مقبوضہ کشمیر میں پی ڈی پی کا کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت بنانا بہتر رہے گا ‘طارق حمید قرہ

مقبوضہ کشمیر میں پی ڈی پی کا کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت بنانا بہتر رہے گا ...

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماممبر پارلیمنٹ طارق حمیدقرہ نے نئی صورتحال میں نئی سوچ اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی کا کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت بنانا بہتر رہے گا۔ انہوں نے پارٹی صدر محبوبہ مفتی کو کشمیر ی عوام کے جذبات اور پارٹی ورکروں کے احساسات ملحوظ نظر رکھنے کا مشورہ دیا۔ طارق حمید قرہ نے بھاجپا کو ایجنڈا آف الائنس کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سوالیہ انداز میں کہا کہ ابھی تک نہ تو پاور پروجیکٹ واپس کئے گئے ، نہ افسپا ہٹایا گیا اور نہ ہی مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کیلئے حریت لیڈر شپ کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیاجبکہ ساری باتیں ایجنڈا آف الائنس میں شامل ہیں ۔ ا یک انٹرویو میں پی ڈی پی سے وابستہ ممبر پارلیمنٹ اور سابق ریاستی وزیرخزانہ طارق حمید قرہ نے کہا کہ بہتر یہی ہوگا کہ پی ڈی پی بھاجپا سے دامن چھڑا کر کانگریس کا ہاتھ تھام لے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر اور خطہ چناب میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کو لگام دینی ہے تو پی ڈی پی کو بی جے پی سے ناطہ توڑنا پڑ ے گا۔ قر ہ نے کہا کہ سابق وزیرا علی مفتی محمد سعید کے فوت ہونے کے بعد ریاست میں ایک نئی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

اور یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پی ڈی پی لیڈر شپ ایک نئی سوچ اور نئی فکر اپنا لے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے نظریے سے پی ڈی پی کو نئی حکومت بنانے کیلئے نیا ساتھی ڈھونڈنا ہوگا اور اس کے لئے کانگریس بہتر آپشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کو نئی حکومت بنانے کیلئے کانگریس کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے کیونکہ کانگریس ایک سیکولر جماعت ہے اور اسکے ساتھ مل کر سیکولر حکومت بنائی جاسکتی ہے ۔ قر ہ نے کہا کہ میں پچھلے 9مہینوں سے یہی کہتا آرہا ہوں کہ جموں وکشمیر کے عوام کو آر ایس ایس یا بی جے پی قابل قبول نہیں ہے کیونکہ ان دونوں جماعتوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ان کا ماضی اور حال بھی فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے پر مبنی رہا ہے۔ ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ گزشتہ 6دہائیوں سے آر ایس ایس والے جموں وکشمیر میں اپنے ہاتھ پیر پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ ناکام رہے لیکن گزشتہ 6ماہ کے دوران آر ایس ایس نے وہ حاصل کیا جو اس کو 60برسوں میں بھی حاصل نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کشمیر کے حوالے سے بی جے پی کا خفیہ ایجنڈا ہے اور اسی ایجنڈے کی عمل آوری کے سلسلے میں آر ایس ایس کو یہاں کھلی چھوٹ دی گئی ہے ۔ انہوں نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو مشورہ دیا کہ وہ نئی ابھری صورتحال میں نئی سوچ اپناتے ہوئے نئی حکومت بنانے سے پہلے اپنی پارٹی سے وابستہ ورکروں کی رائے بھی حاصل کریں جبکہ نئی حکومت بناتے وقت پی ڈی پی لیڈر شپ کو کشمیری عوام کے جذبات بھی ملحوظ نظر رکھنا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آر ایس ایس کو روکنا ہے تو بھاجپا کو حکومت سے باہر رکھنا ہوگا اور یہ تب ہی ممکن ہے جب پی ڈی پی ایک نیا راستہ اختیار کرے۔ طارق حمید قرہ نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے عزائم پہلے ہی خطہ چناب اور پیر پنچال میں سامنے آچکے ہیں ، اس لئے پی ڈی پی قیادت کو تمام تر صورتحال اور حالات و واقعات ملحوظ نظر رکھتے ہوئے نئی صورتحال میں نئی سوچ اپنانی چاہیے۔ قرہ نے کہا کہ انکی بی جے پی یا آر ایس ایس سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں بلکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ان دونوں جماعتوں کے عزائم کتنے خطرناک ہیں۔ انہوں نے مفتی محمد سعید کے انتقال کو مشترکہ نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ میری پارٹی یا پارٹی صدر سے بھی کوئی دشمنی نہیں لیکن میں یہ اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ پارٹی لیڈر شپ کو خطرات اور آنے والے چیلنجوں سے خبردار کروں ۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...