کیریئر کا آخری ورلڈ کپ 1992ءکی تاریخ دھرانے کی خواہش ہے،مصباح الحق

کیریئر کا آخری ورلڈ کپ 1992ءکی تاریخ دھرانے کی خواہش ہے،مصباح الحق

                                    لاہور (سپورٹس رپورٹر )قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ جیتنا ہر کرکٹر اور کپتان کا خواب ہوتا ہے اور ہمار ا بھی خواب ہے کہ پاکستان کے لئے ورلڈ کپ جیتیں ۔قذافی سٹیڈیم لاہور میں پی سی بی کے چیئرمین شہر یار خان ، ٹیم مینجر نوید اکرم چیمہ اور جی ایم میڈیا آغا اکبر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصبا ح الحق نے کہا کہ ورلڈ کپ کے بعد وہ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کرکٹ سے ریٹائر ہورہے ہیں اور وہ اپنے آخری ورلڈ کپ کو یادگار بنانے کے لئے 92کے ورلڈ کپ کی کامیابی کی تاریخ کو دہرانے کی خواہش رکھتے ہیں ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑی متحد ہیں اور جیت کے جذبہ کے ساتھ میدان میں اتریں گے ۔ ورلڈ کپ کے دوران اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کروں گا ۔آسٹریلیا کی کنڈیشنز مختلف ہیں ۔وکٹوں میں پیس اور باﺅنس ہے لیکن ابھی ورلڈ کپ میں ایک ماہ باقی ہے اور ہماری کوشش ہوگی کہ وہاں کی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہوں ۔ہمارے کئی کھلاڑی ان وکٹوں پر پہلے بھی کھیل چکے ہیں ۔پروفیشنل کرکٹر ہر کنڈیشنز میں جذبہ سے کھیل کر پرفارمنس دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہماری ٹیم بھی جیت کے جذبہ سے سر شار ہے ۔ بھارت کے خلاف ورلڈ کپ کے میچ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارت کے خلاف ہار جیت کی سوچ کے بغیر پورے جذبہ کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور بھرپور پرفارمنس کا مظاہرہ کرکے جیت کی کوشش کریں گے ۔اگربھارت کے خلاف ہار جیت کو سوچ کر میدان میں اترے تو ٹیم دباﺅ کا شکار ہوسکتی ہے جس سے پرفارمنس میں فرق پڑ سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی ٹیم نے اپنی ہوم سیریز یو اے ای کے میدانوں میں کھیلی اور وہاں کی کنڈیشنز پاکستان سے مختلف ہیں ۔پاکستان کی وکٹیں بیٹنگ ہیں جبکہ یو اے ای کی وکٹوں پر بیٹنگ کرنا بہت مشکل ہے تاہم پاکستانی کھلاڑیوں کی پرفارمنس کی وجہ سے ہم نے وہاں پر کامیابی حاصل کی۔مصبا ح الحق نے بتایا کہ انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ صحیح وقت پر کیا ہے اور اس فیصلہ سے ڈیڑہ ہفتہ قبل چیئرمین پی سی بی کو بتادیا تھا ۔میں نے ورلڈ کپ کے بعد ٹیم سے ڈراپ ہونے کے خدشہ یا دباﺅ کے پیش نظر اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا بلکہ اپنی مرضی سے فیصلہ کیا ہے ۔بیس سال سے کرکٹ کھیل رہا ہوں ،اس سے بہت محبت ہے اور اسے چھوڑنا بہت مشکل فیصلہ ہے لیکن میں خوش ہوں کہ اپنی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ خود کیا ۔پی سی بی کا مشکور ہوں کہ اس نے مجھے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا چار سال سے ون ڈے ٹیم کا کپتان ہوں اورہر سیریز کو چیلنج سمجھ کر مثبت سوچ کے ساتھ میدان میں اترا۔۔اپنے کیئر ئر کے دوران سپورٹ کرنے پر پی سی بی ،خاندان ،ساتھی کھلاڑیوں ،پرستاروں اور دیگر کا مشکور ہوں ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پی سی بی کو ٹیم کے نئے کپتان کی تقرری کے بارے میں اپنے رائے سے اگاہ کردیا ہے ۔کپتانی کے لئے کسی کھلاڑی کا نام میڈیا کو نہیں بتاسکتا کیونکہ اس سے دیگر کھلاڑی مایوسی کا شکار ہوسکتے ہیں ۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی