمل نے 2013 میں کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں 147 رنز دے کر 10 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ سابق لیگ سپنر مشتاق احمد نے 1998 میں ڈربن ٹیسٹ میں 149 رنز کے عوض 9 شکار کیے تھے جب کہ سابق لیفٹ آرم سپنر عبدالرحمان نے 2007 میں کراچی ٹیسٹ کے دوران 210 رنز کے عوض 8 وکٹیں حاصل کی تھیں۔جبکہ دوسری جانب قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اوپنرز آؤٹ آف فارم ہیں، اْنہیں اعتماد دینے کی ضرورت ہے، ان کی خامیوں پر کام کریں گے۔مصباح الحق نے گفتگو کرتے ہو ئے کہا ہے کہ جیت سے ٹیم کا مورال بلند ہوا ہے، ٹی ٹونٹی سیریز میں جیت کے تسلسل کو برقرار رکھیں گے، کرکٹ کمیٹی نے نیوزی لینڈ کی سیریز کے بعد جو کہا اس کا دباؤ نہیں تھا، میرا فوکس صرف کھیل پر ہوتا ہے، دباؤ صرف اس بات کا تھا کہ اچھا پرفارم کر کے جیتنا ہے، ساوتھ افریقا کے خلاف ہم اچھا کھیلے اور جیتے جس کی خوشی بھی ہے اور اطمینان بھی۔ ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا ہے کہ ساؤتھ افریقا نے عرصہ دراز کے بعد پاکستان کا دورہ کیا، ہوم سیریز ہمارے لیے بڑی اہمیت کی حامل تھی،  ایک تو اپنی کنڈیشنز میں کھیل کر ٹیم اچھا پرفارم کرتی ہے اور اس پر کوئی دباؤ نہیں ہوتا تو دوسرا کھلاڑیوں کو بھی ڈویلپ کرنے کا موقع ملتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ساؤتھ افریقا کے خلاف کامیابی کا کریڈٹ پوری ٹیم کو جاتا ہے، لوئر آرڈر نے اچھا پرفارم کیا، ببیٹسمین اور بولرز تو اچھا کھیلتے ہو ئے آرہے تھے لیکن ہمیں کامیابی نہیں مل رہی تھی، اس سیریز میں فیلڈنگ میں بہتری آئی ہے، ہم نے چانس مس نہیں کیے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سیریز میں فرق فیلڈنگ کا تھا جس کی وجہ سے کامیابی ہمیں ملی۔ اْن کا کہنا تھا کہ نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں میں بھی موجود ہوں گا ایک ڈیڑھ ماہ ان پر کام کیا جائے گا، ہم اپنے اوپنرز کو ضائع نہیں کر سکتے اور نہ ہمیں ایک دو سیریز کے بعد انہیں تبدیل کرنا چاہیے، عابد علی، شان مسعود عمران بٹ اور عبداللّٰہ شفیق کے علاوہ کوئی پرفارم کرتا ہوا اوپنر نظر نہیں آرہا، اس لیے ان پر کام کریں گے۔جبکہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے جنوبی افریقا کے خلاف تاریخٰ کلین سویپ ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دے دیا۔سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی اپنی وڈیو میں انضمام الحق نے کہا کہ جنوبی افریقا کے خلاف کامیابی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، پاکستان نے تینوں شعبوں میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا، فیلڈنگ میں عمدہ کیچز، فواد عالم اور محمد رضوان کی سنچریوں اور پھر پہلے ٹیسٹ میچ میں اسپنرز کے بعد دوسرے ٹیسٹ میچ میں حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی کی شاندار باؤلنگ نے پاکستان کو فتح سے ہمکنار کیا۔سابق کپتان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لوئر آرڈر کا متواتر رنز بنانا اس ٹیسٹ سیریز میں دونوں ٹیموں کے درمیان فرق ثابت ہوا۔ فہیم اشرف، حسن علی، یاسر شاہ، نعمان علی اور شاہین شاہ آفریدی نے بیٹنگ میں شاندار فائیٹ کی۔ محمد رضوان کی کارکردگی میں دن بدن نکھار آرہا ہے، بطور بیٹسمین وہ جس طرح لوئر آرڈر کے ساتھ مل کر اسکور بورڈ چلا رہے ہیں وہ قابل دید ہے، آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ میں متواتر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے محمد رضوان کی جنوبی افریقا کے خلاف ہوم سیریز میں بھی کارکردگی نمایاں رہی۔انضمام الحق نے کہا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی ایک خاص اہمیت ہے اور کسی بھی کھلاڑی کو تراشنے میں اس کا کردار بہت اہم ہے، حسن علی اس کی تازہ ترین مثال ہیں کہ جس طرح انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل کر اپنی فارم، فٹنس اور ردھم کو واپس حاصل کیا. حسن علی نے دوسرے ٹیسٹ میچ میں عمدہ باؤلنگ کی، شاہین شاہ آفریدی نے بھی دوسری اننگز میں ان کا بہت ساتھ دیا۔جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس  نے کہا ہے کہ میں تعمیری اور بامعنی تنقید سے سیکھتا ہوں لیکن غصے میں کی جانے والی تنقید کے بارے میں نہ سوچتا ہوں اور نہ میرے پاس  اسکاجواب دینے کے لیے وقت ہے۔بولنگ کوچ وقار یونس نے آن لائن پریس میں میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہو ئے کہا کہ ہر کھیل کی بنیاد پرفارمنس ہوتی ہے اور جب پرفارمنس نہیں ہوتی تو اسکروٹنی تو ہو گی جو کہ فطری بات ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تنقید ہونی چاہیے اس سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔لیکن بے معنی تنقید نہیں ہونی چاہیے، میں سمجھتا ہوں کہ کرکٹ کمیٹی کو باقاعدگی سے بلانا چاہیے، ایسے سیشنز بہت اچھے ہوتے ہیں، کرکٹ کمیٹی کو صرف ہار نہیں جیت پر بھی بلانا چاہیے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا اچھا کیا کہ کامیابی ملی تاکہ کامیابی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا پلان کیا جا سکے۔وقار یونس نے کہا کہ ہم سب پاکستان ٹیم کی جیت چاہتے ہیں، جو تنقید کرتے ہیں وہ بھی جیت چاہتے ہیں۔، ہمیں کسی کو نیچا نہیں دکھانا اور نہ ہی کسی کو جواب دینا مقصد ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم جذباتی قوم ہیں، میں بھی جذباتی ہوں، ہم جذباتی پن میں کچھ ایسا بول جاتے ہیں کہ دوسروں کو دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر سے کوچز ٹیم کے ساتھ آئے تو یہ سلسلہ اچھا لگا، ایسے رابطے رہنے چاہئیں، ان کے آنے سے ہم نے خود کو غیر محفوظ نہیں سمجھا، ہم میچور لوگ ہیں، ہمیں کسی سے ڈر نہیں اور نہ ہم غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔وقار یونس نے کہا کہ جیت ہمیشہ اچھی لگتی ہے، اس پر سب کو خوشی ہوتی ہے، جیت کے لیے ہر کھلاڑی نے محنت کی ہے، اس کا کریڈٹ سب کو جاتا ہے، اسپورٹ اسٹاف نے بھی بہت محنت کی، اسپورٹ استاف کی محنت بعض اوقات نظر نہیں آتی لیکن جیت کا کریڈٹ اسپورٹ استاف کو بھی جاتا ہے۔شاہین شاہ آفریدی کے ورک لوڈ کے بارے میں پوچھے جانے والے سوال پر وقار یونس نے کہا کہ آج کل اس پر بہت بات ہو رہی ہے کہ شاہین شاہ آفریدی کو آرام ملنا چاہیے، شاہین آفریدی کے ورک لوڈ کے بارے میں دیکھ رہے ہیں، کوچز اور ڈاکٹرز کی اس پر کڑی نظر ہے۔بولنگ کوچ قومی ٹیم نے فاسٹ بولر حسن علی کی کارکردگی کو جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی جیت میں اہم قرار دیا۔وقار یونس کا کہنا ہے کہ حسن علی ایک گریٹ کریکٹر ہے، انجری کے بعد آنا اور پرفارم کرنا قابل تعریف ہے، حسن علی نے انجری کے دوران ہمت نہیں ہاری اور محنت جاری ر کھی، فائٹ کیا، فاسٹ بولرز کو انجریز ہوتی ہیں لیکن اس کے لیے دماغی طور پر مضبوط بننا پڑتا ہے، حسن علی نے دماغی طور پر مضبوطی دکھائی اور کم بیک سیریز میں پرفارم کیا اور پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

٭٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -