ہائیکورٹ، اضافی جوڈیشل الاؤنس نہ دینے پر سیکرٹری خزانہ کو توہین عدالت کا نوٹس

ہائیکورٹ، اضافی جوڈیشل الاؤنس نہ دینے پر سیکرٹری خزانہ کو توہین عدالت کا ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے عدالت عالیہ کے ملازمین کو جوڈیشل الاؤنس میں پچاس فیصد اضافے کے بقایا جات کی عدم ادائیگی پر سیکرٹری خزانہ یوسف خان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئندہ سماعت تک بقایا جات کی ادائیگی کا معاملہ حل نہ ہوا تو محکمہ خزانہ کی تنخواہیں بند ہو سکتی ہیں۔مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے عدالتی ملازمین کو جوڈیشل الاؤنس میں پچاس فیصد اضافے کے بقایا جات کی عدم ادائیگی اور 50 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کے لئے درخواست کی سماعت پر سماعت کی، درخواست گزاروں کے وکلاء نے بتایا کہ ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود جوڈیشل الاؤنس کے چار برسوں کے بقایا جات ادا نہیں کئے گئے، عدالت میں موجود سیکرٹری خزانہ یوسف خان نے بتایا کہ پنجاب حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے بقایا جات کی خطیر رقم ادا کرنا مشکل ہے ، حکومت چاہتی ہے کہ عدالتی ملازمین کو رقم کی ادائیگی کے لئے مہلت دی جائے ۔عدالت نے سیکرٹری خزانہ کا جواب غیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا، عدالت نے حکم دیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کے حق میں حکم امتناعی جاری نہ کیا تو سیکرٹری خزانہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو گی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب انوار حسین نے استدعا کی کہ سیکرٹری خزانہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری نہ کیا جائے، ہائیکورٹ نے جوڈیشل الاؤنس سے متعلق عبوری حکم جاری کیا ہے، ہائیکورٹ حتمی فیصلہ جاری کرے تاکہ اس کے حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا سکے ، جس پر عدالت نے کہا جوڈیشل الاؤنس سے متعلق عدالتی حکم عبوری نہیں بلکہ حتمی ہے، عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر آئندہ سماعت تک بقایا جات کا معاملہ حل نہ ہوا تو محکمہ خزانہ کی تنخواہیں بھی بند ہو سکتی ہیں، عدالت نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ 19 جنوری کو ایڈہاک ریلیف الاؤنس کے معاملے پر بھی بحث کی جائے۔

مزید : صفحہ آخر