پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات بڑھانے کیلئے معاونت کی جائیگی:میاں ادریس

پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات بڑھانے کیلئے معاونت کی جائیگی:میاں ادریس

کراچی(اے پی پی) ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ادریس نے کہا ہے کہ پھل اور سبزیوں کی برآمدات 1 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لئے پی ایف وی اے کے ویژن کی تکمیل میں ہر ممکن سپورٹ اور معاونت کی جائے گی جبکہ ہارٹیکلچر سیکٹر میں ترقی کے امکانات، وی ایچ ٹی پلانٹ اور ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کامن فیسلیٹی کے قیام سمیت دیگر تجاویز وزیر اعظم محمد نواز شریف تک پہنچائی جائیں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) کے دورے کے موقع پر پھلوں کے برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان سے خطاب میں کیا۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر نے 18 ماہ گزر جانے کے باوجود وی ایچ ٹی پلانٹ کی عدم تنصیب پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے پلانٹ کی تنصیب کا معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے ایسوسی ایشن کی قیادت کے ویژن کی تعریف کرتے ہوئے اس کی تکمیل میں بھی بھرپور معاونت کی پیشکش کی۔ میاں ادریس نے ایسوسی ایشن پر زور دیا کہ وہ اپنے مسائل اور ہارٹیکلچر سیکٹر کے پوٹینشل کے بارے میں ایک مختصر اور جامع پریزنٹیشن تیار کریں تاکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ہونے والی ملاقات میں ان کو ہارٹیکلچر سیکٹر کی صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ قبل ازیں ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ادریس کو ہارٹیکلچر سیکٹر کی ترقی اور پھل اور سبزیوں کی برآمدات بڑھانے کے لئے ایسوسی ایشن کے کردار سے آگاہ کیا گیا۔

 ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالخالق یوسف نے استقبالیہ کلمات میں میاں ادریس کی آمد اور انڈسٹری کے مسائل کے حل میںدلچسپی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ چیئرمین نے بتایا کہ پھل اور سبزیوں کی برآمدات کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے جس میں اینٹی نارکوٹکس، کسٹم جانچ اور بندر گاہوں سے بلاتعطل کلیئرنس کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اس موقع پر پی ایف وی اے کے پیٹرن انچیف وحید احمد نے میاں ادریس کو ایک تفصیلی پریزنٹیشن دیتے ہوئے بتایا کہ ہارٹیکلچر انڈسٹری کی موجودہ 625 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ کو 3 سال میں باآسانی 1 ارب ڈالر، 5 سال میں 3 ارب ڈالر جبکہ 7 سال میں 5 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ انڈسٹری میں ریسر چ اینڈ ڈیولپمنٹ کی اشد ضرورت ہے بصورت دیگر پاکستان زرعی اجناس، پھل اورسبزیوں کی درآمدی منڈی میں تبدیل ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جاپان کو آم کی ایکسپورٹ کے لئے وی ایچ ٹی پلانٹ 18 ماہ گزر جانے کے باوجود نصب نہیں کیا جا سکا جس سے آئندہ سال بھی جاپان جیسی اہم منڈی کو آم کی برآمد شروع نہ ہونے اور قیمتی زرمبادلہ کے نقصان کا اندیشہ ہے۔ اسی طرح کراچی، ملتان اور دیگر شہروں میں ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کی کامن فیسلٹی کے لئے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ وحید احمد نے کہا کہ ہارٹیکلچر اور ایگری بزنس ہی ایک ایسا شعبہ ہے جس سے وسیع پیمانے پر لوگوں کا روزگار وابستہ ہے، بیرون ملک پاکستانی پھل اور سبزیوں کی بڑی مانگ ہے لیکن رکاوٹوں کے سبب اس پوٹینشل سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔

مزید : کامرس