کیا آپ کو لاہور کی خبر ہے؟

کیا آپ کو لاہور کی خبر ہے؟
کیا آپ کو لاہور کی خبر ہے؟

  

حضرت عمرؓ کے دور حکمرانی کی مثال اس لئے نامناسب ہے کہ وہ صُحبت رسولؐ کے تربیت یافتہ تھے۔ حکمرانی کو اللہ کی امانت سمجھتے تھے ان کا ایمان تھا کہ ذرا سی بھی کوتاہی انہیں یوم آخرت اللہ اور اس کے رسول کے سامنے شرمندہ کرنے کے لئے کافی ہے، جناب حضرت عمرؓ ایسے حکمران تھے کہ زمین کا فرش ان کا بستر، پتھر ان کا تکیہ اور زمین سے اٹھنے والی دھول ان کا لحاف تھا۔ ہمارے موجودہ حکمران ان کی پاؤں کی جوتی کے برابر بھی نہیں ہیں۔ یہ جمہوریت یافتہ حکمران ہیں، اللہ کے سامنے جوابدہ تو انہوں نے ہونا نہیں ہے، کیونکہ ان کا ایمان جمہوریت پر ہے اور جمہوریت میں حکمران صرف عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے ، اس لئے حضرت عمرؓ کے دور حکمرانی کی مثال کی یہاں ضرورت نہیں ہے، مگر مَیں یہاں ایک مثال پیش کرنا چاہتا ہوں، میرے لڑکپن کا زمانہ تھا کہ اچانک ڈاکوؤں کے بہت بڑے گروہ نے ٹولیوں کی شکل میں شہر کو لوٹنا شروع کر دیا۔ نماز مغرب اور عشا کے درمیان یہ ڈاکو جس شہری کو چاہتے لوٹ لیتے۔

مقامی پولیس بھی حرکت میں آئی، مگر ہوتا یوں تھا کہ ڈاکو اگر شہر کے شمالی علاقے میں لوٹ مار میں مصروف ہیں تو پولیس جنوب کے علاقے میں گشت کر رہی ہوتی تھی اور اگر پولیس شمال کی طرف رخ کرتی تو ڈاکو مشرق والے حصے پر ہلہ بول دیتے ۔ ایک ماہ تک ڈاکوؤں کی یلغار جاری رہی۔ پولیس کی مدد کے لئے عام شہریوں نے بھی آگے بڑھ کر گلیوں محلوں میں پہرہ دینا شروع کر دیا۔ مجھے یاد ہے کہ میں خود بھی ہاتھوں میں ڈنڈا پکڑے گھر کے دیگر لوگوں کے ساتھ مکان کی چھت پر خبردار خبردار کے نعرے لگایا کرتا تھا، مگر ڈاکو تھے کہ اپنی کارروائیاں کرنے میں مصروف رہے۔ شہرمیں شاید ہی کوئی قابل ذکر گھر ایسا ہوگا جو لٹنے سے بچ گیا ہو، ان حالات میں عام لوگوں نے ضلعی انتظامیہ کے خلاف جلوس نکالنا شروع کر دیئے، صوبائی حکومت نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد مقامی ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کا تبادلہ کر دیا۔

عام لوگوں میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ ایک شکست خوردہ ایم این اے اور ایم پی اے کے ایماء پر ڈکیتی کی وارداتیں ہو رہی ہیں،میجر(ر) ضیاء الحق نام کے ڈپٹی کمشنر نے چارج سنبھالنے کے بعد ضلع بھر کے معززین کا ایک اجلاس بلایا اور اعلان کیا کہ کسی بھی معزز شخص کی سفارش پر کسی بھی ملزم یا مجرم کو نہیں چھوڑا جائے گا اور اگر کسی معزز نے کسی کی سفارش کی تو اسے بھی ملزم تصور کیا جائے گا، اس اجلاس کے بعد ڈی سی ضیاء الحق نے پورے شہر میں اعلان کرا دیا کہ سب شہری اپنے اپنے گھروں میں آرام کریں جو حفاظت عام حالات میں گھروں کے لئے کرتے ہیں، اسے جاری رکھیں، گھبرانے کی ضرورت نہیں، اگر کسی کے بھی گھر میں چوری یا ڈکیتی ہوگی تو اس کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر ہوگی۔ ڈی سی ضیاء الحق نے اپنی گاڑی میں گھوم پھر کر یہ اعلان کروا دیا۔ دو دن بعد شہر میں مکمل سکون ہو گیا۔ پولیس حرکت میں آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایک کرکے سب ڈاکو گرفتار ہو گئے اور پھر چوری شدہ مال بھی ان کے اصل مالکان کو واپس ملنے لگا۔ میرے شہر کا یہ واقعہ بہت پرانا نہیں ہے۔

1985ء کے زمانے کی بات ہے ، ایک ڈی سی نے پورے ڈسٹرکٹ میانوالی کے بدمعاشوں، چوروں، ناجائز فروشوں اور کرپٹ لوگوں کو سیدھا کر دیا، ان ڈی سی صاحب نے نہ صرف یہ کہ ضلع بھر کو بدقماش لوگوں سے پاک کر دیا بلکہ اپنی مدد آپ کے تحت شہر میں کئی ترقیاتی کام بھی کروائے۔ شہر کے وسط میں موجود بڑی نہر کے کنارے پر پڑے ہوئے خوبصورت سنگ مرمر کے بنچ ان کے دور کی نشانی ہے۔ انہوں نے شہر کے معززین کے تعاون سے میانوالی کے اہم علاقوں میں سٹریٹ لائٹ کا بھی انتظام کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر انتظامیہ چاہے تو شہر میں امن و امان برقرار رکھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے، مگر اس وقت لاہور شہر مکمل طور پر چوروں اور ڈاکوؤں کے قبضے میں ہے، گزشتہ سے پیوستہ رات نامعلوم ڈاکوصبح میرے گھر آئے اور تقریباً تین لاکھ روپے کے زیورات اور نقدی چُرا کر فرار ہو گئے اور میری غلطی صرف یہ ہے کہ مَیں مسجد میں نماز پڑھنے گیا ہوا تھا، یعنی ڈاکو صبح چھ سے سات بجے کے درمیان اپنا کام کرکے چلے گئے۔

مَیں نے پولیس کو ایف آئی آر درج نہیں کرائی، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ چوری برآمد کرنے کے لئے اس پر مزید لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ آئے گا، سو مَیں اسے اللہ کی رضا سمجھ کر خاموش ہو گیا ہوں۔ اہل محلہ ابھی میرے اس غم میں مبتلا تھے کہ کل تین اور چار بجے کے درمیان موٹرسائیکل سوار ڈاکو میرے محلے کی ایک خاتون سے دن دیہاڑے اس کے کانوں سے بالیاں اتروا کے لوٹ کر فرار ہو گئے۔مَیں جس جگہ رہتا ہوں، وہاں سارا دن پولیس موٹرسائیکل سوار گشت کرتے رہتے ہیں، مگر یہ پولیس اہلکار چوروں اور ڈاکوؤں کے بجائے موٹرسائیکل سواروں کے کاعذات چیک کرتے رہتے ہیں۔ گلی کی کسی بھی نکڑ پر کھڑے ہو کر انہوں نے ایک ’’مجمع‘ لگایا ہوتا ہے اور یہ سارا دن شہریوں کو کاغذات کے نام پر لوٹتے رہتے ہیں، یہ صورت حال صرف میرے محلے تک محدود نہیں ہے، پورے لاہور پر ڈاکو راج ہے۔ روزانہ درجنوں کے حساب سے ڈاکے پڑ رہے ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب کے اپنے شہر میں پڑرہے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ یہ کیسے اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں کہ جن کے ہوتے ہوئے پورے لاہور پر ڈاکو راج ہے۔میرے خیال میں شہبازشریف اب انتظامی طور پر کمزور ہو چکے ہیں۔ان کی توجہ شاید’’وفاق‘‘ کی طرف زیادہ ہے، پورے پنجاب کی کیا بات کی جائے، خود لاہور شہر کے حالات ان کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔شہر لاہورمیں لوگوں کو کتوں اور گدھوں کا گوشت کھلایا جا رہا ہے۔ کسی بھی روزمرہ استعمال کی چیز کے نرخ روزانہ کے حساب سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں، مگر صوبائی حکومت کا کہیں کوئی وجود نظر نہیں آتا۔ ضلعی انتظامیہ اخباری بیانات تک محدود ہے۔

پولیس کے افسران درجنوں ڈکیتی کی وارداتوں کے بعد اگر کسی ایک ڈاکو کو پکڑ لیں تو اخبارات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے ’’شیر جوانوں‘‘ کو شاباش دیتے نظر آتے ہیں، مگر عملی طور پر شہریوں کو امن و امان دینے اور عام لوگوں کو ان ڈاکوؤں اور چوروں سے بچانے کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو ایک بار پھر وفاق کی سیاست سے خود کو ’’الگ‘‘کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ پنجاب اور لاہور کی طرف توجہ دیں۔ لاہور کے عوام ڈاکوؤں کے ہاتھوں دن رات لٹ رہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر عوامی سطح پر ان کی شخصیت کا جو رعب داب بنا ہوا ہے، وہ دھڑام سے نیچے آ گرے گا۔

شہر میں ہونے والی ڈکیتیوں اور چوریوں کے بارے میں، مَیں نے تفصیلی ذکر اس لئے نہیں کیا کہ اس کے لئے سینکڑوں صفحات کی ضرورت ہے۔ مَیں نے اپنی چوری کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ مجھے میرا لوٹا ہوا مال واپس دلایا جائے، بلکہ مَیں نے ذکر اس لئے کیا ہے کہ میرے جیسے دیگر لوگوں کو لٹنے سے بچایا جائے۔ مجھے معلوم ہے کہ ہمارے موجودہ حکمران کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں اور نہ ہی مَیں ان سے جواب چاہتا ہوں، مگر میرا مطالبہ ہے کہ اگر جمہور نے انہیں اس منصب پر بٹھایا ہے تو پھر ان کا حق ہے کہ وہ ’’جمہور‘‘ کا خیال کریں۔ عام لوگوں کے روزانہ لٹنے پر اپنے انتظامی اختیارات کو استعمال کریں، کم از کم اور کچھ نہیں تو شہریوں کے پاس جو تھوری بہت جمع پونجی موجود ہے، وہ تو محفوظ رہ سکے۔

کیا شہباز شریف جانتے ہیں کہ پچھلے ایک ماہ سے کتنی غریب بچیوں کا ’’جہیز‘‘ ،کتنے غریب بچوں کی فیسوں کے پیسے ،کتنے بیمار لوگوں کی دواؤں کے پیسے لوٹے جا چکے ہیں اور کیا شہباز شریف جانتے ہیں کہ دوران ڈکیتی کتنے بے گناہ مرد و خواتین اور بچے ان ڈاکوؤں کی گولی کا نشانہ بن گئے ہیں۔جناب وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ،مَیں یہ نہیں کہتا کہ آپ حضرت عمرؓ کا دور واپس لائیں، مجھے معلوم ہے کہ وہ اب صرف تاریخ میں ہی دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے، مگر آپ میرے ضلع میانوالی کے 1985ء کے ایک ڈی سی ضیاء الحق کا دور تو واپس لا سکتے ہیں کہ نہیں؟

مزید : کالم