ایرانی اپوزیشن کی نظر بندی کے معاملے پر ارکان پارلیمنٹ گھتم گھتا

ایرانی اپوزیشن کی نظر بندی کے معاملے پر ارکان پارلیمنٹ گھتم گھتا

 تہران(کے پی آئی)ایران کی مجلس شوری(پارلیمنٹ) کے اجلاس میں اپوزیشن رہ نماؤں کی جبری نظربندی کے معاملے پر ایوان میں گرما گرما بحث کے بعد ارکان ایک دوسرے پر پل پڑے جس کے بعد ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔عرب ٹی وی کے مطابق گزشتہ روزپارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران اس وقت بدمزگی پیداہوئی جب آزاد رکن شوری علی مطہری نے اپوزیشن رہ نماؤں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی کی جبری نظربندی کے خلاف احتجاج کیا۔ اس پرشدت پسند ارکان نے انہیں ٹوکا اور اپوزیشن رہ نماؤں کی حمایت سے باز رہنے کی تاکید کی۔علی مطہری نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے مہدی کروبی، میر حسین موسوی اوران کی اہلیہ زھرانورد سمیت زیرحراست تمام اپوزیشن رہ نماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی سال سے اپوزیشن رہنماؤں کی نظربندی بین الاقوامی اصولوں اور جمہوری اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔علی مطہری کے ریمارکس پر شدت پسند ارکان نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں تقریر سے روکنے کی کوشش کی جس کے بعد اپوزیشن کے حامی بعض دوسرے ارکان بھی علی مطہری کی حمایت میں بول پڑے۔قدامت پسند ارکان نے علی مطہری کی تقریر کیرد عمل میں اپوزیشن کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔معززارکان پارلیمنٹ نے اپوزیشن کو منافق قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائے۔ اس نعرے بازے کے ساتھ ہی کئی ارکان علی مطہری پر پل پڑے۔ انہوں نے مطہری کو خاموش کرانے کی کوشش لیکن انہوں نے مزاحمت کے ساتھ اپنی تقریر بھی جاری رکھی۔

ارکان میں کشیدگی بڑھنے کے بعد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد حسن ابو ترابی نے کچھ دیر کے لیے اجلاس کی کارروائی روک دی۔اسپیکرنے بھی علی مطہری کے ریمارکس پرتلخ لہجے میں جواب دیتے ہوئے یہ کہہ کرانہیں خاموش کرانے کی کوشش کہ آپ جانتے ہیں کی ملک اس وقت کس طرح کے نازک حالات سے گذر رہا ہے۔ آپ ان لوگوں کی حمایت کررہے ہیں جو کسی شفقت اور ہمدردی کے مستحق نہیں ہیں، ان کی نظربندی حالات کے تقاضوں کے مطابق ہے۔خیال رہے کہ جون 2009 کے صدارتی انتخابات کے بعد اصلاح پسند اپوزیشن رہ نماؤں نے حکومت پردھاندلی کے ذریعے انتخابات جیتنے کا الزام عاید کرنے کے لیے کامیاب قرارپائے صدر محمود احمدی نژاد کے خلاف ملک بھر میں سبز انقلاب تحریک شروع کر دی تھی۔

مزید : عالمی منظر