یونیورسٹیوں کی خود مختاری ختم نہ کی جائے

یونیورسٹیوں کی خود مختاری ختم نہ کی جائے
یونیورسٹیوں کی خود مختاری ختم نہ کی جائے

  

اعلیٰ تعلیم سے وابستہ ملک بھر کے یونیورسٹی اساتذہ اور ان کی نمائندہ تنظیموں کی رائے اوراس رائے کے حق میں پرزور آواز بلند کرنے کے باوجود ہائر ایجوکیشن کمیشن کی خود مختاری اور مرکزی حیثیت ختم کرنے کے لئے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے صوبائی سطح پر اپنے ہائر ایجوکیشن کمیشن قائم کئے اور صوبائی سیکرٹری تعلیم کو صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کا سیکرٹری بنا کر صوبے میں اعلیٰ تعلیم کا سارا انتظام صوبائی محکمہ تعلیم کے سپرد کردیا۔ اس طرح یونیورسٹیوں کی خود مختار اداروں کی حیثیت کا گلا گھونٹنے کا انتظام کرلیا گیا۔ ایک اطلاع کے مطابق رہی سہی کسر پوری کرنے کے لئے پروچانسلر (یعنی صوبائی وزیر تعلیم) کو یونیورسٹی سنڈیکیٹ کا چیئرمین بنایا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ صوبائی وزیر تعلیم جس کے پاس صوبے کا سب سے بڑا محکمہ ہے، خود تمام یونیورسٹیوں کے سنڈیکیٹس کے بار بارہوتے رہنے والے اجلاسوں کی صدارت نہیں کر سکیں گے بلکہ اس کے لئے محکمے کے سیکرٹری یا کسی دوسرے سینئر افسر کو بھیج دیا کریں گے ، اس طرح صوبے کی سلیکشن کمیٹی کی طرف سے قابل پروفیسروں اور ممتاز ماہرین تعلیم میں سے خوب جانچ پرکھ کر لئے گئے وائس چانسلرز کی بجائے یونیورسٹیوں کا نظم ونسق گویا بیوروکریسی کے ذریعے پروچانسلر (وزیر تعلیم) یعنی ایک سیاستدان کے ہاتھ دے دیا جائے گا۔

سیاستدان مختلف محکموں اور اداروں کے ساتھ جو کچھ ڈنکے کی چوٹ کررہے ہیں وہ پوری قوم کے سامنے ہے۔ مختلف پبلک اداروں کو سیاستدانوں کے سائے سے پاک رکھنے کے بجائے انہیں سیاستدانوں کے سپرد کردینے کے نتائج کے متعلق بھی کسی کو کوئی شبہ نہیں۔ گذشتہ انتخابات سے قبل ہائر ایجوکیشن کی طرف سے بہت سے سیاستدانوں کے دباؤ کے باوجود ان کی جعلی ڈگریوں کی تصدیق نہیں کی گئی جس نے خود کوہر طرح کے قانون قاعدے سے بالا سمجھنے والے سیاستدا نوں کے غیظ و غضب کو ابھارا، وہ ہر سطح پر اعلیٰ تعلیمی کمیشن اور یونیورسٹیوں کی خود مختاری کی مخالفت پر تل گئے، جس کے نتائج اس طرح کے موجودہ اقدامات کی صورت میں ظاہر ہورہے ہیں۔ ایک عام آدمی سے لے کر اعلیٰٰٰٰ تعلیم یافتہ فرد تک ہر کوئی محسوس کرتا ہے کہ ہمارے ملک میں ایسی سیاست چل رہی ہے۔ جہاں دیانتدار سمجھے جانے والے سیاستدان بھی اپنے ورکروں، نااہل اور سفارشی لوگوں کو سرکاری محکموں میں ٹھونسنے ، ناجائز ترقیاں دینے اور اپنے حامیوں کی ہر طرح کی لوٹ مار سے درگزر کرنے کے عادی ہیں۔

اعلیٰ تعلیم کا مسئلہ یہ ہے کہ پوری دنیا میں یونیورسٹیوں کو اپنے معاملات میں مکمل خود مختاری دی جاتی ہے۔ معیاری تعلیم اور بامقصدتحقیق اور نیا علم تخلیق کرنے کی تمام تر ذمہ داری اساتذہ کو سونپی جاتی ہے۔ رنگ و نسل ، مذہب، فرقے یا سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر تحقیق ، علمی اور سائنسی انداذ فکر اور منطقی نتائج اخذ کرنے پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ قوم کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کے مطابق تعلیمی نصاب ترتیب دئیے جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہونے والی تحقیق اور جدید علوم اور افکار و نظریات پر نظر رکھی جاتی ہے۔ یونیورسٹیوں کے اساتذہ دنیا بھر کی کانفرنسوں میں شرکت کرتے اور جدید رجحانات سے باخبر رہتے ہیں۔ دنیا بھر کا جدید علم اور تجربہ یونیورسٹیوں کے کلاس رومز میں پہنچتا ہے۔ یونیورسٹی اساتذہ جہاں بین الاقوامی کانفرنسوں میں اپنے تحقیقی مقالے پڑھنے کے لئے جاتے ہیں وہاں اپنے شعبہ علم سے متعلق دنیا کے مانے ہوئے تحقیقی جرائد میں اپنے مٖقالہ جات بھی شائع کراتے ہیں۔ اس اعلیٰ سطح پر حاصل ہونے والے علم اور شعور کو آسان فہم انداز میں اپنے عوام تک پہنچانے کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی اساتذہ بڑے پیمانے پر قومی میڈیا کے ذریعے اپنے ماہرانہ خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ یونیورسٹی کی تحقیق ہر شعبہ زندگی کے لوگوں کو رہنمائی فراہم کرتی اور ان کے مسائل کا حل پیش کرتی ہے۔ پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اپنی بہترین کارکردگی اور ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے کے لئے بے مثال اور کامیاب کوششوں کی وجہ سے تعلیم و تحقیق سے متعلق تمام بین الاقوامی اداروں سے خراج تحسین حاصل کیا ہے اور اس کے کام کی مثالیں دنیا بھر میں دی جاتی رہی ہیں۔ لیکن اس بہترین ادارے کو ختم اور بے بس کرنے کے لئے ہمارے سیاستدانوں کی اناء اور ضد آڑے آئی۔ دنیا میں اپنی مثال آپ یہ ادارہ اور اس کے زیر اثر ہونے والا بے حد قیمتی کام اب آہستہ آہستہ بے اثر ہورہا ہے۔

گذشتہ ایک عشرے کے دوران پاکستان میں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرز میں یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کے ان گنت پرگراموں کے تحت یونیورسٹی اساتذہ کی تربیت ، اور تحقیقی کام کی حوصلہ افزائی کے لئے قابل قدر اور کامیاب کوششیں ہوئی ہیں۔ بیرون ملک زیادہ سے زیادہ یونیورسٹی اساتذہ کو پی ایچ ڈی کرنے اور پوسٹ ڈاک تحقیق کرنے کے مواقع میسر آئے ہیں۔ یونیورسٹی سلیکشن بورڈز کسی بھی اچھے پبلک سروس کمیشن کی طرح میرٹ پر تقرر اور ترقیاں کرنے کا کام کررہے ہیں۔ ان کے کام میں مزید بہتری پیدا کی جاسکتی ہے۔ سمیسٹر سسٹم میں (بالخصوص مخلوط نظام تعلیم کی وجہ سے) یونیورسٹیوں میں بہت سے اساتذہ اپنے طلبہ کے نمبر اور گریڈنگ پر مکمل کنٹرول کی وجہ سے تن آسانی اور بددیانتی کے بھی مرتکب ہوتے ہیں۔ تن آسان یونیورسٹی انتظامیہ مارکنگ کے خلاف کسی کو اپیل کا حق دینے کو تیار نہیں۔ بعض صورتوں میں کمزور کردار کے اساتذہ کے خلاف ٹھوس ثبوت اور شہادتوں کے ساتھ شکایات موجود ہیں لیکن انہیں کارپٹ کے نیچے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ، طلبہ انصاف کے حصول میں ناکام رہتے ہیں۔ اس طرح کے مسائل کا حل ہونا چاہئے۔ یہ سب یونیورسٹیوں کی موثر انتظامیہ کے ذریعہ ہی سے ممکن ہے۔ کسی بھی ادارے کا منتظم اعلیٰ اگر معاملات کے درست رکھنے اور انصاف فراہم کرنے پر توجہ نہیں دے گا ، اپنے ادارے کے تمام شعبوں کے کام کی مسلسل موثر نگرانی نہیں کرے گاتو اسے اپنے ادارے کے ملازمین سے اچھے نتائج کی توقع نہیں ہوسکتی۔

یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کو اپنے ادارے کا بے تاج بادشاہ سمجھا جاتا رہا ہے اور وہ صحیح معنوں میں اس پوزیشن میں ہیں بھی۔ جب تک اپنی ترقیوں اور تقرریوں کے لئے سو فیصد وی سی ہی کو اپنا سب کچھ سمجھ کر جونءئیر اور سینئر لوگ خوشامد اور چاپلوسی سے کام لیتے رہیں گے وائس چانسلرز کو یونیورسٹیوں میں بے تاج بادشاہ کی حیثیت حاصل رہے گی۔ پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشنز اور ان کی فیڈریشن کی طرف سے ہمیشہ یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وائس چانسلرز کو کھلی من مانیاں کرنے سے روکنے کے لئے یونیورسٹیوں کے اداروں کو فعال کیا جائے۔ مثلا بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیز، اکیڈیمک کونسل، سنڈیکیٹ اور سینٹ جیسے اداروں کے اجلاس تواتر کے ساتھ ہوں اور تمام فیصلے ان میں کئے جائیں۔ وائس چانسلروں کے صوابدیدی اختیارات کم سے کم کئے جائیں۔ ان اداروں کے اجلاسوں میں کئے جانے والے فیصلے وائس چانسلرز پیشگی خود ہی نہ کریں۔

وائس چانسلر اکیڈیمک کونسل ، بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیز، سلیکشن بورڈ ، سنڈیکیٹ اور چانسلر کی عدم موجودگی میں سینٹ کے اجلاس کی صدارت ہی خود کرتا ہے۔ اس طرح اسے یونیورسٹی میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس طرح کا کوئی طریق کار طے کیا جاسکتا ہے کہ جس کے مطابق ان اداروں سے اکیڈیمک کونسل اور فنانس کمیٹی جسیے اداروں کی صدارت فیکلٹی کے ڈین حضرات میں سے کوئی ایک ڈین کرے۔ سلیکشن بورڈ میں مزید اہم لوگوں کو نمائندگی دی جاسکتی ہے، لیکن وزیر تعلیم کو یونیورسٹی سنڈیکیٹ جیسے اہم ترین ادرے کا صدر بنا کر یونیورسٹیوں کا نظم ونسق بیوروکریسی کے سپرد کرنے سے صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو سخت دھچکا پہنچے گا۔ اس سے یونیورسٹیوں جیسے خود مختار اداروں میں اعلیٰ تحقیق اور تدریس کا کام بھی سیاست کی زد میں آئے گا اور سیاستدانوں کی طرف سے اپنے کارکنوں کوْ سکالرزْ کی حیثیت سے یونیورسٹیوں میں ٹھونسنے اور سیاستدانوں کے لئے جعلی ڈگریوں کا انتظام کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوجائے گا۔ جو کسی طرح بھی قوم وملک کے حق میں نہیں ہوگا۔

حکومت کی طرف سے صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کاچانسلر پہلے ہی صوبے کا گورنر ہوتا ہے۔ جسے ایک غیرسیاسی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ اگر حکومت یونیورسٹیوں کے کام میں اپنا عمل دخل بڑھانا چاہتی ہے تو اس سلسلے میں گورنر کو زیادہ فعال کیا جاسکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ یونیورسٹیوں کے سلسلے میں اپنے اختیارات گورنر کے سپرد کرکے انہیں صحیح معنوں میں چانسلر بنا کر زیادہ فعال کرسکتے ہیں۔ جس طرح ماضی میں گورنر لیفٹنٹ جنرل(ر) خالد مقبول بااختیار چانسلر کی حیثیت سے موثر اور فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں اسی طرح موجودہ گورنر بھی کرسکتے ہیں۔ لیکن گورنر کے بجائے صوبائی سیکرٹری تعلیم یا اس محکمے کے دوسرے افسروں کو یونیورسٹیوں کی سنڈیکیٹس پر ٹھونسنا یونیورسٹی اساتذہ اور طلبہ و طالبات کے لئے قابل قبول نہیں ہوگا۔ وائس چانسلر حضرات کے اپنے عہدے قائم رکھنے کے مسئلے ہیں وہ شاید اس سلسلے میں صحیح مشورہ نہ دے سکیں ، لیکن یونیورسٹیوں کی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشنز سے اس سلسلے میں مشاورت اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

مزید : کالم