کرپشن معاشرے کی رگوں میں دوڑنے لگی

کرپشن معاشرے کی رگوں میں دوڑنے لگی
 کرپشن معاشرے کی رگوں میں دوڑنے لگی

  

جب کوئی عمل، عادت یا رویہ بن جائے، تو نہ اس میں برائی محسوس ہوتی ہے، نہ اسے بُرا سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں انتہائی اوپر سے نیچے تک کرپشن کی جو حالت ہے، یہ بُرائی نہیں سمجھی جا رہی.... مثلاً اپنے اردگرد بہت سے لوگوں کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے.... ”اتنے پیسے ہوتے تو میرا فلاں کام ہو جاتا“ یا ”اتنے پیسے دیئے اور گھر بیٹھے کام ہو گیا“ یا ”یار اتنے عر صے سے دھکے کھاتے پھر رہے ہو، مٹھی گرم کرو اور جان چھڑاﺅ“.... حیرت انگیز طور پر کوئی یہ کہتا سنائی نہیں دے گا کہ ”رشوت، جو ایک باقاعدہ لعنت ہے، اس سے نجات ملے اور لوگوں کے جائز کام مقررہ وقت میں جائز طریقے سے ہو جائیں۔ بہت سے لوگوں نے تو از خود یہ فتویٰ دے دیا ہے کہ جب رشوت کے بغیر کام ممکن ہی نہ رہے تو پھر یہ رشوت نہیں ”مجبوری“ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے راشی اور مرتشی دونوں کو جہنمی قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکم نازل فرماتے وقت جو علیم و خبیر ہے، اس کو یہ علم نہیں تھا کہ اس جہان فانی میں ایک وقت ایسا آئے گا جب رشوت مرتشی کے لئے ”مجبوری“ بن جائے گی؟ اصل بات بُرائی کے خلاف صبرو استقلال کے ساتھ جدوجہد ہے، جبکہ ہمارے معاشرے میں ہر سطح پر صبرو تحمل ختم ہو چکا ہے۔

اب سے تین چار عشرے قبل کا ذکر ہے، برطانیہ میں آسٹریلیا سے آنے والے انڈوں کی قیمت میں چند پینی کا اضافہ کر دیا گیا۔ہاﺅس وائفز ایسوسی ایشن نے اعلان کر دیا کہ کوئی انڈا نہ خریدے۔ چند روز بعد انڈوں کے تاجروں نے اِس بائیکاٹ کو ناکام بنانے کے لئے انڈوں کی قیمت میں کچھ کمی کردی، لیکن کسی نے اِن انڈوں کی جانب آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تاجروں نے سابقہ قیمت بحال کرنے کا اعلان کیا، جس پر ہاﺅس وائفز ایسوسی ایشن نے لندن کے لوگوں کو گرین سگنل دے دیا۔ اب ذرا چشم تصور سے دیکھا جائے کہ اگر ایسی صورت حال پاکستان میں ہو جائے اور صارفین کی کوئی انجمن اعلان کر دے کہ انڈے نہ خریدے جائیں اور تاجر اس اعلان کا بھرکس نکالنے کے لئے انڈے کی قیمت میں چند پیسے کی کمی کر دیں تو کتنے پاکستانی ہیں، جن کے دامانِ صبر ہاتھ سے نہیں چھوٹ جائیں گے؟ کسی کو شک ہو تو یہ کرکے دیکھ لے۔

لوگ اگر یہ عہد کر لیں کہ مختلف محکموں کے اہلکار جتنا مرضی تنگ کر لیں، رشوت نہیں دی جائے گی، تو ایک نسل کو چند سال کی پریشانی ہو گی، اِس کے بعد وہ خود بھی اور آئندہ نسلیں ”مرتشی“ بننے کا سوچیں گی بھی نہیں، تو راشیوں کا ازخود خاتمہ ہو جائے گا۔ اِس کے اثرات دیگر محکموں اور اداروں پر بھی پڑیں گے،جہاں اعلیٰ پیمانے پر خوردبرد اور ہیرا پھیری کی جا تی ہے۔ کروڑوں اور اربوں کی کمیشن قومی محکمہ جاتی خزانوں سے نکل کر ملکی اور غیر ملکی بینکوں کی قوت زر میں اضافہ کرتی ہے۔ چند روز قبل چیئرمین نیب نے کرپشن کے جو اعداد و شمار پیش کئے، اُن کے مطابق ملک میں کرپشن روزانہ، چھ سات ارب سے بڑھ کر دس بارہ ارب تک پہنچ گئی ہے۔ چیئرمین نیب نے کرپشن کے جو اعداد و شمار پیش کئے، اُن کا ”کھرا“ حکومتی ایوانوں اور سرکاری محکموں کی طرف جاتا ہے۔ وفاقی وزراءنے اِس پر شدید رِدّعمل کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی اُمور سید خورشید شاہ نے چیئرمین نیب کے بیان پر یوں اظہار خیال کیا:”معلوم تو ہو کہ اتنے وسیع پیمانے پر کرپشن کہاں اور کیسے ہو رہی ہے؟ پتہ نہیں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کیا ہے، لوگوں نے اپنی اپنی کھول رکھی ہیں“۔

 وفاقی وزیر خورشید شاہ کو یہ کیوں یاد نہیں رہا کہ ”اُن کی حکومت کے ایک وزیر اور اعلیٰ حکام کے خلاف حج کرپشن کیس ابھی زیر سماعت ہے اور وہ یہ کیوں بھول گئے کہ2009ءمیں اِسی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں موجودہ وفاقی حکومت کے دور میں کرپشن میں اضافے کے اعداد و شمار دیئے، جس پر سابق وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی نے اُس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی۔ اِس کمیٹی نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں دیئے گئے نتائج کو غلط قرار نہیں دیا تھا، بلکہ گڈ گورننس بہتر بنانے اور کرپشن پر قابو پانے کے لئے بعض تجاویز دی تھیں، جو کبھی عمل درآمد کا اعزاز حاصل نہ کر سکیں، بلکہ اُنہیں اُٹھا کر طاقِ نسیاں میں رکھ دیا گیا تھا، پھر خورشید شاہ کو یہ بھی کیوں یاد نہیں رہا کہ2004ءمیں اِسی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن سروے پر پیپلزپارٹی نے پریس ریلیز جاری کی اور اِس کی بنیاد پر پیپلزپارٹی کے ترجمان نے پرویز مشرف حکومت کو کرپٹ ترین قرار دیا تھا۔

کرپشن ہی تو اِس دور کے ”ماتھے کا جھومر“ ہے، نیب نے نشان دہی کر دی، تو یہ کسی سر بستہ راز کا افشا نہیں ہے۔ پاکستان میں کون ہے، جو کرپشن کی داستان سے ناآشنا ہے۔ نیب کی جانب سے ایک حقیقت کو منظر عام پر لانا وفاقی وزراءکے شدید رِدّعمل کا باعث بنا۔ کابینہ کے اجلاس میں وفاقی وزراءنے سخت برہمی کا اظہار کیا۔اِس ضمن میں دو باتیں انتہائی توجہ طلب ہیں.... اوّل یہ کہ چیئرمین نیب کے ”غیر ذمہ درانہ بیان“ سے گڈ گورننس کی دھجیاں بکھر گئی ہیں۔ دوئم یہ کہ چیئرمین نیب ہمارے ہی تعینات کردہ ہیں اور وہ حکومت پر اربوں کی کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں۔ وہ اِس کی تفصیلات دینے کے پابند نہیں۔ وفاقی کابینہ نے چیئرمین نیب کے الزامات کی چھان بین کے لئے چار وفاقی وزراءپر مشتمل انکوائری کمیٹی بنا دی ہے، جو پندرہ روز کے اندر رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ ویسے دیکھا جائے تو یہ”وہی قاتل وہی منصف“ جیسی صورت حال ہے۔ ان وزراءپر مشتمل جو کمیٹی رپورٹ پیش کرے گی۔ اِس حوالے سے یہ بات زبان زد خاص و عام ہے.... ”ہم جانتے ہیں جو وہ لکھیںگے جواب میں“۔

اِس حوالے سے عوامی سطح پر جو قیاس کے گھوڑے دوڑائے جا رہے ہیں، اِس کے مطابق متذکرہ رپورٹ کا حاصل جمع یہ ہو گا کہ نیب کے یہ الزامات سنی سنائی باتوں، بلا ثبوت الزامات پر مشتمل ہیں، جن پر الزام لگایا گیا ہے وہ تو کرپشن کے معنی تک نہیں جانتے، پھر یہ جھنجھلاہٹ بھی جائز ہے کہ ہمارے ہی لگائے گئے چیئرمین اور ہمیں ہی ”میاﺅں“ .... چیئرمین کا مینڈیٹ تو اپوزیشن کو رگڑا دینا تھا، مگر یہ اُلٹی گنگا کیوں بہنے لگی۔ وفاقی وزراءکے ردعمل میں ایک اور قابل توجہ بات یہ کی گئی ہے کہ چیئرمین نیب کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گڈ گورننس کی دھجیاں بکھر گئی ہیں.... جہاں تک گڈ گورننس کا تعلق ہے تو یہ بات تمام اداروں کی تباہی سے ظاہر ہے۔ گڈ گورننس کی تازہ ترین مثال رواں مالی سال میں وفاقی وزارتِ تجارت کی رپورٹ کے مطابق2012ءمیں تجارتی خسارہ آٹھ ارب16کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا اور اگر اِسے ہی گڈ گورننس کا نام دیا جا رہاہے تو سمجھا یہی جاسکتا ہے.... گڈ گورننس کی معروف تعریف بھی تبدیل ہو گئی ہے۔چیئرمین نیب کا بیان کوئی پہلا چونکا دینے والا انکشاف نہیں ہے۔ یہ تو بچے بچے کو علم ہے کہ کرپشن ہمارے معاشرے کی رگ وپے میں دوڑنے لگی ہے۔

چیئرمین نیب کی یہ تجویز قابل غور ہے کہ ” کرپشن میں ملوث مچھلیوں اور مگر مچھوں کو پکڑنے کی بجائے نہر میں جانے والے پانی کا راستہ روکنا ہو گا تاکہ وہ اپنی موت آپ مر جائیں“، یعنی پورا سسٹم بدلا جائے۔ چیئرمین نیب کی رپورٹ اور اعداد و شمار کو جہاں کرپشن کے خلاف اعلانِ ”جہاد“ سمجھا جا رہا ہے، وہیں اِس سلسلے میں کئی شکوک بھی سر اُٹھائے کھڑے ہیں۔ چیئرمین نیب کے حوالے سے ارکان قومی اسمبلی کا یہ کہنا کہ وہ ہمارے ہی تعینات کردہ ہیں، بالکل درست بات ہے، بلکہ صدر آصف علی زرداری سے اُن کی قربت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ وہ صدر آصف علی زرداری کا انتخاب ہیں۔ اُن کی سربراہی میں نیب نے حکومتی عہدیداروں اور اُن کے من پسند افراد کے لئے مقدمات میں ہر طرح کی سہولتیں فراہم کیں، اُن سے بھی کون ہے، جو آشنا نہیں ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پونے پانچ سال میں کرپشن اِس ملک کے قومی خزانے اور مالیاتی اداروں کے ساتھ ساتھ معیشت کو کھوکھلا کرتی رہی، اِس کا نیب کی توجہ کے دائرے میں نہ آنا بلاشبہ حیرت انگیز ہی سمجھا جا سکتا ہے اور اب جبکہ موجودہ حکومت کے جانے میں تین چار ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے، نیب کے چیئرمین نے اتنی تاخیر سے انگڑائی کیوں لی ہے؟

 بادی النظر میں اِس کے دو ممکنہ نتائج ہو سکتے ہیں۔ اول یہ کہ اتنی بڑی کرپشن کے خاتمے کو بنیاد بنا کر موجودہ حکومت ایک سال کی توسیع کی اپنی خواہش پوری کر لے۔ سب سے بڑی اپوزیشن مسلم لیگ(ن) نے حکومت کے ایسے عزائم کو بھانپ لیا ہے، اِس لئے نیب کی اِس رپورٹ کی چھان بین کے لئے بننے والی وزراءکی کمیٹی میں حصہ داری سے انکار کر دیا ہے۔اگر مسلم لیگ (ن) کے ارکان اِس کمیٹی میں شامل ہو جاتے ، تو یہ قیاس بعید از حقیقت نہیں ہے کہ تحقیقات یا انکوائری مکمل ہونے کی آڑ میں حکومت کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر لی جاتی۔ غیر معمولی حالات میں آئین ایسا کرنے کی راہ کھولتا ہے، یعنی ملک میںمالی ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی۔ متذکرہ رپورٹ سے جو دوسرا نتیجہ نکالا جا رہا ہے، وہ یہ ہے کہ وزارتی کمیٹی چیئرمین کو طلب کرے گی،جو کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کریں گے،بلکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور پرنٹ میڈیا میں شائع ہونے والی کرپشن کی کہانیوں کو اپنی رپورٹ کا حصہ قرار دیں گے، اِس طرح یہ ساری رپورٹ اور اعداد و شمار بے بنیاد اور بلا ثبوت قرار پائیں گے اور موجودہ حکومت کا چہرہ کرپشن کے الزامات کے داغ دھبوں سے پاک صاف ہو جائے گا۔ بہرحال اِن دو باتوں میں سے جو بھی سامنے آئے گی، وزارتی کمیٹی پر اپوزیشن، میڈیا، سول سوسائٹی اور بہت موثر سوشل میڈیا کی گہری نظر ہو گی۔ اِس لئے شاید روائتی چالاکیوں اور ہنر کاریوں کی گنجائش نہ نکل سکے، تاہم نتائج من پسند ہوں یا ناپسندیدہ ہوں، سیاست کی بساط پر داﺅ چلنے میںکیا ہرج ہے۔ بعض داﺅ اِس لئے بھی چلے جاتے ہیں کہ شاید کام بن ہی جائے، لگ جائے تو تیر ورنہ تُکا تو ہے ہی۔ 

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

مزید :

کالم -