حمد نظم منقبت نظم اور غزل کے عہد ساز شاعر

حمد نظم منقبت نظم اور غزل کے عہد ساز شاعر
حمد نظم منقبت نظم اور غزل کے عہد ساز شاعر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


حفیظ تائب
جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا
الہی! شاد ہوں میں تیرے آگے ہاتھ پھیلا کر
میری اس کیفیت کو اپنی رحمت سے پذیرا کر
میری بھیگی ہوئی پلکیں مخاطب ہیں تو بس تجھ سے
میری تقدیر کے تاریک غاروں میں اجالا کر
میرے چاروں طرف ہے رقص وحشت روک دے اس کو
میرے اندر جو دشمن بڑھ رہا ہے اس کو پسپا کر
حفیظ تائب پنجابی،اردو، فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں کے شناور تھے۔ پنجابی،اردو اور فارسی ادبیات کا گہرا مطالعہ رکھتے تھے۔ بلاشبہ وہ حمد،نعت، منقبت،نظم اور غزل کے عہد ساز شاعر تھے۔
14فروری 1931کو پشاور، صدر میں اپنے ننھیال میں پیدا ہوئے جبکہ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق ضلع گوجرانوالہ کے قصبے احمد نگر سے تھا۔ پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شعبہ پنجابی سے وابستہ رہے۔ بعدازاں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ 1994 میں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی ملا۔ بحیثیت نعت گو اس اعزاز کو پانے والے وہ پہلے شاعر تھے۔ اس عظیم اور عہد ساز نعت گو نے 13جون 2004 کو اس دنیا سے پردہ کیا۔ کریم بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے قبرستان میں دفن ہوئے۔ لوح مزار پہ آپ ہی کے لافانی قصیدے آیہ نور کے یہ اشعار رقم ہیں:
قبر میری بحق ختم رسلؓ
ہو فراخ و معتبر و پر نور
سائبان کرم ہو سر پہ مرے
سر میدان حشر یوم نشور
آخرت کے سبھی مراحل میں 
میرے نزدیک تر ہوں میرے حضورؓ
احمد ندیم قاسمی انہیں پاکستان کے سب سے بڑے نعت گو ہونے کا اعزاز دیتے ہیں۔ بحیثیت انسان جہاں وہ ولی کامل مقبول و منظور بارگاہ مصطفیؓ اور مجسم نعت تھے،وہاں انہیں جہان نعت گوئی میں عصر حاضر کے مجتہد،امام و مجدد کا رتبہ بھی حاصل ہے۔
کم عمری میں شعر گوئی کا آغاز کرنے والے حفیظ تائب نے ابتدا غزل لکھنے سے کی۔ لیکن جب وہ صنف نعت کی طرف متوجہ ہوئے تو غزل گوئی ان کی ترجیحات سے خارج ہو گئی۔ تاہم بعدازاں نسیب کے نام سے ان کا مجموعہ غزلیات بھی منظر عام پہ آیا۔ انہوں نے قومی و ملی نظمیں اور ترانے بھی لکھے۔ مدحیہ اور رثائی نظمیں بھی قلمبند کیں۔ حمد و منقبت کو بڑی مہارت کے ساتھ شائستہ و شستہ انداز میں تخلیق کیا۔ صنف نعت کو عروج پر پہنچایا۔ اردو اور پنجابی میں نعت کی شاندار روایت قائم کی۔
ڈال کر ایک نظر روح کی پہنائی میں 
اس خرابے کو سمن زار بنائے جاتے
اس خنک شہر کو جاتی ہوئی اے نرم ہوا
ساتھ لے جا مرے جذبات بھی جاتے جاتے
اپنی شعری جمالیات میں لفظوں کو برتنے کا فن نمایاں کرنے والے حفیظ تائب کی نعتوں میں نہ صرف صوتی حسن ہے بلکہ معنوی جمال بھی ہے۔ شعری جمالیات میں لفظوں کی صوتی تکرار سے آہنگ و ترنم تخلیق کرتے ہیں۔عروضی اعتبار سے وہ جہان معنی پیدا کرتے ہیں۔ حضوری کی کیفیات میں سرشاری کی لذت عیاں کرتے ہیں۔ ان کے اسلوب و انداز میں شستہ و متمدن ذائقہ ہے۔حفیظ تائب کی نعتیہ غزل ہو یا نعتیہ آزاد نظم، نعتیہ قصیدہ ہو یا نعتیہ مثلث، نعتیہ سی حرفی ہو یا نعتیہ سانیٹ ہمیں اس میں جدت و ندرت، قادر اکلامی، عقیدت و بلاغت اور سچے دل کی سچی صداقت ملتی ہے۔
اترتی دیکھوں سحر روز ان کے قدموں میں 
دعائے نیم شبی میں ہو یہ اثر اے کاش
سفر عدم کا جو درپیش ہو مجھے تائب
دیار نور کی خوشبو ہو ہم سفر اے کاش
عطاالحق قاسمی نے بڑی خوبصورت بات کہی ہے، وہ کہتے ہیں: حفیظ تائب نے صرف نعت نہیں کہی،اپنی زندگی نعت کی طرح گزاری بھی ہے۔
حفیظ تائب کی نعت گوئی میں اصناف سخن کے ہیتی تجربات کی بو قلمونی اور اسلوبیاتی حسیت کی شیرینی ملتی ہے جو ان کی شعری جمالیات کو اور بھی اثر پذیر بنا دیتی ہے۔ انہوں نے جدید و قدیم صنف سخن کی ہر ہیت میں طبع آزمائی کی اور بڑی کامیابی سے سرخرو ہوئے۔ وہ عشق رسولؓ کا اظہار اتنی روانی اور آہنگ سے کرتے ہیں کہ من و تو کا فرق مٹ جاتا ہے۔ وہ لفظوں کو برتنے کا ہنر جانتے ہیں، جذبوں کو اجالنے کا وصف رکھتے ہیں۔ وہ اپنے والہانہ پن سے سہل ممنتنع اور اعلی فنی محاسن کو نبھاتے ہیں۔ ان کے ہاں خیالوں کی روانی ہے۔ جذبوں کی فراوانی ہے۔ انکسارو گداز کا امتزاج ہے۔ پنجابی نعت گوئی میں حفیظ تائب نے گرانقدر اضافہ کیا ہے۔اردو میں تو ان کا فن اور بھی فزوں تر ہے۔
آتی ہے نظر پیکر جہاں میں تری تنویر
ہر نقش کو کرتی ہے اجاگر تری سیرت
ہر رہ پہ مرا ہاتھ لیے ہاتھ میں اپنے 
چلتی ہے میرے ساتھ برابر تری سیرت
 خواجہ محمد زکریا ان کی نعت کو بہت زیادہ وسعت، تنوع اور تاثراتی گہرائی کی حامل قرار دیتے ہیں۔ وہ حفیظ تائب کی نعت کو معجزانہ انداز تخلیق کہتے ہیں جبکہ ڈاکٹر سید عبداللہ انہیں گلشن نعت کا بلبل خوش نوا کہتے ہیں۔ بلاشبہ حفیظ تائب کی نعتیہ شاعری فنی و فکری حوالے سے اعلی مقام رکھتی ہے۔
اک پتھر ہی سہی میرا وجود
پھر بھی اس آئنہ گر تک پہنچوں 
ڈھانپ لے عیب میرے خاک بقیع
ایسے انجام سفر تک پہنچوں 
ڈاکٹر تحسین فراقی کا خیال ہے حفیظ تائب کے یہاں حالی کی سی شرافت اور دردمندی اور اقبال کا سا گداز پایا جاتا ہے۔ جبکہ پروفیسر جلیل عالی کا بیاں ہے اردو نعت گوئی کے سلسلے کو وسعت دینے اور آگے بڑھانے میں حفیظ تائب صاحب نے اتنا اہم کردار ادا کیا ہے کہ احمدندیم قاسمی نے بجا طور پر انہیں اردو نعت کا امام قرار دیا ہے۔
میں یہ سمجھوں گا کہ آنکھوں کی نمی کام آ گئی
آپؓ کی راہ میں جو میری زندگی کام آ گئی
بے سروسامانیوں میں حاضری ہوتی رہی
شہر رحمت سے مری دل بستگی کام آ گئی
جناب حفیظ تائب کی نعت گوئی ہمارے لیے سرمایہ افتخار ہے۔ ان کی عقیدت بے لوث و بے غرض ہے۔ نعتیہ شاعری میں انہیں ممتاز و منفرد مقام حاصل ہے۔ ان کے کلام میں خلوص و سچائی،سادگی و اشاریت ہے۔ انہیں مناسب و موزوں الفاظ برتنے کاہنر آتا ہے۔ ان کا بے ساختہ پن غیر ارادی ہے جس میں تکلف و تصنع کا شائبہ تک نہیں۔ بات دل سے نکلتی ہے اور دل پہ اثر کرتی ہے۔ ان کے ہاں حسن ترکیب بھی ہے اور کمال کا حسن التزام بھی۔ بے ساختہ پن بھی ہے اور رواں دواں مانوس بحور بھی:
شوق باریاب ہو گیا
واکرم کا باب ہو گیا
انہوں نے پنجابی اور ہندی بحروں میں ہی کمال فن کے نمونے نہیں چھوڑے بلکہ انہیں اردو نعت میں بھی کمال روانی سے برت کر نئے زاویے آشکار کیے ہیں۔ آرائش عروس فن تو کوئی ان سے سیکھے۔ ان کی نعتیہ شاعری وضاحت و بلاغت سے عبارت ہے۔ نعت گوئی میں کوئی ان کا ثانی نہیں۔ انہوں نے صنف نعت کو اس طرح سے اپنایا کہ اسے ثروت مند کیا۔ اوج کمال تک پہنچانے کے لئے بڑی ریاضت کی۔
چادر سی جو نور کی تنی ہے
ماہ اخضر کی چاندنی ہے
میں باب کرم تک آگیا ہوں 
بگڑی ہوئی بات یوں بنی ہے
جناب حفیظ تائب نے اپنی زندگی نعت گوئی کے تقاضے پورے کرنے میں بسر کردی۔ نعت گو شعرا کو پوری توجہ سے پڑھ کر اسالیبی نزاکتوں اور نفاستوں کو بھی سمجھا اورتاریخ اسلام کے مطالعے پر بھی زور دیا۔ صنف نعت پر موجود تحقیقی و تنقیدی مواد کے ذخیرے کی بھی چھان بین کرتے رہے۔ وہ صحیح معنوں میں عاشق رسولؓ تھے۔ قرآن شریف اور احادیث پاک کو صدق دل سے پڑھا بھی اور سمجھا بھی۔ اپنی زندگی بھی انہی اصولوں پہ ڈھالنے کی جستجو بھی کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے ان کی نعتیہ شاعری میں یکسانیت نہیں ہے۔ حسن عقیدت ہے۔ من کی سچائی ہے۔
کیا مجھ سے ادا ہوں تیرے حق ہادی برحق
مقبول ہو ماتھے کا عرق ہادی برحق
ہم بھول کے پیغام ترا ہو گئے رسوا
جینے نہیں دیتا یہ قلق ہادی برحق
مقبول ہو ماتھے کا عرق ہادی برحق
ہم بھول کے پیغام ترا ہو گئے رسوا
جینے نہیں دیتا یہ قلق ہادی برحق
سید اعتبار ساجد کہتے ہیں جب بھی کوئی سخن ور نعت کہنے کی تمنا کرے گا تو اسے سب سے پہلے باب حفیظ تائب سے گزرنا ہوگا اسی ضمن میں حافظ لدھیانوی بجا طور پر کہتے ہیں اہل علم و ادب کا متفقہ فیصلہ ہے کہ حفیظ تائب عصر حاضر کا سب سے عظیم نعت نگار ہے۔ اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔
لب پہ آ گیا وہ اسم پاک
دل مرا رباب ہو گیا
تائب انؓ کی راہ میں جو مٹا
بس وہ کامیاب ہو گیا
ریاض حسین چودھری کا کہنا ہے:
نعت کے حوالے سے اقبال کے بعد نگاہ انتخاب حفیظ تائب پر آ کے رک جاتی ہے۔
احمد نگر کی عظمت و توقیر کو سلام
احمد نگر ہے شاعر سرکارؓ کا وطن
کینسر کے کوہ کرب سے لڑتے ہوئے ریاض
خورشید نعت ڈوب گیا ہے سربدن
اسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے۔

مزید :

رائے -کالم -