لائن آف کنٹرول پر بھارت کی ”امن آشا“

لائن آف کنٹرول پر بھارت کی ”امن آشا“
لائن آف کنٹرول پر بھارت کی ”امن آشا“

  

 ہمارا پڑوسی ملک بھارت زیادہ دیر امن کی بات نہیں کر سکتا۔ایک طرف بھارت پاکستان سے تجارتی حوالے سے ایم ایف این، یعنی پسندیدہ ترین ملک کا درجہ حاصل کرنے کے لئے مارا مارا پھر رہا ہے تو دوسری جانب وہ آئی ایس آئی اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے سمجھوتہ ایکسپریس جیسے بم دھماکے کروانے سے بھی نہیں چوکتا۔ بھارت تو خیر بھارت ہے، اُسے پاکستان سے جو جو فائدہ مل سکتا ہے، ظاہر ہے، وہ حاصل کرنے کی تگ و دو کرے گا، مگر جب اُسے لگتا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ جیسے معاہدے اُس کے لئے بہتر ہیں تو اِس کے لئے وہ امریکہ جیسے ملک کو استعمال کرکے اپنا کام نکال لیتا ہے۔ جب اُسے امن کی آشا کا ڈھونگ رچانے کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ دوچار گانے ریکارڈ کروا کر یہاں کے عوام کو بیوقوف بنانے کی سعی کرتا ہے۔ پاکستان اِس حوالے سے بدنصیب ملک ہے کہ اِس ملک کے وسائل پر پلنے والے بعض ادارے بھی اُس کے ہم نوا بن جاتے ہیں، بلکہ ایسے ایسے پروگرام نشر کئے جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

 ایک طرف ہمارے ہاں کے بعض”دانشور“ بھارت کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے، دوسری جانب بھارت کا یہ حال ہے کہ وہ جب چاہے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کرکے سیزفائر کی خلاف ورزی کرتا ہے اور دفاعِ وطن پر مامور ہمارے نوجوانوں کو شہید کرتا ہے۔ چند روز قبل لائن آف کنٹرول پر اِسی قسم کے واقعہ میں نائیک محمد اسلم شہید ہوا، اُسی روز ٹی وی چینلوں پر بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے کے حوالے سے ٹِکر بھی چل رہے تھے۔ پاکستان نے ایل او سی کے واقعہ پر احتجاج کیا تو ظاہر ہے بھارت کے پاس اِس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ بھارت نے اِس کے ٹھیک دو روز بعد ایک ڈرامہ رچایا اور الزام عائد کیا کہ پاکستانی فوجیوں نے نہ صرف یہ کہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی ہے، بلکہ بھارتی فوجیوں کے سر بھی کاٹ کر ہمراہ لے گئے، لیکن بھارت اِس کی کوئی ویڈیو اور نہ ہی تصاویر دکھا سکا۔ بھارتی فوج کا یہ الزام عائد کرنا تھا کہ بھارتی میڈیا اور اُس کی برکھاوت جیسی سرکردہ صحافی نے، جو امن کی آشا کی سفیر گردانی جاتی ہے، وہ زہر اُگلا کہ اِس کی مثال نہیں ملتی۔ اب دو دن بعد خود بھارتی میڈیا اِس واقعہ کی تردیدیں کرتا پھر رہا ہے۔

بھارتی فوج اور بھارتی میڈیا وقفے وقفے سے پاکستان کے خلاف ایسا زہریلا پروپیگنڈہ کرتے ہےں کہ سرشرم سے جھک جاتے ہیں۔ ممبئی ہوٹل پر ابھی حملہ ہوا ہی تھا کہ بھارت نے پاکستان اور اُس کی خفیہ ایجنسیوں کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیا۔اِسی طرح سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکہ ہوا تو آئی ایس آئی پر الزام عائد کر دیا گیا، لیکن بعد میں یہ ثابت ہو گیا کہ یہ سب کیا دھرا بھارتی فوج کا تھا۔ بھارتی فوج ڈرامے رچانے میں دُنیا بھر میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اُس کے کچھ افسروں نے کشمیر اور سیاچن کے محاذ پر اپنے ہی ملازمین کو ”کیچ اپ“ مل کر انعامات حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن پکڑے گئے۔ اِسی طرح بھارتی فوج نے حال ہی میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کی فوج کو بدنام کرنے کے لئے لائن آف کنٹرول پر حالیہ ڈرامہ رچایا، لیکن وہ برُی طرح ایکسپوز ہو گیا۔

بھارت بنیادی طور پر ایک بدخصلت ملک ہے، جو پاکستان سے فوائد کا حصول بھی چاہتا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ ِاسے زک پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے بھارت کے ساتھ سول سوسائٹی، میڈیا اور بعض دیگر سطحوں پر تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں ہو رہی تھیں، لیکن بھارت نے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کرکے پاکستانی فوجیوں کو شہید کیا ہے۔ اِس سے پاکستانی عوام کے دلوں میں بھارت کے حوالے سے پائے جانے والے وسوسوں نے گویا تعصب کا روپ دھار لیا ہے، گویا بھارت نے ....”امن کی آشا“.... کے منہ پر ایسا طمانچہ رسید کیا ہے، جس کی مثال نہیں ملتی۔

”نظر میں رہتے ہو، جب تم نظر نہیں آتے“ گنگنانے والے اب کدھر ہیں؟ امن کی آشا کا پرچار کرنے والے ہمارے ہاں کے ”چمپیئنز“ اب کہاں ہیں؟ کیا اُن کے نزدیک بہاولنگر کے نائیک محمد اسلم شہید کے خون کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ کیا اُن کے لئے اُن جوانوں کے خون کی کوئی حیثیت ہے، جن کا تعلق جہلم اور دوسرے علاقوں سے تھا؟ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ قوم کے بچے وطن کے لئے اپنے خون کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں تو دوسری جانب کوئی دشمنوں سے اپنے ملک کے خلاف واویلا کرنے کے لئے نذرانے وصول کر رہا ہے۔ کیا کسی فرد یا ادارے کو کسی دشمن ملک کے ایجنڈے پر محض اس وجہ سے عمل کرنا چاہیے کہ وہاں سے بزنس آرہا ہے اور آئندہ بھی بہت سے جوائنٹ ”وینچرز“ پر ابھی کام ہونا ہے۔ مختصراً یہ کہ جو قومیں اپنے بچوں اور جوانوں کے خون کی قدر نہیں کرتیں، اُنہیں ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کچھ سوچئے!! ٭

مزید :

کالم -