جہاز کے سفر کا سب سے سنگین ترین مسئلہ ایک 17 سالہ نوجوان نے حل کردیا

جہاز کے سفر کا سب سے سنگین ترین مسئلہ ایک 17 سالہ نوجوان نے حل کردیا

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) ہوائی سفر کے ذریعے متعددی بیماریوں کا انتہائی تیزی کے ساتھ ایک ملک سے دوسرے ملک، اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک پھیلنا ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس کی وجہ سے دنیا بھر کی حکومتیں اور ائیرلائنیں کئی دہائیوں سے سخت پریشان تھیں۔ اب ایک 17 سالہ لڑکے نے نہ صرف اس سنگین مسئلے کی اصل وجہ دریافت کرلی ہے، بلکہ اس کا حل بھی دنیا کو بتادیا ہے۔

ریمنڈ وینگ نے حال ہی میں ایک مقبول ٹی وی شو میں بتایا کہ ہوائی جہاز میں بیماری کے جراثیم کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلتے ہیں اور اس کی وجہ جہاز کے اندر ہوا کی محدود مقدار کا طویل وقت کے لئے موجود رہنا ہے۔ ریمنڈ کا کہنا تھا کہ طیارے میں موجود ہوا میں سب مسافر سانس لیتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی بیماری کا شکار ہوتو یہ جراثیم تیزی سے دوسرے مسافروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس ہوا کو جب تک فلٹر کیا جاتا ہے یہ طیارے کے اندر متعدد چکر لگاچکی ہوتی ہے ، اور جراثیم تمام مسافروں تک منتقل کر چکی ہوتی ہے۔ ریمنڈ نے اپنی کمپیوٹر سمیولیشن کے ذریعے ناصرف مسئلے کی وجہ معلوم کرلی بلکہ ایک نئی طرز کا ائیرپمپ بھی ڈیزائن کیا ہے جو طیارے میں موجود ہوا کو مسلسل فلٹر کرے گا اور جراثیم کے پھیلاﺅ کا مکمل سدباب کرے گا۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ پمپ مختصر وقت میں بآسانی طیاروں میں نصب کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ برڈ فلو، ایبولا اور سارس جیسی خطرناک بیماریوں کے وائرس ہوائی مسافروں کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک تک پھیلنے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ اخبار ’دی انڈی پینڈنٹ‘ کے مطابق ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا کہ برڈ فلو کے شکار ایک مسافر کی وجہ سے پرواز کے اختتام تک 17 دیگر مسافر اس خطرناک بیماری کے شکار ہوچکے تھے۔ ریمنڈ کی تحقیق اور اہم ایجاد کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ اس مسئلے پر قابو پاکر دنیا بھر میںمتعدی بیماریوں پر خرچ ہونے والے کھربوں ڈالر کی بچت کی جاسکے گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...