مولانا محمد علی جوہر ؒ سے سراج الحق تک

مولانا محمد علی جوہر ؒ سے سراج الحق تک
مولانا محمد علی جوہر ؒ سے سراج الحق تک

  

یہ غالباً1975ء کے دن تھے۔ نماز عصر کے بعد مولانا ابو الاعلیٰ مودودی ؒ اپنے گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے۔ گرمی اپنے شباب پر تھی، مولانا کے چہرے پر پسینے کے قطرے بتا رہے تھے کہ پیڈسٹل فین کی ہوا ناکافی ثابت ہو رہی ہے البتہ وہ ہوا مولانا کے سر کے چاندی ایسے سفید بال اڑا کر ماتھے پر لے آئی تھی۔ سرخ و سپید۔ نرم و ملائم نورانی چہرے پر لٹوں کی آوارہ خرامی نے عجیب رومانوی سا منظر بنا دیا تھا۔ دل چاہتا تھا وقت کی رفتار یہیں تھم جائے اور یونہی صدیاں بیت جائیں۔مولانا حاضرین کے ایک آدھ سوال کا جواب دے چکے تو مَیں نے مولانا کے ایک مضمون’’مولانا محمد علی۔۔۔ ایک پرانی داستان‘‘ کی بات چھیڑ دی۔مولانا نے پوچھا: یہ مضمون آپ نے کہاں پڑھا ہے،مجھے تو اب یاد نہیں کب لکھا تھا؟ مَیں نے جواب دیا، مولانا! یہ مضمون رئیس احمد جعفری کی کتاب’’علی برادران‘‘ میں شامل ہے، اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے براہ راست آپ سے کہہ کر یہ مضمون لکھوایا تھا یا کہیں اور چھپا تھا اور وہاں سے اٹھا لیا۔ آپ کے اس مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانے میں مولانا محمد علی جوہر بہت دل شکستہ تھا۔ہندو لیڈر موتی لال نہرو، راجندر پرشاد، گاندھی وغیرہ جنہیں خود مولانا نے لیڈر بنایا تھا، ان کے شدید مخالف ہو چکے تھے، لیکن مولانا کے لئے زیادہ تکلیف دہ اپنوں کا ناروا رویہ تھا۔وہ غیروں سے بھی بڑھ کر ان کی ذات پر حملے کر رہے اور طرح طرح کے الزامات لگا رہے تھے۔آپ کے مضمون ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں آپ کو مولانا کی کافی قربت میسر رہی۔

مولانا مودودی ؒ کہنے لگے:مولانا جوہر اپنی زندگی کے آخری سال کے دوران کچھ عرصہ ریاست بھوپال میں مقیم رہے۔شعیب قریشی جو مولانا کے داماد تھے وہ ریاست میں وزیر تھے۔ میرے بڑے بھائی ابو صائم محمد بھی ان ایام میں ادھر ہی تھے۔ وہ مولانا کے دوستوں میں سے تھے۔مولانا محمد علی جب میرے بڑے بھائی سے ملنے آتے تو مجھے بھی ان سے گفتگو کا موقع مل جاتا تھا۔مَیں نے کہا: مولانا! آپ نے لکھا ہے کہ مَیں جب کبھی ان کے پاس بیٹھتا تو وہ فسان�ۂ غمِ دل لے کر بیٹھ جاتے تھے۔ مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ جب آپ نے جوہر جیسے عظیم رہنما کو بھی آخر میں دل شکستہ پایا تو پھر آپ نے قومی جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کا حوصلہ کیسے کر لیا؟مولانا مودودی ؒ ایک لمحہ خاموش رہنے کے بعد گویا ہوئے، حالات تو واقعی حوصلہ شکن تھے، لیکن مَیں نے فقط اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے کام شروع کر دیا تھا۔ آج آپ جو کچھ دیکھ رہے ہیں، مَیں سمجھتا ہوں یہ سرا سر اللہ کا فضل ہے،ورنہ مجھے تو ایک فیصدی کی بھی امید نہ تھی۔

مولانا مودودی ؒ کی یہ گفتگو مجھے21نومبر (2014ء) کی شام کو یاد آ رہی تھی۔ اس وقت مَیں مینار پاکستان کی وسیع گراؤنڈ میں جماعت اسلامی کے اجتماع میں موجود تھا۔ نو منتخب امیر جناب سراج الحق سٹیج پر نمودار ہوئے تو سارا مجمع ان کے استقبال کے لئے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ لاکھوں کے اس مجمعے کی ایک تاریخ تھی ایک ماضی تھا، جس میں یہ لوگ پورے حوصلے اور ولولے کے ساتھ ناموافق حالات کا مقابلہ کرتے رہے تھے۔ کئیوں نے تحریک کو خون کا نذرانہ پیش کر کے تاریخ کے چہرے کو ضیاء بخشی تھی۔ان میں اب بھی ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی موجود تھی، جو بان�ئ جماعت کی آنکھیں دیکھے ہوئے تھے۔ کئیوں نے تو اپنے سامنے مولانا کا یہ تاریخ ساز جملہ بھی ان کی زبان سے سُن رکھا تھا کہ آج مَیں بیٹھ گیا تو پھر کھڑا کون رہے گا!جناب سراج الحق کے خطاب کے دو حصے تھے: ایک میں جماعت کی دعوت کے بنیادی نکات تھے اور دوسرے میں استحصالی طبقات کے احتساب کا مطالبہ تھا، عوام کے دُکھوں اور سکھوں کے ساتھ چلنے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔ مجھے یاد آ رہا تھا کہ جب قاضی حسین احمد مرحوم و مغفور نے پہلی بار امارت کا حلف اٹھایا تھا تو انہوں نے اپنے افتتاحی خطاب میں فقط دعوت و تبلیغ کو موضوع بنایا تھا،البتہ بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لہجے میں تلخی گھلتی گئی اور وہ دھرنوں کے راستے پر چل پڑے۔ایک وقت آیا کہ انہیں سرا سر غیر جمہوری سیٹ اپ سے معانقہ کرنا پڑا، جس نے جماعت کی پچھلی ساری جمہوری جدوجہد کا حُسن گہنا کر رکھ دیا۔ حاصل بھی کچھ نہ ہوا اور رسوائی بھی مقدر ہوئی۔

جناب سید منور حسن نے اپنے گرم گرم بیانات سے سیاسی رونق تو ضرور پیدا کی، لیکن ارکان جماعت کسی متوازن مزاج کی قیادت کی تلاش میں تھے۔ شاید ان کا یہی احساس سراج الحق کو لے آیا ہے۔ مذکورہ اجتماع عام میں ان کا افتتاحی خطاب بتا رہا تھا کہ وہ عوام کے ساتھ یکجہتی کو اپنی بنیادی عوت کے ساتھ پوری طرح مربوط رکھنا چاہتے ہیں۔اس میں شک بھی کیا ہے کہ دعوت اور عمل میں جب تک ایکتا نہ ہو مفید نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔

ہمارے نزدیک جماعت اسلامی اگر کبھی سیدھے سیدھے چلتے ہوئے ٹریک سے اتری ہے اور اسے بہت بُرے نتائج دیکھنے پڑے ہیں تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جماعت نے اسلام کی دعوت و تبلیغ کو سماجی حقائق سے ذرا فاصلے پر رکھا ہے۔جماعت کے پاس اسلام کے بنیادی اعتقادات پر بہت اچھا لٹریچر موجود ہے اس میں اتنی عمدہ استدلالی قوت ہے کہ قاری بڑی سہولت سے ذہنی اور فکری طور پر تیار ہو جاتا ہے کہ وہ اجتماعی جدوجہد میں ضرور شریک ہو جائے، لیکن ایسا لٹریچر موجود نہیں، جو اپنے ریاستی نظام کی قہر سامانیوں سے بھی پوری طرح آشنا کر دے۔ ہمارے نزدیک جماعت جب تک اپنے کارکنوں کو پٹواری، تحصیلدار سے لے کر اسلام آباد کے سیکرٹریٹ میں بیٹھنے والی بائیسویں گریڈ کی افسر شاہی کے ہتھکنڈوں سے واقف نہیں کراتی، ان کے اندر صحیح انقلابی سپرٹ پیدا نہیں ہو سکتی۔ کون کون سا محکمہ عوام کے خون پسینے کی کمائی کو کس کس طرح لوٹ رہا ہے اور کس طرح ان استحصالی طبقات نے عدالتوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، یہ سب کچھ جانے بغیر نہ دروس قرآن و حدیث میں حرارت پیدا ہو سکتی ہے اور نہ اقامت دین کے راستے کی اصل دشواریاں معلوم ہو سکتی ہیں۔ قرآن مجید کے رموز و نکات پوری طرح اِسی قاری پر منکشف ہو سکتے ہیں، جو آج کے دور کے معاشرتی اور معاشی مسائل کو ان کی بنیادں کی روشنی میں جانتا ہو۔ کیا جناب سراج الحق سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ جماعت کے حامی اور رکن کی ذہنی تربیت کا دائرہ وسیع کریں گے؟ ہمارے نزدیک اگر وہ اس اہم پہلو پر توجہ نہیں دیتے تو پھر ان کے خطابات محض لفظی بازی گری سے آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔ آج زمانہ بہت آگے جا چکا ہے، محض1940ء ،1950ء کی نظریاتی تحریروں سے کوئی بڑا نتیجہ نہیں نکل سکے گا، کاش وہ اس طرف توجہ دے سکیں!

مزید : کالم