جنوبی کشمیر میں مقامی قبرستان کو مزار شہدا قراردینے کا مطالبہ

جنوبی کشمیر میں مقامی قبرستان کو مزار شہدا قراردینے کا مطالبہ

سری نگر(کے پی آئی) جنوبی کشمیر میں مقامی قبرستان کو مزار شہدا قراردینے کے مطالبے کے حق میں بدھ کو 13ویں روز بھی مکمل ہڑتال سے روز مرہ زندگی تھم ہو کر رہ گئی۔ پلوامہ قصبے میں پولیس کی جانب سے مسلسل چھاپے مارے جارہے ہیں اور اب تک 51کے قریب نوجوان گرفتار کئے جا چکے ہیں جن میں کئی نوجوانوں کے والدین بھی شامل ہیں۔ پولیس نے ایک محلہ میں چھاپہ ڈال کر مکینوں کا سامان تہس نہس کیا، جس پر لوگ مشتعل ہوئے اور رات بھر وہاں پتھرا اور شلنگ ہوتی رہی جس میں ایک شخص شل لگنے سے شدید زخمی ہوا، جسے سرینگر منتقل کیا گیا۔ کیسے یہ معاملہ پیدا ہوا؟ 31دسمبر کو گوسو جھڑپ میں ایک مجاہد کی شہادت کے 8روز بعد، مقامی نوجوانوں نے ایک بینر بنایا ،جس پر شہید پارک پلوامہ کے ایک کونے میں دفن کئے گئے کئی مجاہدین کی تصاویر لگائی گئیں تھیں، اور اسے ڈیجیٹل ہورڈنگ کا نام دیکر وہاں نصیب کرنے کا فیس بک پر اعلان کیا۔

تاہم بھارتی فورسز نے اسکی اجازت نہیں دی ۔پولیس کو سنگبازی اور امن و قانون میں رخنہ ڈالنے کے الزامات میں قریب250نوجوانوں کی تلاش ہے جن میں سے بیشتر روپوش ہیں ۔ شبانہ چھاپے کے دوران پولیس اہلکار پی ڈی پی کارکن غلام محمد گنائی کے گھر میں داخل ہوئے اور اس کے پوتے سہیل احمد کے بارے میں پوچھا جو گھر میں موجود نہیں تھا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ سہیل کے بدلے پہلے ہی اس کے والد مظفر احمد اور چاچا محمد یاسین کو گرفتار کیا گیا ہے ، یہ دونوں سرکاری ملازم ہیں۔ لوگوں نے الزام عائد کیا کہ اہلکاروں نے غلام محمد کا شدید زدوکوب بھی کیا ۔اس موقعے پر جب غلام محمد کے اہل خانہ نے شور مچایا تو بستی کے مردوزن گھروں سے باہر آکر نعرے بازی کرنے لگے۔مساجد کے لاڈاسپیکروں سے لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کیلئے کہا گیا اور پورے علاقے میں اتھل پتھل مچ گئی۔مقامی لوگوں نے مشتعل ہوکر محاصرے پر مامور اہلکاروں کو مختلف اطراف سے گھیرے میں لیا اور ان پر شدید سنگباری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا تعاقب بھی کیا۔پولیس نے جوابی کارروائی کے بطور اشک آور گیس کے درجنوں گولے داغے جس کے نتیجے میں پورا علاقہ دھویں سے بھر گیا اور ہر طرف چیخ وپکار کا عالم بپا ہوا۔طرفین کے مابین شدید جھڑپوں کے ساتھ ہی پولیس اہلکار وہاں سے چلے گئے،تاہم علاقے میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ رات بھر جاری رہا ۔مقامی لوگوں کے مطابق شیل لگنے کے نتیجے میں غلام محمد بری طرح زخمی ہوا اور پہلے ضلع اسپتال اور بعد میں سرینگر منتقل کیا گیا۔ مسلسل ہڑتال قصبے میں ہر قسم کی آمد رفت بند ہے، مکمل ہڑتال کی وجہ سے سرکاری دفاتر، نیم سرکاری ادارے، تجارتی مراکز، ادویات کی دکانیں، بنک اور دیگر ادارے تالہ بند ہیں اور ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ دن میں کوئی بھی شخص مین چوک سے گذرنے میں بھی خوف محسوس کررہا ہے۔صبح سویرے ڈپٹی کمشنر آفس سے لیکر جنرل بس سٹینڈ اور مین چوک سے لیکر مورن چوک، ڈانگر پورہ، وشہ بگ، ژاٹہ پورہ، نیوکالونی، پرچھو سمیت ہر ایک علاقے میں فورسز کی تعداد بڑھادی جاتی ہے اور پولیس کو چوکنا رکھا جاتا ہے۔شہید پارک، جہاں 1931میں مہاراجہ کے خلاف لڑائی میں کچھ لوگ مارے گئے تھے، جن کے نام پر اسے شہید پارک کا نام دیا گیا ہے، کے ارد گرد کرفیو جیسا لگا رہتا ہے۔اسی شہید پارک میں مارے گئے مجاہد مدفن ہیں، جیاں ایک بورڈ لگانے کا معاملہ ٹکرا کا باعث بنا ہے۔ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر بشیر احمد ملک کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے ایک معمولی مسلے کو انا کا معاملہ بنایا جس کے نتیجے میں اب تک مقامی تاجروں کو کروڑوں کا نقصان ہوچکا ہے۔میوہ کے دکانوں میں میوہ مکمل طور پر سڑ چکا ہے جس سے غریب میوہ فروش فاقہ کشی کرنے کے لئے مجبور ہوگئے ہیں۔فٹ پاتھوں پر بیٹھنے والے غریب دوکاندار وں کی کمر ٹوٹ گئی ہے لیکن انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ سیکروں طلباو طالبات جو ضلع ہیڈکوارٹر میں پرائیوٹ ٹیوشن سنٹروں میں جاتے تھے، کی پڑھائی مکمل طور پر تباہ ہوکر رہ گئی ہے۔سرکاری سکولوں میں آجکل ہورہی مفت کوچنگ بھی بری طرح متاثر ہوگئی ہے کیونکہ سکول بند پڑے ہیں۔

مزید : عالمی منظر