زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے !!

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے !!

  

ابھی پروفیسر غفور احمد کی رحلت کا زخم تازہ تھا کہ قاضی حسین احمد بھی رخصت ہوگئے۔اُن کا انتقال پاکستانی قوم کی طرح پوری ملت اسلامیہ کے لئے ایک اندوہناک خبر تھی، کیونکہ قاضی حسین احمد صرف پاکستان کے نہیں عالم اسلام کے ایک بلند پایہ رہنماءتھے اور اُن کی شخصیت اسلامی دُنیا میں غیر متنازعہ حیثیت کی حامل تھی ،اُنہیں امام قاضی کے نام سے جانا پہچانا جاتا تھا۔جس طرح خاندان میں کسی تنازعہ یا جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے اِن بزرگوں کی مدد لی جاتی ہے، جن کے سامنے کسی کو چون و چرا یا انکار کی جرا ت نہیں ہوتی، بالکل وہی مقام قاضی صاحب کو اُمت مسلمہ میں حاصل تھا۔ بلاشبہ اُن کا وجود اسلامیانِ پاکستان کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے لئے نعمت خداوندی سے کم نہیں تھا۔وہ سب کے ”قاضی صاحب “تھے اور اُن کے وصال کی صور ت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت ہم سے واپس لے لی ہے ۔قاضی حسین احمد کے دل میں عالم اسلام کے اتحاد کے لئے بڑی تڑپ تھی اوراِس عظیم مقصد کی خاطر وہ اکثر اسلامی ممالک کے دوروں کے دوران وہاں کی اسلامی تحریکوں کے قائدین ، سربراہوں، اور اعلیٰ حکومتی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کرتے اور اُمت کے اتحاد اور ایک دوسرے کے دُکھ درد کو پوری اُمت کا دُکھ درد سمجھنے پر زور دیتے ۔

سوڈان ،ترکی ،ملائشیا ،افغانستان سمیت کئی اسلامی ممالک کی اسلامی تحریکوں اور حکومتوں میں اختلافات کو ختم کرانے میں قاضی حسین احمد نے مرکزی کردار ادا کیا۔ پرویز مشرف آمریت کے خلاف ایم ایم اے کی تشکیل اور دینی جماعتوں کی آپس کی شکر رنجیوں کو ختم کرکے ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا قومی یکجہتی اور وحدت کی طرف بہت بڑی پیش رفت تھی، جس میں نمایاں کردار جماعت اسلامی کے امیر کی حیثیت سے قاضی حسین احمد کا تھا،جس کا اعتراف بعد ازاں بی بی سی کے ایک مبصر نے ان الفاظ میں کیا کہ ”اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی دینی جماعتیں، جو اکثر ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلتی اور باہم دست و گریباں رہتی ہیں کے سربراہ چند ملاقاتوں اور آپس میں گفت وشنید کے بعدایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرنے اورایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کے لئے تیار ہوگئے ہیں، تو بات یہ نہیں ،اُن کا اتحاد جماعت اسلامی کی سال ہا سال کی کوششوں کا نتیجہ ہے ،علماءکے متفقہ بائیس نکات سے لے کر ملی یکجہتی کونسل کے قیام تک جماعت اسلامی پاکستان کی دینی قوتوں کے اتحاد کے لئے سرگرم رہی اور آج ایم ایم اے کی صورت میں جماعت اسلامی کی یہ کوششیں کامیاب ہوگئی ہیں۔

 ایم ایم اے کی شکست و ریخت” ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے “اور” چبھے کانٹا جو کابل میں تو ہندوستان کا ہر پیر و جواں بے تاب ہوجائے“کا نظریہ رکھنے والوں کے لئے تو صدمے کا باعث تھا ہی ،خود قا ضی حسین احمد جو اِس کے رُوح رواں تھے، اُن کی طبع حلیم پر اِس کا بہت اثر ہوا ،لیکن اِس کے باوجود قاضی حسین احمد اپنی زندگی کے آخری دن تک قومی اتحاد و یکجہتی خاص طور پر دیندار طبقے کو متحد کرنے کی کوششوں میں لگے رہے اور ایک دن کے لئے بھی ان کے اندر مایوسی یا ناامیدی دیکھنے میں نہیں آئی ،بلکہ وہ اس کے لئے آخری دم تک سرگرم عمل رہے،ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میںہونے والی کامیاب عالمی اسلامی کانفرنس قاضی حسین احمد کی اِن کوششوں ہی کی مرہون منت تھی۔قاضی کے لئے سب اپنے تھے اور کوئی بیگانہ نہیں تھا،کیونکہ اُن سے ملنے کے بعد کسی کو یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ ایسے شخص سے ملا ہے ،جس سے وہ پہلے کبھی نہیں ملا تھا، بلکہ ان سے پہلی ملاقات ہی مَیں احساس ہوتا تھا کہ میں تو انہیں سال ہا سال سے جانتا ہوں ،وہ انتہائی شفیق اور محبت کرنے والے شخص تھے ۔قاضی صاحب کی ویسے تو پوری قوم ان کی پاکستان کیلئے گرانقدر خدمات کی بدولت اُن کی احسان مند ہے ،لیکن مجھ سمیت سینکڑوں لوگ ایسے ہیں، جن پر اُن کے ذاتی احسانا ت تھے ۔

 مجھے اپنے علاقے میں سوئی گیس لگوانے کے لئے قاضی حسین احمد کے تعاون کی ضرورت پڑی ،اُن کی خدمت میں منصورہ حاضر ہوا اور مدعا بیان کیا ،اُنہوں نے نہایت شفقت فرماتے ہوئے کہا کہ گیس کی فراہمی کے لئے فنڈز کی ضرورت ہے اور وہ مَیں پوری نہیں کرسکتا ،کیونکہ جس حلقے سے مَیں قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہوا ہوں، مجھے ملنے والے فنڈزکے وہاں کے عوام حقدار ہیں۔ اُن کی دیانتداری کا یہ عالم تھا کہ اپنے حلقے کے فنڈز میں سے ایک روپیہ بھی کسی دوسری جگہ لگانے کو تیارنہیں تھے ،البتہ میرے مسئلے کے حل کے لئے اُنہوں نے سمیحہ باجی، جو خواتین کی مخصو ص نشستوں پر قومی اسمبلی کی ممبر بنی تھیں کو حکم دیا کہ اپنے فنڈز میں سے کچھ حصہ اس فلاح عامہ کے لئے دے دیں، جس پر انہوںنے مطلوبہ فنڈز مہیا کر دیئے، اس طرح آج ان کے اس احسان کا ثمر پانچ ہزار سے زائد آبادی کو مل رہا ہے ۔

قاضی حسین احمد کی نماز جنازہ میں رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ، بزرگوں کی دودھ ایسی سفید داڑھیاں بے اختیار بہنے والے آنسوﺅں سے تر تھیں تو نوجوان اپنی سسکیوں پر قابو پانے میں ناکام تھے،جھکی کمروں والے بزرگ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہے تھے ،ہزاروں نوجوان، جو قاضی حسین احمد کی جلسہ گاہ آمد پر ان کا استقبال ”ہم بیٹے کس کے،قاضی کے!ہم دیوانے ،قاضی کے،ہم سب پروانے قاضی کے ،ساتھ جئیں گے قاضی کے ،ہم ساتھ مریں گے ،قاضی کے!ان کا رہبر ان کا رہنما ان کا روحانی باپ اُنہیں بلکتاچھوڑ کر راہی ملک عدم ہورہا تھا !!جن کے حوصلوں کو قاضی صاحب کی ولولہ انگیز اور جرات مند قیادت اور شیر جیسی دھاڑ نے کہساروں سے زیادہ بلندی عطا کی تھی، ان کے حوصلے اور ضبط کے سارے بندھ ٹوٹ گئے تھے ،ہر کوئی اپنی آہوں اور بلند ہوتی سسکیوں کو دبانے کی ناکام کوشش کررہا تھا،تا حد نظر انسانوں کا ایک سمندر تھا جو اپنے محبو ب قائد کی آخری بارزیارت کرنے اور ان کی میت کو کندھا دینے کی تمنا لئے حاضر ہواتھا ۔

نماز جنازہ کے شرکاءجو اس عظیم سانحہ سے غم و اندوہ کی تصویر بنے ہوئے تھے ،ان سے مخاطب ہوکر قاضی حسین احمد کے صاحبزادے آصف لقمان قاضی نے واقعی ٹھیک کہاتھا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہا! مَیں آپ سے تعزیت کروںیا آپ مجھ سے تعزیت کریں !مجھے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ہم دوبھائی ہیں،مجھے تو لگتا ہے کہ ہم ہزاروں لاکھوں بہن بھائی ہیں ،پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مسلمان بہن بھائی ہمارے آغا جان کی روحانی اولاد ہیں اور ہماری طرح سبھی غم سے نڈھال ہیں ۔ پاکستان میں توان کی شخصیت ایک انجمن کی طرح تھی ،وہ جہاں اور جس مجلس میں جاتے، چھا جاتے ،ایسے لگتا جیسے گلدستے میں ایک بڑا گلاب کا پھول لگا دیا گیا ہے ،ہر خاص و عام کے دل میں ان کے لئے بڑی عقیدت اور احترام ہوتا ،ہرجگہ بڑے بڑے لیڈر ہوتے، مگر درمیان والی کرسی پر اکثر قاضی حسین احمد ہی جلوہ افروز ہوتے۔ قومی رہنماﺅں کے درمیان ان کی حیثیت ایک مرکزی قائد کی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ قاضی حسین احمدکے چلے جانے سے عالم اسلام ایک بلند پایہ قائد سے محروم ہوگیا ہے ۔اللہ ان کی قبر پر اپنی رحمتیں برسائے اور اُن کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے ،آمین۔  ٭

مزید :

کالم -