بلوچستان میں امن .... پہلی ترجیح

بلوچستان میں امن .... پہلی ترجیح

  

کوئٹہ میں 10 اور پھر11جنوری2013ءکے بم دھماکوں اور فائرنگ سے118 قیمتی جانوں کا نقصان ہوا، جن میں 90 کے لگ بھگ تعداد شیعہ ہزارہ قبیلہ سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔ اس برادری کے مرنے والوں کے لواحقین نے نعشوں سمیت جمعہ کے روز سے کوئٹہ کی علمدار روڈ پر دھرنا دے رکھا ہے۔ پوری دُنیا میں اس دردناک منظر کو ٹیلی وژن چینلز کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔ اس قبیلے کے لوگوں پر موجودہ حکومت کے دوران بار بار حملے کئے گئے ، جس سے ان کے زندہ افراد پر بھی مسلسل خوف و دہشت طاری ہے۔ موجودہ دہشت گرد حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کے خاندان اپنے بچوں ، خواتین ا ور بوڑھوں سمیت مرنے والوں کا صدمہ اور دُکھ لئے تین دن سے بارش او ر کوئٹہ کی انتہائی سردی کے باوجود درد کی تصویر بنے سراپا احتجاج کھلے آسمان تلے اپنے عزیزوں کی نعشیں لئے بیٹھے ہیں ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک کوئٹہ کو فوج کے انتظام میں نہیں دے دیا جاتا اس وقت تک وہ اس جگہ سے نہیں اٹھیں گے اور نہ ہی مرنے والوں کی نعشوں کو دفنائیں گے۔ ہزارہ قبیلے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی حکومت ان دہشت گردوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور اس کی طرف سے دانستہ ہزارہ قبیلے کا قتل عام کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔    

کوئٹہ کے اس انتہائی افسوسنا ک واقعہ کی مختلف شیعہ تنظیموں کے علاوہ پاکستان بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں ، سول سوسائٹی اور مذہبی و سیاسی جماعتوں نے شدید مذمت کی ہے۔ اس کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے اور مختلف شہروں میں دھرنے بھی دیئے گئے۔ سوگوار خاندانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے گورنر بھی موقع پر پہنچے اور بعض اطلاعات کے مطابق انہوں نے حکومت کی ناکامی کے پیش نظر استعفیٰ بھی دے دیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سوگوار خاندانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے کوئٹہ پہنچ کر اس دھرنے میں شریک ہوگئے۔ احتجاج کے مزید آگے بڑھنے اور پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر وفاقی حکومت کی طرف سے بھی اس کا نوٹس لے لیا گیا ہے۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف دھرنادینے والوں سے مذاکرات اور دھرنا ختم کرانے کے لئے کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔ ادھر لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ شروع کرنے سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے علامہ طاہرالقادری نے بھی مطالبہ کیا کہ بلوچستان حکومت ختم کرکے وہاں گورنر راج قائم کردینا چاہئے۔ تاہم حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں تا حال پس و پیش سے کام لیا جارہا ہے اور اس راہ کی مختلف آئینی دشواریوں کا ذکر ہو رہا ہے جبکہ صوبے کے مظلوم عوام کے لئے اب ایسی نااہل صوبائی حکومت کو مزید برداشت کرنا ممکن نہیں جس کا وزیراعلیٰ ان سنگین حالات میں بھی بیرون ملک ہے اس سے پہلے بھی ان کا قیام زیادہ تر وفاقی دارالحکومت میں ہوتا ہے یہ حکومت اب تک صوبے میں امن وامان کا بنیادی مسئلہ بھی حل نہیں کرسکی۔

ذولفقار علی بھٹو کے دور میں پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی اکثریتی حکومت ختم کرکے گورنر راج قائم کردیا تھا۔ اسی طرح بلوچستان کے موجودہ سنگین حالات میں وہاں گورنر راج قائم کیا،اور کوئٹہ کا انتظام فوج کو دیا جاسکتا ہے۔ کوئٹہ کی انتہائی سنگین سردی میں چھیاسی نعشوں سمیت سینکڑوں لواحقین کا دھرنا انتہائی دردناک منظر پیش کر رہا ہے۔ پوری دُنیا اس منظر کو دیکھ رہی ہے ۔ ا س سے بیرونی دنیا کے سامنے اس معاملے کا صرف یہی پہلو آ رہا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں پر سنگین مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور ان کی بے بسی اور ظلم کی انتہاءاس وقت نعشوں سمیت کوئٹہ میں دیا جانے والا دھرنا ہے۔ جو ملک کے مختلف شہروں میں پھیل چکا ہے یہ کوئی معمولی صورت حال نہیں ۔ اسی طرح کی صورت حال میں بیرونی طاقتوں کو ا نسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے بہانے سے کسی ملک میں مداخلت کا موقعہ ملتا ہے ۔ پاکستانی حکومت کے لئے پاکستان کے ایک ایک شہری کی جان قیمتی ہونی چاہئے۔ دہشت گردی کے ایک حملے اور اس میںہونے والے بے گناہ شہریوں کے جانی نقصان کے بعد ہی سب کچھ چھوڑ کر حکمرانوں کو سرجوڑ کر دہشت گردی کے قلع قمع کا حل تلاش کرناچا ہئے تھا، لیکن بدقسمتی سے ملک میں دہشت گردی کا سلسلہ تواتر سے شروع ہے ہر جگہ اور ہر مقام پر یہی کہانی ہے اور قصہ بہت طولانی ہے، لیکن بلاشبہ وہ مظلوم لوگ اور ان کی حفاظت کا معاملہ اس ضمن میں سب سے زیادہ توجہ طلب ہے جن پر تواتر کے ساتھ ٹارگٹ حملے ہو رہے ہیں ۔ آج اگر کوئٹہ کی علمدار سٹرک کا انتہائی دردناک منظر پورے ملک بلکہ بیرون ملک بھی انسانیت پر یقین رکھنے والے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا رہا ہے تو یہ منظر دُنیا کے سامنے آنے سے پہلے بھی ان لوگوں کے قتل عام کے مسائل ایسے ہی دردناک تھے، لیکن اس سے پہلے وہ اس دردناک انداز میں دنیا کے سامنے پیش نہیں ہو سکے تھے بدقسمتی سے حکومت کی طرف سے کسی بھی معاملے کی طرف اس وقت تک کوئی توجہ کرنے کا مزاج ہی نہیں ہے جب تک کہ معاملہ بگڑ کر قوم و ملک کا بہت کچھ برباد نہ کر بیٹھے۔

مذہبی جماعتوں یا کالعدم مذہبی تنظیموں کی طرف سے اگر کوئی اس طرح کی دہشت گردی میں ملوث ہے تو اس کی نشاندہی ہونی چاہئے۔ ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک ہماری ایجنسیوں کو پہنچنا چاہئے۔ اگر ہمارے سامنے موجود کچھ لوگوں کی سرپرستی یا ہمدردی ان انسانیت دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی راہ میں رکاوٹ ہے تو ان سے بات کی جانی چاہئے۔ سارے ملک میں ہر طرح کی قتل و غارت گری کے پیچھے بالآخر سیاسی ہاتھ ہی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی قومی کانفرنسوں کا اہتمام ہونا چاہئے جن میں اس بہت بڑی اور قوم کو تباہ کرنے والی آفت سے نجات کے راستے تلاش کئے جائیں۔

  بلوچستان حکومت آج تک مسلسل بے بسی اور اپنی ناکامی ہی کا اعتراف کررہی ہے تو اسے آج نہیں آج سے بہت پہلے قوم سے معذرت کرکے مستعفی ہو جانا چاہئے تھا۔ قوم نے آئین کے ذریعے جن لوگوں کو ملک کے تمام وسائل اور اختیارات اور تمام سول اور ملٹری مشینری کی سربراہی سونپی ہے اگر وہ لوگ بھی ہر معاملے میں آئیں بائیں شائیں ہی سے کام لیں گے توپھر آخر ان کے ہوتے ہوئے قوم کا کیا بنے گا؟ ایسی ناکامیوں اور ایسی بے حسی کی مثال تو اس وقت دُنیا کے مختلف ممالک میں ہمیں کہیں بھی نہیں ملتی۔ اس کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ اس زمانے میں ایسے حالات والے ملک کے اندرمداخلت کرنے کے لئے ارد گرد والی طاقتیں للچا جاتی ہیں۔ اللہ ہمیں کسی ایسی صورت حال سے بچائے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے حاکم جو ہمیں اس حالت تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں وہ اس قوم پر رحم کریں ، اب بھی سنبھل جائیں۔ کسی طرح تو اپنے ذمہ دار ہونے کا کوئی ثبوت دیں۔

مزید :

اداریہ -