اصلی طاقت تعلیم پر عمل ہے!!! 

اصلی طاقت تعلیم پر عمل ہے!!! 
اصلی طاقت تعلیم پر عمل ہے!!! 

  

بادشاہ نے ایک خواب دیکھا ،خواب میں ایک بزرگ نے تین ایک جیسے ہیرے بادشاہ کو دیکھائے اور سوال کیا  کہ یہ بتاو کہ ان تینوں میں سے کون سا ہیرا قیمتی ہے؟؟؟ بادشاہ جواب نہ دے پایا ۔۔صبح بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو شخص مجھے بزرگ کے سوال کا جواب دے گا میں اسے انعام و اکرام سے نواز دوں گا لیکن کوئی بھی جواب نہ دے پایا کیونکہ کسی نے بھی وہ تینوں ہیرے دیکھے نہیں تھے۔۔۔  بادشاہ کو اگلی رات پھر وہی خواب آیا۔۔۔ بزرگ نے اپنا سوال دہرایا اور ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ میں نے وہ ہیرے تمہاری تجوری میں رکھ دیئے ہیں اب بتاؤ کہ تینوں میں سے کون سا ہیرا قیمتی ہے؟؟؟۔۔

بادشاہ کی آنکھ کھل گئی، صبح ہونے والی تھی، اس نے اپنی تجوری دیکھی تو واقعی وہاں تین ایک جیسے ہیرے پڑے تھے ۔۔۔صبح ہوتے ہی بادشاہ نے پورے ملک سے سمجھ دار جوہری طلب کئے اور انھیں یہ ہیرے دکھا کر وہی بزرگ والا سوال پیش کیا مگر کوئی جواب نہ دے پایا کیونکہ تینوں ہیرے وزن, رنگ, چمک اور حجم کے لحاظ سے بالکل ایک جیسے تھے۔۔۔ شام تک بادشاہ بہت مایوس ہو گیا کیونکہ اس کو ڈر تھا کہ رات خواب میں بزرگ نے وہی سوال دہرانا ہے اور مجھے جواب کا علم نہیں ہو سکا۔۔۔ دربار برخاست ہونے والا تھا کہ ایک  دانا حکیم بادشاہ کے حضور پیش ہو گیا  ۔۔۔اس نے کہا میں یہ بتا سکتا ہوں کہ قیمتی ہیرا  کون سا ہے لیکن اس کے لئے ان تینوں ہیروں کو سب سے بڑے بھگوان کے پاس لے کر جانا پڑے گا ۔۔۔۔بادشاہ اس شرط پر متفق ہو گیا  کہ وہ بھی اس کے ساتھ جائے گا لہذا حکیم  بادشاہ, درباریوں اور تینوں ہیروں کے ہمراہ مندر میں چلے گئے ۔۔۔حکیم نے پہلا ہیرا  مندر میں رکھے بت کے کان میں پھینکا کیونکہ دونوں کانوں کے درمیان میں راستہ بنا ہوا تھا اس لئے وہ ہیرا دوسرے کان سے باہر نکل آیا۔۔۔ دوسرا ہیرا بھی اس طریقے سے پھینکا گیا ،وہ بھی باہر نکل آیا لیکن تیسرا ہیرا کانوں کے درمیان دماغ میں معلق ہو گیا دانا حکیم فورا بولا یہ ہیرا سب سے زیادہ قیمتی ہے کیونکہ یہ بت کے ذہن میں سما گیا ہے .

اس واقعہ میں دو سبق ہیں۔۔ پہلا سبق یہ کہ ہر بات, ہر قول, ہر رائے اور فرمان بہت قیمتی ہوتا ہے اور دوسرا ذہن میں سمانا,  تو پھر ہم یوں کہہ سکتے ہیں  وہی نصیحت قیمتی ہے جو آپ کے ذہن میں سما جائے اور  آپ اس پر عمل کرنے پر مجبور ہو جائیں۔۔۔  دنیا میں سب سے زیادہ کیا جانے  والا آسان کام دوسروں کو  نصیحت کرنا ہے اور سب سے مشکل کام خود نصیحت پر عمل کرنا ہے , نصیحت آسانی سے ہر جگہ ہر وقت ہر کسی سے مفت میں مل جاتی ہے۔۔۔ لوگ جس کمال کی نصیحت دوسروں کو کرتے ہیں اگر خود اس پر عمل پیرا ہوں تو دنیا کیا سے کیا بن جائے۔ ۔

ہمیں بچپن سے یہ نصیحتیں کی جاتی ہیں کہ محنت کرو، محنت میں عظمت ہے، دیانت داری بہت ضروری ہے,  نماز کے بہت فائدے ہیں , اتنے عرصے سے ان نصیحتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم سب کو پتہ ہے ،محنت میں عظمت ہے لیکن آج کتنے لوگ محنتی ہیں ؟آج کی دنیا سست اور جاہل لوگوں سے بھری پڑی ہے,  دیانت داری کے بہت فائدے ہمیں پتا ہیں لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو دیانت داری کو اپنی زندگی کا شعار بنائے ہوئے ہیں۔۔۔

  بڑی معذرت کے ساتھ پہلے تو ہمیں دور دور تک کوئی ایماندار نظر نہیں آتا ،اگر مل بھی جائے تو آج کی دنیا اسے بیوقوف سمجھتی ہے, صرف علم بڑھانے اور نصیحتیں سننے سے بات نہیں بنتی بلکہ عمل کرنے سے دنیا بدلتی ہے,ہماری یونیورسٹیوں میں بزنس کی تعلیم وہ لوگ دے رہے ہیں جن لوگوں نے خود کبھی بزنس نہیں کیا ۔۔۔اب آپ خود ہی بتائیں جس چیز پر وہ خود عمل نہیں کر رہے تو  ان کی باتوں  میں کتنا  اثر ہو گا ؟؟شاید اسی لئے مجھ سمیت آج کے ہر نوجوان کی ترجیح نوکری ہے کاروبار نہیں , شاید اسی لئے ایماندار اور سچے لوگ ناپید ہیں۔۔ کیوںکہ ان کے رول ماڈلز میں عمل کا فقدان ہے۔۔۔

ہمارے بزرگانِ دین کے آج بھی لاکھوں پیروکار ہیں، کبھی آپ نے غور کیا ایسا کیوں ہے ؟؟؟تو اس کا جواب عمل ہے ۔۔یہ ان کے عمل کا ہی ثمرہے کہ آج بھی ان کی کہی ہوئی باتوں پر عمل پیرا ہونا ہم اپنے لئے باعث فخر اور راہ نجات سمجھتے ہیں, آج ہم میں سے ہر کوئی یہ بات بڑے فخریہ انداز میں کہتا ہے کہ علم بڑی دولت ہے لیکن اس زمرے میں مجھے یہ فقرہ غلط لگتا ہے کیوںکہ اصل فقرہ یہ ہونا چاہیے تعلیم پر عمل بڑی طاقت ہے ،میں امید کرتا ہوں آپ لوگ بھی اس میں میرا ساتھ دیں گے ...

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -