عمران خان کہاں غلط، کہاں ٹھیک

عمران خان کہاں غلط، کہاں ٹھیک
عمران خان کہاں غلط، کہاں ٹھیک

  

جب بھی پاکستان میں الیکشن ہوئے ہیں،ہمیشہ ہارنے والی پارٹی نے کہاہے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔لیکن 2013ء کے الیکشن میں پاکستان کی ہرپارٹی یہ کہہ رہی ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔اب ہوناتویہ چاہئے تھاکہ سبھی پارٹیاںیہ مطالبہ کرتیں کہ2013ء کے الیکشن میں ہونے والی دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جائیں اوردھاندلی کرنے والوں کوڈھونڈاجائے پھرجومجرم ہوں ان کوکڑی سے کڑی سزائیں دلوائی جائیں تاکہ آئندہ الیکشن میں پاکستانی قوم کی امانت یعنی ووٹ کاصحیح معنوں میں تقدس بحال ہوسکے۔لیکن سبھی جماعتیں دھاندلی کی تحقیقات کروانے کامطالبہ نہیں کر رہی ہیں۔ صرف تحریک انصاف یہ مطالبہ کررہی ہے کہ جنھوں نے دھاندلی کی ہے ان کااحتساب کیا جائے۔ تحریک انصاف کایہ مطالبہ جائزبھی ہے اوراس مطالبے میں تمام محب وطن پاکستانیوں،کالم نگاروں، دانشوروں، ادیبوں، سیاست دانوں اورصحافیوں کوعمران خان کاساتھ دینا چاہئے۔

کوئی شخص اگر کسی وجہ سے عمران خان کاساتھ نہ بھی دیناچاہے تواسے اپنے طورپراس بات کامطالبہ ضرور کرنا چاہئے کہ دھاندلی کی تحقیقات لازمی ہوںیعنی اس بات میں کوئی دورائے نہیں ہونی چاہئے،اسی طرح اگرکوئی شخص یاسیاسی جماعت یہ سمجھتی ہے کہ ملک کے حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ تحقیقات کی جائیں توپھروہ شخص یاسیاسی جماعت یہ بات ذہن نشین کرلے کہ پاکستان کے اگلے تمام الیکشن بھی دھاندلی زدہ ہوں گے اورملک کے حالات صحیح ہونے کی بجائے مزیدخراب ہوں گے، کیونکہ اگرصاف اورشفاف الیکشن نہیں ہوں گے توجمہوریت نہیں ہوگی اورجب جمہوریت نہیں ہوگی توعوام کی مرضی کے مطابق لوگ ایوانوں کاحصہ نہیں ہوں گے اورپھرایوانوں کے اندرموجودلوگ جوچاہیں گے کریں گے ۔

اب چلتے ہیں تصویرکے دوسرے رُخ کی طرف کہ وہ عمران خان جس نے پورے ملک کے الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف آوازاٹھائی ہے، کیااس عمران خان نے اپنی پارٹی یعنی تحریک انصاف کے پارٹی الیکشن بغیر دھاندلی کے کرائے ہیں۔کیالوگ یہ نہیں جانتے کہ جاوید ہاشمی، شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین کو کیسے پارٹی الیکشن جتوایا گیا۔دوسری بات یہ کہ اگر عمران خان الیکشن کونہیں مانتا تو ایم این ایزیا ایم پی ایزاستعفے کیوں نہیں دے رہے ،تحریک انصاف کے ایم این ایزیاایم پی ایز الیکشن کونہیں مانتے تویہ استعفے دینے میں ڈرامے بازیاں کیوں کررہے ہیں۔کبھی کہتے ہیں کہ اکٹھابلواؤ،کبھی کہتے ہیں کہ اسپیکرہمارے استعفے نہیں لیتا۔عجیب بہانے بازیاں اورڈرامے بازیاں کی جارہی ہیں،یہ صرف کارکنوں کو دھوکہ دیاجارہاہے۔اگرکوئی شخص صدقِ دل سے استعفیٰ دینا چاہتاہے، تووہ جائے اسمبلی میں اورجاویدہاشمی کی طرح للکار کر استعفیٰ دے، کیوں شاہ محمودقریشی نے پارلیمنٹ کے اندراپنی آخری تقریرکے بعداستعفیٰ نہیں دیا،شاہ محمودقریشی کو وہاں استعفے کااعلان کرکے باہرنکلناچاہئے تھا، پھراگراسپیکر استعفیٰ قبول نہ کرتا، توعوام کے سامنے بھی یہ بات کلیئرہوجاتی کہ واقعی تحریک انصاف کے ایم این ایزیاایم پی ایزتواستعفے دینا چاہتے ہیں لیکن اسپیکراستعفے قبول نہیں کرتا۔تحریک انصاف کے ایم این ایزیاایم پی ایزکی ان بے جابہانے بازیوں سے صاف نظرآرہاہے کہ وہ استعفے نہیں دیناچاہتے ،ان کی اس ہٹ دھڑمی کے آگے عمران خان بھی بے بس نظرآرہاہے۔

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ عمران خان کے ہوتے ہوئے تحریک انصاف میں کچھ غلط نہیں ہوگا،میں بھی یہ سمجھتاہوں کہ عمران خان کی نیت صاف ہے اوروہ اپنے تئیں کوشش کر رہا ہے کہ پارٹی کوکسی طرح بہتربنایاجائے،لیکن یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ جب تک پارٹی الیکشن میں میرٹ نہیں ہو گا توکچھ بھی بہترنہیں ہوگا،اس کی ایک تلخ مثال یہ ہے کہ عمران خان کے بعد تحریک انصاف کن لوگوں کے ہاتھوں میں چلی جائے گی،اُن لوگوں کے ہاتھوں میں جودوسری جماعتوں میں کچھ نہیں کرسکے اور جنہیں خودعمران خان نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے دھاندلی کے ذریعے پارٹی کے بڑے بڑے عہدے دلوائے ہیں،اگرتحریک انصاف کے موجودہ حالات کودیکھاجائے توشاہ محمودقریشی کے بھائی کی بات بالکل صحیح لگتی ہے،جس کاکہناتھاکہ شاہ محمودقریشی نے مجھے کہاتھاکہ اگرپاکستان کاوزیراعظم بنناہے، تومیراساتھ دو۔

پاکستان کے زیادہ ترنوجوان تحریک انصاف کاحصہ اس لئے ہیں کہ وہ پاکستان کی دوسری تمام جماعتوں سے مایوس ہیں۔ ملک میں بیروزگاری عروج پرہے،بجلی کی لوڈشیڈنگ سے ہرشہری پریشان ہے،ایسے میں مایوس لوگ تحریک انصاف کو اقتدار دلوانا چاہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے یہ ایسی جماعت ہو جو ان کے مسائل صحیح معنوں میں حل کر سکے،اسی وجہ سے اب وہ لوگ بھی ووٹ ڈالنے کے لئے آرہے ہیں جو کبھی ووٹ ڈالنے کے لئے نہیں آتے تھے، لیکن اگر عمران خان نے اپنی پارٹی کے اندر ہونے والی بے ضابطگیوں پر دھیان نہ دیا تو وہ دن دورنہیں ہو گا جب لوگوں کا جنون مزیدمایوسی میں تبدیل ہو جائے گا اور‘‘پھر نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری‘‘۔

مزید : کالم