علماء کرام اور مشائخ پر تاریخ نے بہت بڑی ذمہ داری ڈالی ہے، انھیں منبر و محراب سے یہ ذمہ داری نبھانی ہے: شہباز شریف

علماء کرام اور مشائخ پر تاریخ نے بہت بڑی ذمہ داری ڈالی ہے، انھیں منبر و محراب ...

لاہور)جنرل رپورٹر(وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ پاکستان کو تاریخ کا سب سے مشکل چیلنج درپیش ہے۔دہشت گردی اور انتہا پسندی نے قومی معیشت کو تباہ کیاہے اور ملک کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیاہے۔ پشاور میں معصوم بچوں کو بد ترین بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔عصر حاضر کی تاریخ میں ایسی درندگی اور بربریت کی مثال نہیں ملتی۔سانحہ پشاو رپر آج بھی ہر پاکستانی دکھی اور اشکبارہے۔بچوں کے بہنے والے خون نے پور ی قوم کو یکجان او ردوقالب کر دیاہے۔علمائے کرام اورمشائخ عظام پر تاریخ نے بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے انہیں منبر ومحراب سے یہ ذمہ داری احسن طریقے سے اداکرنی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف فکر ی اور نظریاتی جنگ علمائے کرام نے لڑنی ہے ۔علمائے کرام و مشائخ عظام معاشرے میں بھائی چارے ، رواداری ، برداشت اور تحمل کے جذبات کو فروغ دینے کے لئے اپنا موثر اور بھرپور کردار اداکریں۔وزیراعلیٰ محمدشہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار آج یہاں مختلف مکاتب فکر کے جید علماء کرام اور مشائخ عظام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعلیٰ محمدشہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وحشی درندوں نے پشاور کے آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کا خون بہایاہے ۔شہداء کا خون ہم سے ان کے لہو کا بدلہ لینے کا سوال کرتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ تاریخ نے اتحاد اور اتفاق کا نادر موقع دیاہے ۔پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہو چکی ہے ہمیں اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے وطن عزیز کو دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کرنا ہے ۔انہوں نے کہاکہ توہین رسالتﷺ کے قانون میں ترمیم کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔شوشے وہ چھوڑ رہے ہیں جو نہیں چاہتے کہ ملک میں امن قائم ہو ۔قانون سب کیلئے برابر ہے ، پنجاب حکومت اشتعال انگیز سی ڈیز اور لٹریچر کی اشاعت اور تقسیم کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے گی ۔ مذہبی منافرت پرمبنی لٹریچر فروخت کرنے والوں کی دکانیں سیل کر کے جیلوں میں ڈالیں گے۔ شر انگیز تقاریر کرنے والوں سے بھی کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ علمائے کرام نے معاشرے کو نیا رخ دینا ہے ۔اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے شرکت کی جن میں ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، قاری محمد حنیف جالندھری، علامہ محمد افضل حیدری، پروفیسر سینیٹر ساجد میر، صاحبزادہ پیر امین الحسنات شاہ، حافظ طاہر محمود اشرفی، علامہ محمد حسین اکبر، حافظ عبدالکریم، مولانا غلام محمد سیالوی، مولانا احمد علی قصوری، علامہ صاحبزادہ محب اللہ نوری، مولانا صاحبزادہ حامد سعید کاظمی، مولانا پیر محفوظ شاہ مشہدی، مولانا پیر خلیل الرحمن شاہ، مولانا پیر جمیل الرحمن شاہ، مولانا صاحبزادہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی، مولانا شیر محمد خان، مولانا علامہ محمد خان لغاری، مولانا محمد علی نقشبندی، علامہ ڈاکٹر محمد حسیب، مولانا مجاہد عبدالرسول، ڈاکٹر مظہر فرید، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا علامہ عبدالرؤف ملک، مولانا پیر سیف اللہ خالد، مولانا امجد خان، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا محمد عبدالمتین خان زاہدی، مولانا عبدالخبیر آزاد، مولانا طارق جمیل، مولانا عبدالمالک، مولانا ایوب صفدر، مولانا حافظ محمد امجد، علامہ محمد یوسف انور، مولانا عبدالوہاب روپڑی، مولانا ڈاکٹر عبدالکریم، مولانا محمد نعیم بٹ، مولانا زبیر احمد ظہیر، مولانا ڈاکٹر حسن مدنی، مولانا عبدالرحمن لدھیانوی، مولانا یٰسین ظفر، علامہ سید نیاز حسین نقوی، علامہ اسد عباس نقوی، علامہ عبدالخالق اسدی، علامہ خواجہ بشارت حسین کربلائی، علامہ سید وقارالحسنین نقوی، علامہ حافظ کاظم رضا، علامہ امجد علی جعفری، علامہ کرامت عباس حیدری شامل تھے۔کوآرڈینیٹر اتحاد بین المسلمین کمیٹی پنجاب مولانا مفتی انتخاب احمد نوری، مولانا صاحبزادہ زاہد قاسمی،مولانا ڈاکٹر عبدالغفور راشد،الحاج حیدر علی مرزا، الحاج حبیب اللہ بھٹی، ڈاکٹر ظہیر احمد،خواتین ممبران اتحاد بین المسلمین و متحدہ علماء بورڈڈاکٹر سیدہ ناہید کوثر، تنزیلہ سعید، خانم سکنیہ مہروری، پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ حسنین، ڈاکٹر حافظہ شاہد پروین نے شرکت کی جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان نے خصوصی طو رپر اجلاس میں شرکت کی ۔علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، قادری محمد حنیف جالندھری، علامہ محمد افضل حیدری، پروفیسر سینیٹر ساجد میر، صاحبزادہ پیر امین الحسنات شاہ، حافظ طاہر محمود اشرفی، ڈاکٹر علامہ محمد حسین اکبر اوردیگر علماء کرام نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مزید : صفحہ اول