وہ جزیرہ جس کی ملکیت کا 2 ممالک دعویٰ کرتے ہیں اور کئی دہائیوں سے ان کی فوجیں شراب کی بوتلوں کے ذریعے آپس میں ’جنگ‘ میں مصروف ہیں

وہ جزیرہ جس کی ملکیت کا 2 ممالک دعویٰ کرتے ہیں اور کئی دہائیوں سے ان کی فوجیں ...
وہ جزیرہ جس کی ملکیت کا 2 ممالک دعویٰ کرتے ہیں اور کئی دہائیوں سے ان کی فوجیں شراب کی بوتلوں کے ذریعے آپس میں ’جنگ‘ میں مصروف ہیں

  

اوٹاوا(نیوزڈیسک)بحرہ منجمد شمالی ااور گرین لینڈ کے اوپر ایک جزیرہ موجود ہے جسے ہینز آئی لینڈ کا نام دیا گیا ہے۔تقریباًآدھ مربع میل پر مشتمل اس جزیرے پر کوئی بھی قدرتی دولت موجود نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ ٹکڑا دو ترقی یافتہ ممالک یعنی کینیڈا اور ڈنمارک کے درمیان لڑائی کا باعث بنا ہوا ہے۔

دنیا کے نقشے کا اگر مطالعہ کیا جائے تو آپ کو علم ہوگا کہ یہ جزیرہ گرین لینڈ کے اوپرواقع ہے اور یہ کینیڈا اور ڈنمارک کو الگ کرتا ہے۔بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے 12میل کے اندر کی سمندری حدود پرملک دعویٰ کرسکتا ہے۔اس بات کوسامنے رکھتے ہوئے دونوں ملکوں نے اس جزیرے پر اپناحق کا دعویٰ کررکھا ہے اور1933ءسے یہ مسئلہ بین الاقوامی عدالت میں زیر سماعت ہے۔تاہم 1984ءمیں ڈنمارک کے وزیر برائے امور گرین لینڈنے اس جگہ کا دورہ کیا اور جزیرے میں ڈنمارک کا جھنڈا لگانے کے ساتھ ایک نوٹ لکھا ’ڈنمارک کی زمین پر خوش آمدید‘ اور ساتھ ہی ایک برانڈی کی بوتل بھی چھوڑی۔اس دن کے بعد اس جگہ کو ’شراب کی لڑائی ‘کا نام دیا گیا۔

امریکہ میں ڈنمارک کے سفیر پیٹر جینسن نے یہ بھی کہا تھا کہ جب ان کی فوج اس جزیرے پر جائے گی تو وہاں ڈنمارک کی شراب چھوڑ آئے گی اور جب کینیڈین فوج وہاں اترے گی تو وہ کینیڈین شراب چھوڑآئے گی اور یوں دونوں فوجیں شراب کی بوتلوں کے ذریعے جنگ لڑیں گے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس