گنگارام ہسپتال انتظامیہ دو سال بعد بھی ادویات کی خریداری کے ٹینڈر فائنل نہ کر سکی

گنگارام ہسپتال انتظامیہ دو سال بعد بھی ادویات کی خریداری کے ٹینڈر فائنل نہ ...

لاہور(جاوید اقبال) گنگا رام ہسپتال انتظامیہ دو سال بعد بھی میڈیسن اور سرجیکل ادویات کی خریداری کے ٹینڈرز فائنل نہیں کر سکی جس سے لاکھوں روپے مالیت کی ادویات ہسپتال میں نہ ہونے کی وجہ سے کروڑوں روپے یومیہ بنیادوں پر ایل پی میں خریدی جا رہی ہیں جبکہ رواں مالی سال کیلئے بھی پہلے 7 ماہ گزرنے کے باوجود انتظامیہ بلک میڈیسن پرچیز کا ٹینڈر فائنل نہیں کر سکی جس سے اس سال بھی ٹینڈرز کی معیاد ختم ہو گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس ضمن میں ایل پی میں ’’بلک پرچیز‘‘ کی ادویات اور سرجیکل ڈسپوزیبل آئٹمز خرید کر قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ رہاہے۔جس کی سزا مریضوں کو مل رہی ہے جن پر ادویات کی فراہمی کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ 2013ء سے بلک میں ادویات اور سرجیکل آلات خریدنے کے ٹینڈرز دیئے جا رہے ہیں جو فائنل نہیں ہو پا رہے، جون 2014 ء میں بھی بلک میں ادویات خریدنے کے ٹینڈرجاری کئے گئے جن میں درجنوں کمپنیوں نے حصہ لیا ۔ یہ ٹینڈر 30 دسمبر تک مکمل کئے جانے تھے مگر جنوری 2015 ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے۔ گزشتہ دو سالوں سے برنولہ کے ٹینڈرز نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری خزانے کا بے دریغ استعمال کیا گیااور غریب مریض ضروری ادویات و دیگر سامان جراحی بازار سے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح سرجیکل گلوز میں کرنٹ آنے اور ناقص دھاگے کے استعمال سے مریضوں میں انفیکشن پھیلنے کی خبریں منظر عام پر آنے پر انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ہسپتال کے سٹور سامان سے خالی اور ملک کی مشہور کمپنیوں کو ٹینڈرز میں بلا وجہ آؤٹ کر کے اپنی من پسند کمپنیوں کو نوازنے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔اس حوالے سے ایم ایس ڈاکٹر غلام نبی باجوہ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں نیا آیا ہوں ، ٹینڈرز فائنل کرنا اے ایم ایس پرچیز ڈاکٹر خالد محمود اور ڈرگ کنٹرولر کی ذمہ داری بنتی ہے ان کی نا اہلی سے یہ سب ہوا ہے۔ پرنسپل کو چاہیے کہ ان دونوں کیخلاف ایکشن لے میں سفارش کروں گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1