ہمیں بھی کچھ کرنا ہوگا

ہمیں بھی کچھ کرنا ہوگا
ہمیں بھی کچھ کرنا ہوگا

  

ایک حدیث مبارکہ ہے کہ ایک صحابیؓ نے حضور نبی اکرم سے عرض کیا کہ مَیں اپنی اونٹنی صحرا میں کھلی چھوڑ کر اللہ تعالیٰ پر توکل کرسکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری اونٹنی کی حفاظت فرمائے گا، تو سرکارِ مدینہ نے فرمایا کہ نہیں، پہلے اپنی اونٹنی کو رسی سے باندھو ، پھر اللہ پر توکل کرنا۔ہماری حالت یہ ہے کہ ہم حقائق سے نظریں چرُا کر پیش آنے والے حادثات کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں، جبکہ بے شمار حادثات ہماری اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے سرزد ہوتے ہیں۔ہمارے ملک میں بم دھماکے ہورہے ہیں۔خودکش حملے ہورہے ہیں۔چند دھماکے کندھوں کو استعمال کرکے کئے گئے۔اِن دھماکے کرنے والے لوگوں کو کوئی نہ کوئی توتیار کررہا ہے۔یہ ہزاروں میل دُور سے نہیں آتے۔ نزدیکی علاقوں سے آتے ہیں۔ہر روز شہروں میں ڈکیتیاں ہورہی ہیں، قتل ہورہے ہیں۔ہر انسان دوسرے انسان کا دشمن بن گیاہے۔یہ ہماری معاشرتی مشکلات ہیں۔ہمارے دلوں میں خوفِ خدا نہیں رہا۔ہم خود غرض اور مفاد پرست ہوگئے ہیں۔دیکھتی آنکھوں سے خاموش رہتے ہیں۔ہمیں صرف اپنے مفادات عزیز ہوگئے ہیں۔اب ہمارا خدا ہماری کیا مدد کرسکتا ہے؟

پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ہمیں اِس کا بے شمار شکر ادا کرنا چاہیے، لیکن ہم اِن نعمتوں کو صحیح طریقہ سے استعمال نہیں کررہے۔اللہ تعالیٰ نے اِس ملک میں سونے، چاندی،تیل، کاپر، نمک اور کوئلے کی صورت میں بے شمار معدنیات عطا فرمائی ہیں۔یہ سب کچھ دُنیا کے بہت کم ملکوں کو میسر ہے۔کہیں سونا ہے تو چاندی نہیں۔کہیں گیس ہے تو تیل نہیں، مگر پاکستان میں بے شمار معدنی وسائل ہیں۔ہر چیز بہت زیادہ مقدار میں موجود ہے، لیکن ہم اِن معدنیات کو حاصل نہیں کررہے، اگر ہم اِن معدنیات کا درست استعمال کرنے کی کوشش کریں تو پاکستان ایک ترقی یافتہ اور طاقت ور ملک بن سکتا ہے۔اتنے وسائل ہونے کے باوجود ہم ترقی نہیں کررہے، بلکہ پسماندگی کی طرف جارہے ہیں۔اِس کی وجوہات کیا ہیں؟دُنیا 21ویں صدی میں ترقی کی منزلیں طے کررہی ہے، لیکن بدقسمتی ہے کہ پاکستانی لوگ گیس، بجلی، پانی اور دوسری بنیادی ضروریات کے لئے ترس رہے ہیں۔

پاکستان دنیا کے نقشے پر اپنے معدنی وسائل کی وجہ سے بہت اہمیت رکھتا ہے، لیکن پاکستانی عوام سب کچھ ہونے کے باوجود محروم ہیں، اگر تاریخ پڑھی جائے تو ہر ملک کی حکومت اپنے شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرتی ہے،لیکن پاکستان کے سابق حکمرانوں نے 60سال سے اپنے ملک کے شہریوں کے لئے بنیادی ضروریات مہیا کرنے میں کوتاہیاں کی ہیں۔اِنہی کوتاہیوں اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک آج گھمبیر مسائل میں گھر چکا ہے اور ملک کا ہر شہری پریشانی میں مبتلا ہے،جبکہ پاکستان کے اردگرد تمام ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، لیکن پاکستان اپنے اندرونی حالات کی وجہ سے پریشان ہے۔اگر اب بھی پاکستان کے سیاستدانوں نے مل کر کچھ نہ کیا، اپنی اپنی بانسری بجانے کی کوشش کی تو ملک مزید بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔گزشتہ 64سال سے ملک کے حالات خراب ہوتے ہوتے خرابی کی آخری حد تک آ گئے ہیں۔اب حکمرانوں اور مخالفین کو مل کر سوچنا چاہیے کہ ملک کو سلامت کس طرح رکھا جا سکتا ہے؟پاکستان کا دشمن ملک کو توڑنے کے لئے تیار ہے۔شہریوں کی ضروریات زندگی کے معاملات تو گھمبیر ہوچکے ہیں،پاکستان کی معیشت بھی بہت کمزور ہوچکی ہے۔معیشت کی مشکلات سے ہی ملک بحرانوں کا شکار ہوتے ہیں،جس میں بدامنی، لوٹ مار اور مہنگائی کا عنصر شامل ہوتا ہے۔

پاکستان میں دوسرے ملکوں سے زیادہ خطرناک عنصر دہشت گردی شامل ہوچکی ہے،اِنہی مسائل کو حل کرنے کے لئے تمام سیاستدانوں کو ایک میز پر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان بدامنی،کرپشن، بڑھتی ہوئی مہنگائی، لاقانونیت اور پٹرول ، سی این جی ،بجلی، گیس کے نرخوں میں اضافے اور لوڈشیڈنگ کی شدید زد میں ہے۔ان بحرانوں نے عام آدمی کا جینا محال کررکھا ہے۔شہری علاقوں میں 12-12گھنٹے اور دیہاتی علاقوں میں 18سے 20گھنٹے بجلی نہیں آتی ، جن علاقوں میں سوئی گیس ہے،اس میں بھی شدید کمی ہوگئی ہے۔بدقسمتی ہے کہ سابق حکمرانوں کی طرح موجودہ حکومت نے بھی اِس طرف کوئی خاص توجہ دینے کی کوشش نہیںکی،جس کی وجہ سے سابقہ تمام پریشانیوں کی ذمہ داری بھی موجودہ حکومت پر ڈالی جارہی ہے۔جولوگ سابقہ حکومتوں میں شامل رہے ہیں ، انہوں نے بھی کوئی خاص قابل ذکر منصوبہ نہیں مکمل کیا۔وہ بھی موجودہ حکومت کے ذمہ سب کچھ لگا رہے ہیں۔ہم تمام پاکستانی بے شک نمازوں میں موجودہ مشکلات کے لئے خدا سے مدد مانگیں تو پھر اللہ تعالیٰ شائد کوئی اچھا حکمران دے دے جو لوٹ مار نہ کرے اور پاکستانی عوام کے لئے اچھے اچھے اور بڑے بڑے منصوبے مکمل کرلے۔

پاکستان میں جب تک بجلی اور سوئی گیس کی کمی کو دور نہیں کیا جائے گا،حالات قطعی طور پر ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ چونکہ پاکستان کے تمام حالات بجلی اور گیس کی وجہ سے خراب ہوئے ہیں۔فیکٹریاں، کارخانے، کاروبار سب کچھ بجلی اور گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے تباہ ہوئے ہیں۔حکمران اور اُن کے کارندے بجلی اور سوئی گیس شہریوں کو فراہم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں،لیکن اُن کے بلوں میں ہر آئے روز اضافہ کردیا جاتا ہے ۔صارفین سے زبردستی زیادہ بل وصول کئے جارہے ہیں، لیکن حکمران اور سیاستدان حالات ٹھیک کرنے کی بجائے سیاسی چپقلشوں میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ملک اور عوام کی کسی کو پروا نہیں، سب کھیل تماشے میں مگن ہیں۔ملک کے لئے درد رکھنے والے بہت کم تعداد میں ہیں، اُن کی سنتا کوئی نہیں، باقی اقتدار حاصل کرنے اور حکمران اقتدار کو قائم رکھنے میں مصروف ہیں۔

سیاستدان آپس میں دست و گریبان ہیں۔ بے بس عوام خاموش تماشائی بن چکے ہیں اور کچھ خودکشی کررہے ہیں۔ زندگی کی بنیادی ضروریات روٹی، کپڑا، مکان، گیس، بجلی سے عوام محروم ہوچکے ہیں۔اب کل کو کیا ہوگا۔ہمارا کیا بنے گا، اب کون حکومت کرے گا۔کون ملک کو سلامت رکھے گا۔موجود بحرانوں سے ملک کو کون نکالے گا۔ملک میں سی این جی کی وجہ سے ایک علیحدہ بحران پیدا ہوگیا ہے،چونکہ ملک میں ٹرانسپورٹ کا زیادہ نظام سی این جی پر شفٹ ہوگیا تھا،جو کہ اب مشکلات کا شکار ہے،جس کا اثر ہر صورت میں عوام پر پڑے گا۔گھریلو صارفین کو بھی گیس نہیں مل رہی۔ملک میں کوئی بہت بڑا منصوبہ بجلی یا گیس کے لئے زیر تعمیر نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے حالات اچھے ہونے کی امید کی جا سکے، اگرخودہم نے اپنے ملک کے لئے کچھ نہ کیا تو پھر شائد خدا بھی ہماری کوئی مدد نہیں کرے گا،لیکن ہمیں بحیثیت ایک مسلمان اللہ سے نااُمید نہیں ہونا چاہئے۔

مزید :

کالم -