پھر وہی بڑھتا ہوا سیاسی درجہ حرارت

پھر وہی بڑھتا ہوا سیاسی درجہ حرارت
پھر وہی بڑھتا ہوا سیاسی درجہ حرارت

  

وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید جب میڈیا کے ذریعے عمران خان سے یہ سوال پوچھ رہے تھے کہ وہ سچ بولنا کب سیکھیں گے؟ تو مَیں یہ سوچ رہا تھا کہ ہم حالات سے کب سبق سیکھیں گے۔ پرویز رشید کی، تو پھر ’’ذمہ داری‘‘ شروع ہو گئی ہے اور وہ حسب روایت ایک بار پھر سیاسی ماحول کو گرمانے میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اُس صورت حال کا کیا ہم دوبارہ تجربہ کرنے جا رہے ہیں، جس سے بڑی مشکل کے بعد چھٹکارہ حاصل کیا ہے۔ قومی حلقہ این اے 122 کے حوالے سے ماحول کو کشیدہ بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا فیصلہ تو ٹریبونل نے کرنا ہے۔ ویسے بھی اس وقت کیا ایسے جملوں اور الزامات کی ضرورت ہے کہ جو سیاسی فضا کو مفاہمت کی بجائے محاذ آرائی کی طرف لے جائیں۔ یہ تو ایک عام آدمی بھی جانتا ہے کہ سیاسی کشیدگی کا فائدہ ہمیشہ اپوزیشن کو پہنچتا ہے۔ یہ پہلے بھی دیکھا گیا ہے اور اب بھی نظر آ رہا ہے۔ذرا ایک لمحے کو سوچئے کہ اگر حکومت کی طرف سے موجودہ حالات میں کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا جاتا تو کیا ہوتا، صرف بات دعوؤں تک محدود رہتی اور کشیدگی میں اضافہ نہ ہوتا، مگر اب صورت حال پھر تصادم کی طرف جا رہی ہے، پھر سڑکوں پر آنے کی باتیں ہو رہی ہیں اور سنگین الزامات کی پٹاری کھول دی گئی ہے۔

سانحۂ پشاور کے بعد قومی ہم آہنگی کی جو فضا قائم ہوئی تھی کیا وہ ایک حکومتی وزیر کی اس بات کے بعد قائم رہ سکتی ہے کہ عمران خان دہشت گردوں کے سٹرٹیجک پارٹنر ہیں۔ یہ تو سیدھی سادی نئی محاذ آرائی کا نقارہ بجانے والی بات ہے۔ پہلے بھی حالات اِسی لئے پوائنٹ آف نو ریٹرن تک چلے گئے تھے کہ انہیں سنبھالنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی تھی۔ آج ہی ایک ٹی وی چینل پر ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی بھرپور زبان کھولی ہے اور شریف برادران کو سانحۂ مال ٹاؤن کے حوالے سے پھر آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ گویا ہم نے لیپا پوتی کر کے مسائل کو پس پشت تو ڈال دیا ہے، مگر انہیں ختم نہیں کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی چبھن بھی باقی ہے اور پورے نظام پر وہ ایک آسیب کی طرح منڈلا بھی رہے ہیں۔ کس قدر حیران کن امر ہے کہ ہم بحران ختم ہونے کے لئے کسی معجزے کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر سانحۂ پشاور رونما نہ ہوا ہوتا تو شاید عمران خان کا دھرنا اب بھی جاری رہتا اور اُن کا پلان ایف بھی شروع ہو چکا ہوتا۔ ایک بڑے سانحے کے بعد صورت حال نے جو غیر معمولی ٹرن لیا اُس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ فائدہ صرف اِسی حد تک تو کافی نہیں کہ آپ نے فوجی عدالتیں قائم کر دیں اور حکومت کو ایک بڑا مینڈیٹ مل گیا۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ 16دسمبر2014ء کے بعد ملک میں جو تبدیلی آئی ہے، اس نے حکومت کو مضبوط کر دیا ہے اور اب اسے اپوزیشن کے سامنے کسی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے، تو میرے نزدیک یہ اُس کی منفی سوچ ہے،جس کا نتیجہ بھی منفی ہی نکلے گا۔ چاہئے تو یہ کہ حکومت قومی سطح پر پیدا ہونے والے اتفاق رائے کو مزید مستحکم کرے اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے صورت حال کو خراب نہ ہونے دے، لیکن دیکھتے میں یہ آ رہا ہے کہ حالات کو بگاڑنے کی ایک بار پھر کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔ قوم ایک بڑے سانحے کے بعد ایک بڑی جنگ میں شریک ہے، لیکن سیاسی سطح پر ایک دوسری جنگ شروع ہونے کے تمام تر شواہد نظر آ رہے ہیں۔ یہ بات کسی بھی طرح لمحۂ موجود میں قومی مفاد سے لگا نہیں کھاتی، مگر لگتا یہی ہے دونوں فریق اس نکتے کو نہیں سمجھیں گے اور اپنی حکمتِ عملی پر عمل پیرا رہیں گے۔

عمران خان کی شادی کے بعد جب یہ خبریں آئی تھیں کہ حکومت جوڈیشل کمشن پر بھی قوم کو بریکنگ نیوز دینا چاہتی ہے تو ایک گوناں اطمینان ہوا تھا کہ سیاسی تناؤ کا باعث بننے والے ایک بڑے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر نجانے پھر کیا ہوا کہ اس عمل کو بریک لگ گئی۔ مذاکرات ختم ہو گئے اور عملاً ایک بار پھر ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا۔ آج یہ ایشو پھر سیاسی نظام پر خطرہ بن کر منڈلا رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں فوج اس بات کو برداشت کرے گی کہ دہشت گردوں کے خلاف اس کی جاری مہم کو سیاسی انتشار کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ضربِ عضب سے لے کر فوجی عدالتوں کے قیام تک فوج کو قدم قدم پر عوام کی حمایت درکار ہے۔ عوام فوج کے پیچھے کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے اس کے ہر عمل کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، لیکن کیا ملک میں پھر دھرنوں،جلسوں اور شہروں کی بندش جیسے فیصلوں سے وہ یکجہتی اور اتحاد برقرار رہ سکے گا، جس کی فی الوقت اشد ضرورت ہے۔ مَیں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہو گا۔انتشار پھیلے گا تو وہ ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ یہ بات خود سیاست دانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے، لیکن وہ نہ پہلے سمجھے ہیں اور نہ اب سمجھیں گے۔اس بات کو کِسی کی کمزوری سمجھ لینا کہ اس نے دھرنا ختم کر دیا ہے،ایک احمقانہ عمل ہے،اسی طرح کی کِسی سیاسی جماعت کا حکومت کو گرانے کے لئے ایسے موقع پر سٹریٹ پاور کو استعمال کرنا، جب ملک میں امن و استحکام کی ضرورت ہے،ایک خلافِ منطق بات ہے، مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت یہ دونوں رویے ہی جاری ہیں اور ہم کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔

ایک عام تاثر یہ تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں عمران خان کی شرکت سے وزیراعظم محمد نواز شریف اور ان کے درمیان جو رابطہ ہوا ہے وہ آگے بڑھے گا اور برف پگھلے گی۔یاد رہے کہ جب پہلی بار عمران خان وزیراعظم سے ملے تھے، تو انہوں نے عمران خان کے اس اعلان پر کہ وہ کانفرنس سے سیدھا دھرنے پر جائیں گے، وزیراعظم محمد نواز شریف نے ازراہ مذاق کہا تھا کہ انہیں اگر بچوں کی عیادت کے لئے ہسپتال نہ جانا ہوتا تو وہ عمران خان کے ساتھ کنٹینر پر جاتے۔مَیں سمجھتا ہوں اس مذاق کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کے سربراہوں کا ایک دوسرے سے براہ است رابطہ ہو گا تو شاید کوئی صورت نکل آئے۔اگر بات وزراء یا پارٹی کے ترجمان تک محدود رہی تو وہ اپنی نوکری پکی کرنے کے لئے حالات میں بگاڑ پیدا کرتے رہیں گے۔ نواز شریف اگر عمران خان کو شادی کی مبارکباد دینے بنی گالہ چلے جائیں اور ساتھ ہی جوڈیشل کمشن کے حوالے سے کسی قابل قبول معاہدے پر پہنچ جائیں، تو مَیں کہتا ہوں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور جمہوریت پر کوئی آنچ بھی نہیں آئے گی۔ اب یہ سوال واقعتا اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ دھاندلی نہیں ہوئی، تو وہ جوڈیشل کمشن بنانے کے لئے سپریم کورٹ کو خط کیوں نہیں لکھتی۔ اب اگر سپیکر پر بھی اہلیت کے سوالات اٹھنے لگے ہیں تو اس نظام کو کیونکر آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ تحریک انصاف کی مہمات سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں اور پہلے کی طرح وہ اس بار بھی انہیں شکست دینے میں کامیاب رہے گی، تاہم اس صورت حال میں کیا ملک بے یقینی کا شکار نہیں ہو گا، کیا عمران خان کے اس دعوے کو آسانی سے جھٹلایا جا سکتا ہے کہ وہ حکومت کو چلنے نہیں دیں گے۔اُن کے پاس سٹریٹ پاور ہے اور وہ بآسانی لوگوں کو سڑکوں پر لا سکتے ہیں، اُن کے دعوؤں کو صرف اس بنیاد پر جھٹلانا کہ اب دھرنا ختم کرنے کے بعد وہ اپنی طاقت کھو چکے ہیں۔ ایک خوش فہمی تو ہو سکتی ہے، مگر اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس سے مسائل بڑھ تو سکتے ہیں، ختم نہیں ہو سکتے۔

غور کیا جائے تو انتخابات کی شفافیت کے معاملے پر حکومت اور تحریک انصاف دونوں کی اپنی اپنی اسٹیک ہیں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ تحریک انصاف کی شرائط پر جوڈیشل کمشن بنایا گیا تو انتخابات میں جو بے قاعدگیاں روا رکھی گئی ہیں وہ دھاندلی کے زمرے میں شمار ہو کر اُس کی کریڈیبلٹی کو متاثر کریں گی، اس لئے وہ ایسا جوڈیشل کمشن بنانا چاہتی ہے، جو صرف بے قاعدگیوں کی نشاندہی تک محدود رہے،جبکہ تحریک انصاف کی سیاست اس نکتے پر داؤ کی زد میں ہے۔ اگر انتخابات میں دھاندلی ثابت نہیں ہوئی، تو اس کی ڈیڑھ سالہ ریاضت ضائع جاتی ہے اور الٹا اُس کے بارے میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اُس نے صرف اقتدار کی خاطر دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹا۔اس طرح دیکھا جائے تو حکومت اور تحریک انصاف دونوں کے مفادات کا واضح ٹکراؤ موجود ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جب تک اس حوالے سے خلیج کو پاٹا نہیں جاتا اور دونوں اپنے موقف میں لچک پیدا نہیں کرتے، حالات کا کھچاؤ برقرار رہے گا۔ سونے پہ سہاگہ وہ بیانات ہیں، جو اس حوالے سے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ ایسے میں صرف دُعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو اپنی ذات اور مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنے اور فیصلے کرنے کی توفیق دے، وگرنہ زمینی حقائق تو کوئی اچھی خبر نہیں دے رہے۔

مزید : کالم