اب دوسری زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں، گوگل نے مشکل آسان کر دی

اب دوسری زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں، گوگل نے مشکل آسان کر دی
اب دوسری زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں، گوگل نے مشکل آسان کر دی

  

لاہور (نیوز ڈیسک) دنیا بھر کے ممالک میں سفر کرنے والوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں ایک مسئلہ مقامی زبان کو سمجھنے کا ہے۔ کسی بھی ملک کی شاہراہوں پر لگے سائن بورڈز پر مقامی زبان میں ہدایات درج ہوتی ہیں جن کو سمجھنا کسی بھی غیر ملکی کیلئے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ کسی ہوٹل میں کھانا کھانے سے پہلے مینیو کو دیکھنا اور اس پر درج غیر ملکی زبان کو سمجھ کر من پسند چیزوں کا آرڈر دینے جیسے کام مشکلات کا شکار ہوتے ہیں تاہم مشہور سرچ انجن گوگل نے اس مسئلے کا حل پیش کر دیا ہے جس کے استعمال سے اب مقامی زبان میں لکھے سائن بورڈز یا دیگر ہدایات کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں رہا۔ گوگل کی یہ نئی ایپلی کیشن آپ کے موبائل کو ایک طاقتور ٹرانسلیٹر ڈیوائس میں تبدیل کر دے گی۔

گوگل کی اینڈرائیڈ اور آئی فون کیلئے پیش کردہ ٹرانسلیشن ایپلی کیشن میں کسی بھی زبان میں لکھے الفاظ کی تصویر اتار کر اسے 36 مختلف زبانوں میں ٹرانسلیٹ کرنے کا فیچر تو پہلے سے ہی موجود تھا تاہم اس ایپلی کیشن میں ایک اور نیا فیچر شامل کیا گیا ہے جس کے تحت موبائل کا کیمرہ استعمال کرتے ہوئے کسی بھی زبان کے الفاظ کو فوری طور پرمطلوبہ زبان میں ٹرانسلیٹ کیا جا سکتا ہے۔ یعنی آپ اپنے موبائل کا کیمرہ آن کر کے اسے سائن بورڈ کی طرف کریں تو یہ اصلی تصویر دکھانے کے بجائے اس کا ٹرانسلیٹڈ ورژن دکھائے گا اور اس کیلئے انٹرنیٹ کنکشن بھی ضروری نہیں ہے۔

اس ایپلی کیشن میں ایک اور فیچر شامل کیا گیا ہے جس کے ذریعے آپ کسی بھی غیر ملکی کے ساتھ اپنی زبان میں بات کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ یعنی اگر آپ کسی ہسپانوی بولنے والے شخص کے ساتھ گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو آپ انگلش میں بات کریں یہ ایپلی کیشن خود بخود اسے ہسپانوی میں ٹرانسلیٹ کر دے گی اور آپ ہسپانوی سیکھے بغیر ہی سپین کے رہنے والوں کے ساتھ گفتگو کر سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں پہلی بار آئی فون استعمال کرنے افراد ان ایڈوانسڈ فیچرز سے مستفید ہو سکیں گے۔ ماہرین کے مطابق گوگل کے نئے فیچرز سمارٹ فونز کو نہ صرف یونیورسل ٹرانسلیٹر میں تبدیل کر دیں گے بلکہ کوئی دوسری زبان سیکھے بغیر معلومات کا حصول اور لوگوں کے ساتھ میل جول میں بھی آسانی پیدا کریں گے۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی