وہ ہوٹل جسے دنیا کا خطرناک ترین ہوٹل قرار دے دیا گیا، وجہ جان کر آپ بھی اتفاق کریں گے

وہ ہوٹل جسے دنیا کا خطرناک ترین ہوٹل قرار دے دیا گیا، وجہ جان کر آپ بھی اتفاق ...

نیویارک(نیوزڈیسک)دنیا بھر میں ہوٹل ایسی جگہ بنائے جاتے ہیں جہاں لوگوں کو پہنچنے میں آسانی ہو یا جہاں لوگ اردگرد کے ماحول سے محظوظ ہوسکیں لیکن آج ہم آپ کو جس ہوٹل کے بارے میں بتائیں گے جسے دنیا کا خطرناک ترین ہوٹل کہا جاتا ہے ،سمندر کے بیچوں بیچ ہونے کی وجہ سے یہاں پہنچنے کے لئے ہیلی کاپٹر کااستعمال کیاجاتا ہے۔

بحیرہ اوقیانوس کے بیچوں بیچ ہونے کی وجہ سے اسے کافی خطرناک سمجھا جاتا ہے اور اردگرد سوائے سمندر کے کچھ بھی نظر نہیں آتااور دل پر ایک خوف طاری ہوجاتا ہے۔تاہم جو لوگ خوبصورت سمندر دیکھنے کے آرزامند ہوتے ہیں وہ یہاں ضرورآتے ہیں۔

فرائنگ پین ٹاور کے نام سے جانے جانا والا یہ ہوٹل حقیقت میں کوسٹ گارڈز کا لائیٹ ہاﺅس تھا جسے خالی کردیا گیا ۔اب اس میں ایک ہوٹل بنادیا گیا ہے ۔یہ امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کی کیپ فیری سے 70کلومیٹر دور واقع ہے اور یہاں پہنچنے کے لئے کسی ہیلی کاپٹر یا کشتی کا استعمال کیا جاتا ہے۔یہ سمندر کی بیچوں بیچ واقع ہے اور لوگوں کو کمرے کی کھڑکیوں سے صرف سمندر کا نظارہ ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔اس ہوٹل میں تمام سہولیات جیسے وائی،بجلی اور گرم پانی موجود ہے۔اس کے مالک رچرڈ نیل نے یہ جگہ پانچ لاکھ ڈالر(پانچ کروڑ روپے) میں خریدی اور اب خود بھی اس میں مقیم ہے۔اس کا کہنا ہے کہ میں اصل میں اپنے لئے ایک ’درخت پرگھر‘لیا ہے ،جب میں نے یہ گھر لیا اس وقت یہاں بہت ہی زیادہ گندگی اور بدبو تھی۔یہاںقیام کے لئے تین دن کا کرایہ498ڈالر(50ہزار روپے) سے شروع ہوتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...