افغانستان میں بھارتی قونصل خانے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ہیں ‘حافظ سعید

افغانستان میں بھارتی قونصل خانے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ہیں ‘حافظ سعید

 فیصل آباد(آن لائن)امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعیدنے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بنے ہوئے ہیں،کہ کسی مسلمان کیلئے دوسرے مسلمان کا قتل تو درکنار اس کی جانب ہتھیار کا رخ کرنا بھی حرام ہے۔ اسلام نے ایک مسلمان کے جان و مال اور عزت کی حرمت کو مکہ شہر کی حرمت کی طرح قرار دیا ہے۔ آج بعض لوگ جس کو چاہتے ہیں پہلے کافر قرار دیتے ہیں اور پھر اس کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیتے ہیں۔صلیبیوں ،یہودیوں اور ہندوؤں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے ان لوگوں نے پاکستان کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا ہے۔پاکستان میں قتل و غارت گری کیلئے دہشت گردوں کو تربیت دیکر بھیجا جارہا ہے۔ اتحادی ممالک اس خطہ سے شکست کھا کر واپس جارہے ہیں۔بھارت کو خطہ کا تھانیدار بنانے کی کوششیں کسی صورت کامیاب نہیں ہوں گی۔مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگا کر قتل و غارت گری جائز نہیں۔ کارکنان اللہ سے تعلق کو مضبوط کریں ‘ دین اسلام کی تبلیغ اور دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے اپنی صلاحیتیں صرف کریں۔ فیصل آباد میں مختلف وفود سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما حافظ عبدالسلام بن محمد، مولانا نصر جاوید، مولاناسیف اللہ خالد، فیاض احمدجماعۃالدعوۃفیصل آباد،بنیامین عابدرہنماجماعۃالدعوۃفیصل آباد، رضوان محمودو دیگر نے خطاب کیا۔ تربیتی نشست میں کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔انہوں نے کہاکہکفار کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کو باہم آپس میں لڑایا جائے۔ حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہماکے دور میں خارجیوں نے پروپیگنڈہ کیا کہ سرحدوں پر جانے کی ضرورت نہیں مدینہ میں جہاد کیاجائے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کیا گیا۔ وہ وقت کے خلیفہ تھے چاہتے توصحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو اپنے دفاع کا حکم دے سکتے تھے مگر انہوں نے صاف طور پر کہاکہ اللہ کے نبی ﷺ نے منافقین کے خلاف تلوار اٹھانے سے منع کیا تھااس لئے میں شہید ہو سکتاہوں لیکن کسی کلمہ پڑھنے والے مسلمان پر مدینہ میں تلوار چلانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ یہ بہت بڑی دعوت ہے ان لوگوں کیلئے جو اسلام کے نام پر بے گناہ مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگاکر ان کا خون بہا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنیو الوں کے پیچھے اصل سازش یہودیوں کی تھی جنہوں نے کم عمر نوجوانوں جو میدانوں میں یہودیوں کی قوت توڑ سکتے تھے‘ ان میں شکوک و شبہات و غلط فہمیاں پیداکیں اور انہیں اسلام کے نمائندے بنا کر پیش کیا۔ آج بھی یہودی، صلیبی و ہندو پاکستان میں خاص طور پر فتنہ تکفیر کو پروان چڑھا رہے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس فتنہ کے نتیجہ میں مسلمان ٹکڑوں میں تقسیم ہوئے اور ان میں وحدت باقی نہ رہی۔اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے دور میں لوگ ان فتنوں متاثرہو سکتے ہیں تو چودہ سو سال بعد آج بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بیرونی قوتوں نے خطے میں دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ دہشت گرد انہی کے اشاروں پر ملک دشمن ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دشمنوں کے خلاف ایک قوت بن جائیں۔یہ وقت ملی اتحاد کا ہے۔حکومت اور سیاسی جماعتوں سمیت پوری قوم کودفاع پاکستان کیلئے متحد ہو جانا چاہیے

مزید : علاقائی