مقبرہ نورجہاں کی حالت ِزار

مقبرہ نورجہاں کی حالت ِزار
 مقبرہ نورجہاں کی حالت ِزار

  

”پاکستان“ کے رپورٹر نے مقبرہ نورجہاں کے بارے میں خبری اقدار کے عین مطابق خبر بنائی ہے، یعنی بہت صاف سیدھے انداز میں مقبرے کی ویران حالت کا نقشہ کھینچا ہے۔اُس نے لکھا ہے کہ مغل طرزِ تعمیر کا یہ شاہکار تیزی سے کھنڈرات میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔چند سال پہلے مقبرے کے اندر جانے کے لئے ٹکٹ لینا اور موٹر سائیکل یا کار کو اسٹینڈ پر کھڑا کرنا لازمی تھا لیکن اب ایسی کوئی پابندی نہیں ہورہی.... باغیچے جو کبھی سرسبز اور پھولوں سے بھرپور ہوتے تھے،اب اُجاڑ منظر پیش کررہے ہیں۔

ممکن ہے رپورٹر کچھ تاریخی شعور بھی رکھتا ہواور کچھ احساس کی دولت سے بھی بہرہ ور ہو،لیکن صحافتی اخلاقیات نے اُسے اپنے تاثرات کو خبر میں شامل ہونے سے روک دیا ہوگا ورنہ خبر توضرور اُداس کرنے والی ہے کہ جس ہستی کے سامنے کبھی ایک عظیم مغل بادشاہ نے آنِ واحد میں دل ہار دیا تھا اور جس کے ایک اشارے پر دُنیا اُلٹ پلٹ ہوجاتی تھی،آج یوں آسودئہ خاک ہے کہ عبرت کا نشان بنی ہوئی ہے۔اگر رپورٹر پوری رپورٹنگ سینس رکھتا ہوتا تو یقینا وہ قبر کے تعویز تک پہنچناتا جہاں خود نورجہاں ہی کا فارسی شعر دُھندلے حروف کے ساتھ کندا کیا ہوا دیکھتا:

برمزارِما غریباں نَے چراغے نَے گُلے

نے پرِ پروا نہ سوزد، نَے صدائے بلبلے

 تاریخی آثار کے بارے ارباب اختیار کا بے اعتنائی اور غفلت کا رویہ کوئی نئی بات نہیں۔ ایسی خبریں لاہور کے دیگر آثار کے بارے میں بھی اکثر چھپتی رہتی ہیں۔ گذشتہ برس میں اپنے ایم اے پنجابی کے طلباءوطالبات کو شاہی قلعہ دکھانے لے گیا تو مجھے اِس عظیم عمارت کی حالت مقبرہ نورجہاں سے بھی کہیں زیادہ شکستہ دکھائی دی تھی حالانکہ وہاں دن بھر اتنے ٹکٹ بکتے ہیں کہ اِس آمدنی سے ایک دوسرا قلعہ تعمیر ہوسکتا ۔ قلعہ کا تو نام سنتے ہی آنکھوں کے سامنے توپوں،بندوقوں اور گولہ بارود کا نقشہ کھینچ جاتا ہے،طبیعت میں ولولہ اور جوش سا کروٹیں لینے لگتا ہے ۔لیکن ’ مقبرہ‘ کانام تو سنتے ہی دل اُداسیوں میں ڈوبنے لگتا ہے۔زندگی کی رونقیں نگاہوں کے سامنے ماند پڑنے لگتی ہیں اور اگر مقبرہ مغل شہنشاہ کی چہیتی ملکہ کا ہو تو اُس کی کسمپرسی کی خبر تو اور ہی زیادہ حرمان ویاس سے دوچار کرنے والی ہے۔ کوئی ستر برس پہلے تلوک چند محروم نے اِسی مقبرے پر ایک بڑی پُر گداز نظم کہی تھی جو تاثیر وتاثر کے اعتبار سے ایک لازوال فن پارہ کا درجہ رکھتی ہے۔ذرا دیکھئے دُنیائے فانی کی کیسی پُردرد مرقع نگاری کی ہے:

دن کو بھی یہاں شب کی سیاہی کا سماں ہے

کہتے ہیں یہ آرام گہہِ نورجہاں ہے

مُدت ہوئی ، وہ شمع تہ خاکِ نہاں ہے

اُٹھتا مگر اب تک سرِ مرقد سے دُھواں ہے

جلووں سے عیاں جن کے ہُوا طور کا عالم

تربت پہ ہے اُن کی شبِ دیجور کا عالم

تعویذ لحد ہے زبرو زیر ، یہ اندھیر!

یہ دورِ زمانہ کے اُلٹ پھیر ، یہ اندھیر!

آنگن میں پڑے گرد کے ہیں ڈھیر ، یہ اندھیر!

اے گردش ایام! یہ اندھیر ، یہ اندھیر!

ماہِ فلک حُسن کو یہ بُرج ملا ہے

اے چرخ ترے حُسنِ نوازش کا گلا ہے

دُنیا کا یہ انجام ہے ، دیکھ اے دلِ ناداں!

ہاں بھُول نہ جائے تجھے یہ مدفنِ ویراں

باقی ہیں نہ وُہ باغ ، نہ وُہ قصرِ نہ اَیواں

آرام کے اسباب نہ وہ عیش کے ساماں

ٹوٹا ہُوا اِک ساحلِ راوی پہ مکاں ہے

دن کو بھی جہاں شب ِ کی سیاہی کا سماں ہے

قارئین! ملکہ نورجہاں کا مقبرہ تو خیر ایک مدت سے محکمہ آثارِ قدیمہ کے ارباب ِ اختیار کی لاپروائیوں اور غفلتوں کے ہاتھوں مرقعِ عبرت بنا ہوا ہے ،کیوں نہ میں آپ کو ایک اور منظر دکھا دوں جس کے سامنے نورجہاں کے مقبرے کی ویرانی بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔

محکمہ آثار قدیمہ کے پی آر او(افسر تعلقات عامہ) کا دفتر ہے۔ اپنے محکمہ کے بارے میں وہ اخبارات میں چھپنے والی خبریں تلاش کررہے ہیں۔اچانک پاکستان کے صفحہ5پر چھپنے والی خبر پر اُن کی نگاہ ٹھہر جاتی ہے۔ اِس خبر کو تراشے کی صورت دیتے ہیں۔اچانک ایک اہلکار اندر آتا ہے۔اطلاع دیتا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل تشریف لے آئے ہیں،آج کی خبروں کے تراشے دیکھنا چاہتے ہیں۔پی آر او فائل بغل میں تھامے اندر داخل ہوتے ہیں۔ڈی جی صاحب فائل کھولتے ہیں ،پاکستان والی خبر ذرا بلند آواز سے پڑھتے ہیں:

”شاہدرہ میں واقع مقبرہ نورجہاں کھنڈرات میں تبدیل“

 چہرے پر ناگواری کے تاثرات اُبھرتے ہیں،فائل بند کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:”یہاں زندوں کو کوئی نہیں پوچھتا،پاکستان کے رپورٹر کو مقبروں کا غم کھائے جارہا ہے،لو یار فائل لے جاﺅ‘۔اتنے میں اہلکار اطلاع دیتا ہے کہ مہمان آگئے ہیں۔ ڈی جی صاحب پی آر او سے کہتے ہیں ،دیکھو بھئی یہ یونیسکو کے کچھ لوگ ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم آثار قدیمہ کے تحفظ کے لئے کیا اقدامات کررہے ہیں۔اُنہیں دو چار صرف اُنہی مقامات تک لے جاﺅ جہاں تھوڑا بہت کام ہورہا ہے،باقی نہ دکھانا،ورنہ یہ لوگ ہمیں امداد نہیں دیں گے،سمجھے؟“

قارئین کرام! میری چشمِ تصور نے آثار قدیمہ کے تحفظ اور بقاءکے لئے ہونے والے اقدامات کی یہ ایک جھلک دیکھی ہے، شاید آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہمارے آثار قدیمہ کس تیزی سے کھنڈرات میں کیوں تبدیل ہورہے ہیں۔ ٭

مزید :

کالم -