رات نے کیا کیا خواب دکھائے!

رات نے کیا کیا خواب دکھائے!
رات نے کیا کیا خواب دکھائے!

  

 ”شیخ الاسلام“ جناب طاہر القادری آج کل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں، پاکستانی سیاست کے حوالے سے ہر جگہ موضوع اول ہیں ۔”لانگ مارچ“ کے ساتھ ساتھ ان کے حوالے سے ”خوابوں“ کے تذکرے بھی زیر بحث ہیں اور ان کے حوالے سے یہ بیان بھی موجود ہے کہ انہوں نے جناب امام ابوحنیفہ ؒ سے عالم رویا میں پندرہ سے بیس سال تعلیم حاصل کی ہے، جبکہ دوسرے بیان میں تعلیم کا دورانیہ انہوں نے نو سال فرمایا ہے ۔ انسان خطا کا پتلا ہے ، تھوڑی بہت گڑ بڑ ہوہی جاتی ہے ۔ہمارا مقصد ان کے بیان کو جھٹلانا نہیں ہے، نہ ہی ہماری کوئی علمی یا روحانی حیثیت اور مقام ہے کہ ان کے بیانات کی تصدیق یا تردید کرسکیں اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہے، کیونکہ بہتیرے کالم نگار اور اینکر حضرات ان کے بیانات کا ”پوسٹ مارٹم“ کر رہے ہیں، البتہ جناب شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادر ی سے ایک ذاتی درخواست ہے کہ ہو سکے تو آئندہ کبھی ہمیں بھی اپنے ساتھ امام ابوحنیفہؒ کے حضور حاضری کا شرف دلوا دیں، کیونکہ ان کی نسبت ہم گناہ گاروں کو ان کی تعلیم کی زیادہ ضرورت ہے۔ جناب شیخ الاسلام سے پہلے بھی متعدد شخصیات ایسی گزری ہیںجو ایسے ہی خوابوں یا کشف کے مدعی تھے ،بطور نمونہ دو شخصیات کا ذکر کرتے ہیں ۔

 تقریباً سات صدیاں قبل سید محمد نور بخش جونپوری کو عالم خواب میں کشف ہوا کہ ایک شخص ان کی طرف اشارہ کرکے کہہ رہا ہے کہ”انت مہدی“ یعنی تو مہدی ہے ۔ سید صاحب نے یقین کرکے مہدی موعود کا دعویٰ کردیا ۔ ہزاروں لوگوں نے ان کی متابعت اختیار کی ۔ کچھ مدت بعد سید صاحب کچھ مریدوں کے ہمراہ حج کو چلے کہ مہدی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ خانہ کعبہ میں اپنے مہدی ہونے کا اعلان کرے گا،لیکن اثنائے راہ میں ان کو تردیدی کشف ہوا کہ ”انت مہدی“ کا مطلب ہے کہ تو ذاتی طور پر ہدایت یافتہ ہے، لیکن مہدی موعود نہیں ۔ آدمی نیک تھے، فوراً موجود مریدوں کو اکٹھا کرکے اپنا دعویٰ واپس لے لیااور کہا، ہندوستان واپس جاکر یہ اعلان سرعام کروں گا،لیکن واپسی سفر میں انتقال کرگئے ۔ ہمراہیوں نے واپس آکر باقی لوگوں کو احوال بتایا ۔ کچھ لوگ اپنے عقیدے سے پھر گئے، لیکن ہزاروں لوگ اڑے رہے اور ”نور بخشی“ نام سے یہ فرقہ آج بھی قائم ہے ۔

 عبداﷲابن تومرت بھی تاریخ کا ایک مشہور کردار ہے ۔اس کو بھی کشف ہوا کہ وہ مہدی ہے ۔ امام غزالیؒ کا شاگرد تھا۔ دنیا داری کے سامان میںاس کے پاس ایک عصا اور لوٹے کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ زبردست مقرر تھا، جیسا کہ اس قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ مراکش کے حکمران ابوالحسن علی بن یوسف بن تاشفین کے دربار میں وزیر نے بطور ملزم پیش کیاکہ سزا دی جائے، لیکن اس نے ایسی زبردست تقریر کی کہ حکمران رونے لگا اور بجائے سزا کے کچھ دے دلا کر عزت سے رخصت کیا ۔ ابن تو مرت کو ایک فصیح و بلیغ شخص عبداﷲابونشرینی نام کا ملا، جسے اس نے اپنا ہمراز بنا کر کہا کہ اپنی فصاحت و بلاغت کو چھپاکر ایسی باتیں کرو کہ لوگ تمہیں جاہل اور پاگل جانیں اور بات بھی ہکلا کر کیا کرو۔ ابن تومرت نے جلد ہی کافی لوگوں کی جمعیت اکٹھی کرلی ۔ اپنے دو چھوٹے شاگردوں کو کہا کہ مَیں تمہیں اندھے کنویں میں پھینک رہا ہوں۔ اندرکنویں سے آپ فرشتے بن کر آوازیں لگاﺅ کہ ابن تومرت مہدی ہے ۔ جب لوگ چلے جائیں گے تو مَیں تمہیں نکال لوں گا۔ شاگردوں نے منصوبے کے مطابق کنویں سے آوازیں نکالنا شروع کیں ۔

 لوگوں نے ابن تومرت کو بتایا کہ کنویں سے کچھ آوازیں آرہی ہیں ۔ ابن تومرت ایک ہجوم کے ساتھ کنویں پر پہنچا اور آواز لگائی کہ تم کون ہو ۔آواز آئی کہ ہم فرشتے ہیں اور آسمان سے یہ تصدیق کرنے آئے ہیں کہ تم مہدی ہو ۔ ہجوم نے ابن تومرت کے ہاتھ چومنے شروع کر دئیے ۔ ابن تومرت کے حکم پر کنویں کو بند کردیا گیاکہ فرشتے کہیںنیچے ہی سے آسمانوں سے آئے تھے اور اسی راستے سے واپس اوپر چلے جائیں گے ۔ دوسرا معجزہ جو لوگوں نے دیکھاکہ جاہل مطلق، نیم پاگل اور ہکلا کر باتیں کرنے والا عبداﷲابونشرینی اچانک روانی سے فصاحت و بلاغت کے جوہر دکھانے لگااور دعویٰ کرنے لگاکہ رات کو خواب میں فرشتوں نے میرا سینہ کھولا اور تمام علوم بھر کر پھر سینہ سی دیا ،زبان کی ہکلاہٹ بھی ختم کردی اوریہ سب اس لئے کہ مَیں مہدی موعود کی تصدیق کرسکوں ۔ اب کوئی جواز باقی نہ رہا کہ جو ”کافر“ ابن تومرت کی امامت پر ایمان نہ لاتے، ان کے سر قلم سلامت رہیں ۔سو ہزاروں افراد تہہ تیغ کر دئیے گئے ۔

اسی دوران ابن تومرت”امام مہدی“ راہی ملک عدم ہوئے، لیکن اس گروہ کی طاقت اتنی بڑھ چکی تھی کہ ابن تومرت کے جانشین عبدالمومن نے ”مرابطین “ کی اسی برس پرانی مضبوط حکومت کا خاتمہ کرکے ”موحدین“ حکومت کی بنیاد رکھی۔ مرابطین حکمران ابوالحسن علی بن یوسف بن تاشفین بھی عبدالمومن کے ہاتھوں مارا گیا۔ ”خوابوں اور مکاشفوں“ کی بنیاد پر بنی ”موحدین“سلطنت مراکش،بلاد مغرب اور اندلس تک وسیع تھی اور 539 ہجری تا 668ہجری تک قائم رہی اور اس سلسلے کے 15حکمران ہوئے ۔

 دوستو! یہ تو روحانی خوابوں کا ذکر تھا،جن کے نتیجے میں لاکھوں مسلمان جان سے گئے اور فتنہ و فساد الگ پھیلا۔وہ اس لئے کہ ہمیشہ ہی سے لوگ ایسی باتوں پر بغیر کسی تحقیق کے یقین کر لیتے ہیں، لیکن ہمارے دائیں بائیں بھی ایسے اصحاب بکثرت موجود ہیں جو ہر وقت ایسے خواب بیان کرتے رہتے ہیں،جن میں ”روحانیت“ کا”تڑکا“ لگا ہوتا ہے ۔ ہمارے محلے میں بھی ایک بزرگ موجود ہیں جو ہر واقعہ سنتے ہی کہتے ہیں کہ انہیں ”اشارہ“ ہوگیا تھا....ایسے ہی ایک اور حضرت ہیں ۔ ایک دن انہوں نے ایسا ”خواب“ بیان کیاجو شیخ الاسلام کے خواب سے ملتا جلتا تھااور ہماری سننے ،سمجھنے کی حدود سے ماورا تھا،لیکن ہم خاموش رہے اور کوئی تبصرہ نہ کیا۔دوسرے روز انہوں نے یہی خواب کچھ اور لوگوں سے بیان کیااور گواہی ہماری ڈال دی، جبکہ ایسا کوئی کلیہ نہیں جس سے دوسرے کے خواب کی تصدیق یا تردید ہوسکے، لیکن روحانی خوابوں کا سلسلہ شاید دوسرا ہے ۔ وہ ہمیں اپنا خلیفہ بنانا چاہ رہے ہوں گے سو ہم پنچایت میں بلائے گئے کہ ان کے خواب کی وضاحت کریں ۔ ہم نے ایک لفظ کی تبدیلی کرکے غالب کا شعر پڑھ دیا:

ہم کو معلوم ہے ”خواب“ کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

 ہماری پنچایت سے تو جان چھوٹ گئی، لیکن حضرت کے دربار میں داخلہ بند ہوگیا ۔ اسی طرح ایک بازار میں جاتے ہوئے ہمیں ایک دوست مل گئے ۔ کہنے لگے کہ مَیں تمہاری طرف ہی آرہا تھا۔ رات کو تمہارے والد میرے خواب میں آئے تھے کہ انہوں نے میرے والد کے بیس ہزار دینے ہیں ، وہ مَیں آپ سے لے لوںتو لائیے بیس ہزار۔ ہم نے ان کے خواب کی تصدیق کی کہ ہمارے والد واپسی میں ہمیں بھی یہی ہدایت دے گئے ہیں، لیکن دس منٹ بعد ہمارے خواب میں آپ کے داداحضور میرے دادا صاحب کا ہاتھ پکڑے تشریف لائے کہ آج کل دنیاوی حساب کتاب بے باق کرنے کا سخت آرڈر آیا ہوا ہے ۔ مَیں نے آپ کے دادا کے اسی ہزار چھ سو نوے روپے دینے ہیں، وہ آپ صبح پہلی فرصت میں میرے پوتے سے لے لیں،سو لائیے صاحب، اپنے بیس ہزار کاٹ کر باقی رقم۔ ہم نے بھی حکومت کی طرح ہاتھ آگے کردیا، لیکن دوست بولے کہ مَیں نے تو مذاق کیا تھا۔ ہم نے کہا کہ ہم تو سنجیدہ ہیں ۔ آپ ہمارے لیڈروں والے مذاق نہ کریں کہ خواب تو سنہرے دکھاتے ہیں، لیکن تعبیر ان کی ”ڈارک براﺅن“ نکلتی ہے ۔ کالم کا اختتام ہم طلعت محمود کے ایک پرانے گیت سے کررہے ہیں ، آپ سے گزارش ہے کہ لفظ ” رات“ کی جگہ اپنے ”ایم این اے“ کا نام لکھ لیں :

رات نے کیا کیا خواب دکھائے

رنگ بھرے سو جال بچھائے

آنکھیں کھلیں تو سپنے ٹوٹے

رہ گئے غم کے کالے سائے

مزید :

کالم -