اسمبلیاں تحلیل کر دیں، طاہر القادری نے حکومت کو الٹی میٹم دے دیا، افتتاحی خطاب صبح گیارہ بجے ہو گا

اسمبلیاں تحلیل کر دیں، طاہر القادری نے حکومت کو الٹی میٹم دے دیا، افتتاحی ...
 اسمبلیاں تحلیل کر دیں، طاہر القادری نے حکومت کو الٹی میٹم دے دیا، افتتاحی خطاب صبح گیارہ بجے ہو گا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو کل تک اسمبلیاں تحلیل کرنے کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ وہ لانگ مارچ کے شرکاءسے یہاں نہیں بلکہ پارلیمینٹ ہاﺅس کے سامنے خطاب کریں گے، انتظامیہ کو مہلت دیتا ہوں کہ وہ ڈی چوک میں ان کے خطاب کے انتظامات کر لیں کیونکہ پارلیمینٹ ہاﺅس کے سامنے ہی سٹیج لگے گا اور وہیں صبح گیارہ بجے افتتاحی خطاب کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ اب اسے مارچ نہیں بلکہ انقلاب کہا جائے۔ طاہر القادری کا کہنا تھا کہ وہ صدر پاکستان، نواز شریف، شہباز شریف اور اسفند یار ولی کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ یہاں پر آئیں اور لوگوں کا ہجوم دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ حسینی قافلہ لے کر آیا ہوں اور ہمیں یزیدی تخت جمہوری طاقت کے ذریعے الٹ دینا ہے، عوام کی اسمبلی اب پارلیمینٹ کے سامنے لگے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دو دن میں حکومت بدل چکی ہو گی اور قومی اداروں کے موجودہ سربراہان دو دن میں تبدیل ہو چکے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بسیں نہ ملنے کے باعث بہت سے لوگ پیچھے رہ گئے ہیں جو جلد ہی یہاں پہنچ جائیں گے، آج رات جعلی مینڈیٹ ختم ہو چکا ہے، اب چالیس لاکھ لوگ انقلاب لائیں گے۔ انہوں نے شرکاءسے عہد لیا کہ انقلاب کی تکمیل تک یہاں سے کوئی نہیں جائے گا۔ کل گیارہ بجے افتتاحی خطاب کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر پچاس لاکھ لوگوں کا ہے، گھر بیٹھے ہوئے ٹی وی پر دیکھ کر چار پانچ لاکھ بیان کرنے والے خدا کا خوف کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو صبح گیارہ بجے کی مہلت ہے اس کے بعد عوام کے فیصلے شروع ہو جائیں گے۔ 

اس سے قبل فیض آباد پہنچنے پر انہوں نے اپنے مختصر خطاب میں شرکاءسے خیر یت دریافت کرتے ہوئے پوچھا ”تھکے تو نہیں ہو“۔انہوں نے شرکاءسے کہا ”میر ا ساتھ دو گے اور کیا کٹ مرنے کو تیار ہو “ جس پر تمام شرکاءانہیں نے ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر طاہر القادر ی نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کے خاتمے تک دھرنا جاری رکھیں گے۔لانگ مارچ کا جلوس فیض آبادپہنچ گیا۔ قافلہ سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل اور کئی کلو میٹر لمبا ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد میں لانگ مارچ کے جلسے کے مقام پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوچکے ہیں جن میں خواتین، بچے، بوڑھے ، جوان اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ دوسری جانب غیرملکی خبر ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ تمام اسمبلیوں کے تحلیل ہونے، کرپٹ حکمرانوں کے بے دخل کرنے اور آئین کے مکمل نفاذ تک لانگ مارچ جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے حامی قانون کی حکمرانی اور صحیح و درست سمت میں جمہوریت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ اس سے قبل منہاج القرآن انتظامیہ کا کمشنر اسلام آباد کے ساتھ معاہدہ بھی طے پاگیاہے جس کے تحت چیکنگ کے بغیر داخلے اور مقررہ جگہ سے کسی دوسری جگہ کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی کو ئی فرد کسی پرتشدد واقعہ میں ملوث ہوگا ۔ مختلف علاقوں سے آنیوالا دو سو سے زائد گاڑیوں پر مشتمل قافلہ دھرنے کی جگہ اسلام آباد کے بلوایریامیں پہنچ گیاہے جبکہ لانگ مارچ کی سیکیورٹی کے پیش نظرہیلی کاپٹروں سے اسلام آباد کی فضائی نگرانی کی جارہی ہیں جبکہ سیکیورٹی کے مبینہ خطرات کے پیش نظر جڑواں شہروں میں موبائل فون سروس معطل کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں جس کے بعد شہر کے بعض علاقوں میں موبائل سروس معطل ہوگئی ہے جبکہ پی ٹی سی ایل کی وائرلیس فون سروس بھی بند کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔آزادکشمیر شمالی علاقہ جات خیبر پختونخواہ کے علاوہ بھکر ،میانوالی ،مظفر گڑھ، ڈی غازیخان ،رحیم یار خان ،اور ملتان سمیت مختلف اضلاع سے ہے ہزاروںکی تعدادسے پیدل منزل مقصودپر پہنچے اس کے علاوہ دھرنے میںشریک ہونے والے افراد موٹرسا ئیکلوںاور ویگنو ںگاڑیوںبسوںٹرکوں حتی کہ گدھا گاڑیوں پر بھی سوار تھے ڈاکٹر طاہرلقادری کے استقبال کےلئے اسلام آباد ایکسپریس ہائی وے کے دونوں اطراف میںعورتوں سمیت سینکڑوں افراد بیٹھے رہے۔ دھرنے میںشامل ہونے کے لئے آنے والے افراد کے ہاتھوںمیںجھنڈے ڈنڈے اورپلے کارڈ اٹھائے شدید نعرے بازی کرتے رہے ۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کیساتھ منہاج القرآن انتظامیہ کی طرف سے ہونیوالے معاہدے کے مطابق لانگ مارچ کے شرکاءمقررہ مقام سے کسی اور جگہ نہیں جا ئیں گئے ،مخصوص مقام پر گاڑریاں کھڑی کی جائیں گی اور چیکنگ کے بغیر کوئی فرد جلسہ گاہ میں داخل نہیں ہو گا۔معاہدے کے مطابق خواتین کی چیکنگ رضا کار خواتین کریں گی اورریڈ زون میں یاسٹیج کے پیچھے یا دوسو فٹ سے کم فاصلے پر آگے کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ خلاف ورزی پر کسی بھی شخص کو گرفتارکیاجاسکے گا اور کوئی بھی شخص کسی ناخوشگوار واقعہ میں ملوث نہیں ہوگا۔وفاقی وزیررحمان ملک نے کہاکہ ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں اور اسلام آباد کی حدود میں طاہرالقادری کو خصوصی سیکیورٹی دیں گے،دو ایس پیز تعینات ہوں گے۔

مزید :

قومی -Headlines -