انحرافات اورالتباسات کاعلاج کیسے ہو ؟

انحرافات اورالتباسات کاعلاج کیسے ہو ؟

سچائی اور دروغ گوئی ایک ساتھ نہیں چل سکتیں ،مصلحت اور حقیقت کا ملاپ بھی ممکن کہاں اور نہ ہی شر کی منحوس سیاہی اور خیر کی مبارک سفیدی کا اجتماع ممکن ہے ۔

فریب کاری اور شتر مرغگی کے بازاروں میں ان سیاسی لیڈروں ،مذہبی رہنماؤں ،دانشوروں اور صحافیوں کی بڑی مانگ ہے جو ایک ہی سانس میں دہشت گردی کی ہومیو پیتھک مخالفت کرتے اور ساتھ ہی دہشت گردوں کا نام لئے بغیر ان کی حمایت بھی کیا کئے ۔رونے والے سہولت کاروں کا رونا روتے ہیں ،لیکن یہاں تو چلمن کے پیچھے اور چمنی کے آگے سے دہشت گردوں اور ان کے نظریے کو پانی ،ہوا، فضااور کھاد دینے والے بھی برابر اپنا کام کیا کئے ۔سفید اور سیاہ ،خیر اور شر،نیکی اور بدی اور معصوم اور مجرم .........یہ سب کے سب اس قدر خلط ملط اور مل جل گئے ہیں کہ تفریق اور امتیاز کئے نہ بنے ۔اور اگر ہو تو کیسے ہو ؟ہو جائے تو ماننے والے کیونکر مانیں؟ ہمارے ہاں عجب معاملت ہوئی کہ منافقت اور مصلحت، علم اور جہل اور حقیقت اور فریب نے آپس میں ناموں کا تبادلہ کر لیا ہے ...... ہر چیز اب ایک دوسرے کی ضد نظر آنے چلی ہے ۔ظلم،عدل پر فریفتہ ہوااور جنگ،امن پر لوٹ پوٹ ہے ۔سو سبھوں نے ایثاراور سکوت سے کام لیا ۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

مولانا فضل الرحمان مد ظلہ العالی تو منطق کی مورت ہیں ،خیر سے ان کا نقشِ پا یوں بھی رہا اور ووں بھی ۔بولیں تو لبوں سے پھول جھڑتے ہیں ،مسکرائیں تو دھرتی پر بھونچال آئے ،جبیں پر شکنیں اور سلوٹیں پڑیں تو کارزارِ مملکت کی گردش تھم تھم جائے ۔تضاد میں تطبیق کے لئے تو وہ یدِطولیٰ رکھتے ہیں ۔تنی ہوئی رسی پر چلنے اور دریا کی تیراکی میں ایسے ماہر و مشاق کہ مثال نہیں ملتی ۔ہر گز کوئی کلام نہیں کہ مولانا نے اگر مگر ،چونکہ چنانچہ اور لہذا وغیرہ کے ساتھ دہشت گردی کی مخالفت و مزاحمت کی ،لیکن اس میں بھی کوئی مبالغہ نہیں کہ ان کی آراء و افکار سے دہشت گرد تقویت بھی پاتے رہے ۔بات دہشت گردی کی ہو تو مولانا اپنی منطق کے زور اور تطبیق کے ہنر پر اس کو دینی مدارس ،امریکہ ،سازش اور سیکولر ازم تک لے آتے ہیں اور پھر:

’’ تم کہا کرو،سنا کرے کوئی‘‘

دوسری جانب سراج الحق دامت برکاتہم عالیہ کا بھی یہ حال ہے کہ....... کوئی حال نہیں ،یہ حال ہے ۔ایک ہی سانس میں گرم اور سرد پھونکیں مارنا اور تضاد و تخالف کے ساتھ مطابقت کرنا ان کا بھی محبوب مشغلہ ہے ۔دہشت گردی کی مذمت بجا ،لیکن اس کے ذمہ داروں اور دعوے داروں کوحیلے بہانے سے کمک فراہم کرنا بس ان ہی کا خاصہ اور شیوا ہے ۔اصولی طور پر تو وہ دہشت گردی کی مخالفت کر رہے ہیں مگر عملی طور پر ان کے خطبات و فرمودات ان کے قول سے لگا نہیں کھاتے۔

اقتدار کی غلام گردشوں کے مکینوں کی چلت پھرت بھی عجب ہے ،وہ بھی ایک قدم آگے اور دوقدم پیچھے چلتے نظر آتے ہیں ۔چودھری نثار کبھی تو جوشِ خطابت میں جری و جانبازبنتے نظر آتے ہیں کہ چھوڑا کسی کو نہیں جائے گا ،لیکن جب مدارس میں پنپنے اور پھلنے پھولنے والی دہشت گردی اور مولوی عبدالعزیز کی گھن گھرج کی بات ہوتی ہے تو وہ بھی مصلحت کی بکل مار لیتے ہیں ۔پرویز رشیدبیرونی ممالک سے آنے والے فنڈزپر اعتراضات بھی اٹھاتے ہیں اوراس کی تحسین بھی کیا کئے کہ ملکی معیشت کی ناؤ کہیں ڈگمگا نہ جائے ۔گویا چہار سوتذبذب و تشکیک کی چادر تنی ہے ،اشتباہات اور التباسات کے خیمے گڑے ہیں ،ابہام و انحرافات کی دھند ہے کہ مطلع پر چھائی ہوئی ہے ۔ہمارے چارہ گر اور تدبیر سازانحرافات و التباسات کا علاج بھی انحرافات اور التباسات ہی کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں ۔

یہ تاریخ کی واحد جنگ ہے جو دھندلکے اور جھٹپٹے میں لڑی جا رہی ہے ،حریف تو حریف حامیوں کا بھی دونوں کیمپوں میں آنا جانا لگا ہے اور یہ وہ در فنطنیاں اورپھلجڑیاں چھوڑرہے ہیں کہ بس توبہ بھلی۔کسی کو کچھ پتہ نہیں چل رہاکہ کون کس کے خلاف کس قسم کے جوہر دکھا رہا ہے ۔باتیں ہیں کہ سنائی تو دیتی ہیں پر سمجھائی نہیں دیتیں،جملے ہیں مگر معنی و مفہوم سے خالی اور عاری۔

رسول حمزہ کی ایک نظم میں شاعر کی ماں اپنے بیٹے سے کہتی ہے ........ ’’جب تم چھوٹے سے تھے ،بولتے نہیں تھے،بس غوں غاں کرتے تھے،تو بھی میں تمھاری باتیں سمجھ لیتی تھی بیٹا۔جب سے تم بڑے ہوئے ہو ،تمہاری باتیں میری سمجھ میں نہیں آتی ہیں ‘‘۔ہمارے لیڈر اور دانشور بھی یکدم بڑے ہو گئے ہیں بابا،اب ان کی باتیں بھی دھرتی کے بیٹوں کے لئے قابل فہم نہیں رہیں ۔

مزید : کالم