سستی بجلی پیدا کریں!

سستی بجلی پیدا کریں!

وزیراعظم محمد نواز شریف نے ہدایت کی ہے کہ ملک میں جاری بجلی کے منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ مستقبل میں گیس پاور ہاؤس ایل این جی پر منتقل کرنے اور اس گیس کی بنیاد پر نئے پاور ہاؤس بنانے کے منصوبوں پر بھی غور کیا جائے۔انہوں نے بجلی سستی کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم توانائی کے بحران سے عہدہ برآ ہونے کے لئے قائم کمیٹی کی خود صدارت کرتے ہیں اور اس کمیٹی کی یہ ساتویں میٹنگ تھی،جس میں یہ ہدایات دی گئیں، وزیراعظم کے علم میں ہے ،اس وقت مُلک گیس اور بجلی کے شدید بحران سے دوچار ہے اور اسی احساس کے پیش نظر وہ خود نگرانی بھی کر رہے ہیں۔ یہ امر خوش آئند ہے۔

اس سلسلے میں عرض ہے کہ ملک کو درحقیقت سستی بجلی کی ضرورت ہے جو وزیراعظم کی خواہش اور ہدایت کے باوجود سستی نہیں ہو پا رہی، کیونکہ تھرمل بجلی مہنگی پیدا کی جائے گی۔ وہ بھی سستی نہیں ہو گی کہ یہ گیس بہرحال درآمد ہونا ہے، اس لئے پہلی ضرورت یہ ہے کہ پن بجلی کے جو منصوبے منظور ہو چکے یا جو زیر تکمیل ہیں۔ پہلے ان کو جلد مکمل کیا جائے اور پھر پن بجلی کے مزید منصوبے بنا کر مکمل کئے جائیں، چھوٹے چھوٹے پن بجلی گھروں کی بہت گنجائش موجود ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم کی توجہ مبذول کرانا ہے کہ دورۂ ناران کے دوران مقامی باشندوں کے مطالبے پر انہوں نے دریائے ناران پر دو میگاواٹ کا بجلی گھر بنانے کی ہدایت کی تھی، اس سلسلے میں تاحال وزارت اور متعلقہ محکمے کی طرف سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، حالانکہ وزیر پانی اور بجلی خواجہ آصف نے موقع پر کہا تھا کہ دو میگاواٹ کے بجلی گھر کی تو بجٹ میں گنجائش موجود ہے۔ اگر وزیراعظم کی ہدایات کے اثرات یہی مرتب ہونا ہیں، تو عوام مایوس ہوں گے، اس لئے بہتر یہی ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ملک میں گیس اور تیل کی تلاش کا کام بھی تیز تر کرے۔ اب سابق وفاقی وزیر سید فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کریں گے کہ یہ حکومت متروک رینٹل پاور منصوبوں کو شروع کرنے والی ہے۔وزیراعظم کی کوشش اور ہمت بجا ہے، ان کا جذبہ بھی قابل قدر سہی، لیکن سوال پھر وہی ہے کہ عوام کو تو جلد اور سستی بجلی چاہئے، اس طرف پوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مزید : اداریہ