عراقی فوج کی تشکیل نو کے لیے کم سے کم تین سال کا عرصہ درکار ہوگا،عراقی وزیراعظم

عراقی فوج کی تشکیل نو کے لیے کم سے کم تین سال کا عرصہ درکار ہوگا،عراقی ...

قائرہ(کے پی آئی)عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد داعش کے خلاف جنگ کے لیے ان کی فوج کو سست روی سے ملٹری اسپورٹ اور تربیت مہیا کررہا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق حیدر العبادی نے گزشتہ روز یہ بات مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سرکاری دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔انھوں نے یہ بھی اعتراف کیاکہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران عراقی فوج کو امداد مہیا کرنے کے عمل میں تیزی آئی ہے۔انھوں نے عراقی فوج کی مدد کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔قبل ازیں وزیراعظم حیدرالعبادی نے برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ عراقی فوج کی تشکیل نو کے لیے کم سے کم تین سال کا عرصہ درکار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف حالت جنگ میں ایک فعال اور موثر آرمی کی تشکیل ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ داعش عراق میں اپنی پیش رو القاعدہ کی تنظیم سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم فوج کی تشکیل نو کے عمل میں ایک توازن قائم کرنا چاہتے ہیں تا کہ اس کے داعش کے خلاف لڑائی پر اثرات مرتب نہ ہوں۔واضح رہے کہ وزیراعظم حیدر العبادی نے حال ہی میں فوج کے متعدد اعلیٰ افسروں کو کرپشن کے الزامات پر برطرف کردیا ہے یا جبری ریٹائر کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ \'\'ہمارے لیے بنیادی ایشو فوجی اور سول اداروں میں کرپشن کے خلاف جنگ ہے کیونکہ اس سے ہی ہمارے فوجیوں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔آرمی کی تنظیم نو کے لیے بعض حالیہ سادہ اقدامات کی وجہ سے ہمارے فوجیوں کی علاقوں کو واپس لینے اور ان پر کنٹرول کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے \'\'۔انھوں نے عراقی فورسز کے لیے نءِی جنگی حکمت عملی کے خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں صدام حسین کے آبائی شہر تکریت کا داعش سے کنٹرول واپس لینے کے لیے کارروائی آغاز کی جائے گی۔عراقی فوج نے گذشتہ جولائی میں بغداد سے ایک سو ساٹھ کلو میٹر شمال میں واقع اس شہر کو داعش کے حملے کے بعد خالی کردیا تھا۔

مزید : عالمی منظر