لاہور میں دنیا کا سب سے بڑا کینسر کئیر ہسپتال 400بیڈز پر مشتمل ہو گا، ڈاکٹر شہر یار

لاہور میں دنیا کا سب سے بڑا کینسر کئیر ہسپتال 400بیڈز پر مشتمل ہو گا، ڈاکٹر شہر ...

لاہور(جنرل رپورٹر)کینسر کئیر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر کے صدر پروفیسر ڈاکٹر شہر یار نے کہا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا کینسر کئیر ہسپتال 400بیڈز پر مشتمل ہو گاجو کہ 23ایکٹر اراضی پر تعمیر کیا جائے گا۔ہسپتال کی لینڈ ڈویلپمنٹ کا کام مکمل کر لیا گیا ہے جس میں غریبوں کو مفت علاج معالجہ کی سہولیات میسر ہوں گی۔اس امر کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پروفیسر عبدالمجید چوہدری،ڈاکٹر ریاض الرحمان اور ڈاکٹر نازش فیصل بھی موجود تھے۔پروفیسر شہر یارنے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 3لاکھ افراد کینسر کی تکلیف دہ مرض میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ان مریضوں کی اکثریت علاج سے محروم رہ جاتی ہے۔ایڈوانس سٹیج کینسر کے مریضوں کے علاج سے انکار کر دیا جاتا ہے آخری سٹیج میں مریض درد سے کراہتے ہیں لیکن ہسپتالوں میں مارفین جیسی درد کش ادویات دستیاب نہیں ہیں۔ان حالات میں فوری طور پر جدید ہسپتال کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک ایسے بڑے ہسپتال کا آغاز لاہور سے کر رہے ہیں۔میرے ساتھ کینسر کے سنئیر معالجین کی ٹیم بھی موجود ہے۔یہ ہسپتال23ایکٹر پر محیط ہو گاجو 400بستروں اور جدید مشینوں سے آراستہ ہوگا۔ادارے کی تعمیر کا کام جاری ہے اور مخیر حضرات کے تعاون سے ادارہ جلد پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ڈاکٹر ریاض الرحمان نے کہا کہ کینسر کئیر اور ریسرچ سنٹر نے پاکستان میں پہلی بار ایسی خصوصی وارڈوں کی تعمیر کا بیڑہ اٹھایا ہے جو کینسر کے ایڈوانس سٹیج کے مریضوں اور آخری مرحلے کے مریضوں کا علاج اور دیکھ بھال کر سکے۔ڈاکٹر نازش فیصل نے کہا کہ کینسر کئیر اینڈ ریسرچ سنٹر کے فارم سے پہلی بار اعلان کیا گیا ہے کہ چھالیہ اور گٹکا کینسر کے باعث ہیں ۔پانچ لاکھ سے زائد افراد پاکستان میں چھالیہ اور گٹکا کے عادی ہیں یہ لوگ چھوٹی عمر میں کینسر کے شکار ہو جاتے ہیں۔بھار ت کی 23ریاستوں میں گٹکا کے استعمال پر پابندی ہے حکومت پاکستان کو بھی پابندی عائد کرنی چاہیے۔

مزید : صفحہ آخر