پاکستان بھارت در پر دہ مذاکرات کے ذریعے جموں کشمیر کی تقسیم کی سازش پر رضا مند ہو چکے ہیں

پاکستان بھارت در پر دہ مذاکرات کے ذریعے جموں کشمیر کی تقسیم کی سازش پر رضا ...

سری نگر(کے پی آئی) اسلامک سٹوڈنٹس لیگ کے سربراہ شکیل بخشی نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنائے جانے سے متعلق خبروں پر تشویش ظاہر کی ہے۔انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے گلگت بلتستان و لیہہ کر گل گریزکوماقبل تقسیم ایک صوبہ کی حیثیت تھی۔پہلے گریز کو اسے الگ کیا گیا تاکہ لداخ کی مسلم ہیت کو بودھ اکثریت کے تابع کیا جائے۔اب متوقع طورگلگت بلتستان کو الگ کر کے لداخ کو مکمل طور بھارت کی جھولی میں ڈالنے والے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کی شروعات ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا قدرتی معدنیات سے مالا مال نیز سیاحتی مر کز اور بین الاقوامی تجارتی شاہراہشاہراہ ابریشم کے لئے مشہور اس خطہ کو جموں کشمیر سے الگ کر کے پاکستانی زیر انتظام کشمیرکو مفلوک الحال بنانے کی یہ سازش ہو گی ۔انہوں نے کہاکسی حل سے قبل ہی گلگت بلتستان کی ہیت تبدیل کر نا ایسے ہی ہے جیسا لداخ کوخودمختارپہاڑی کونسل درجہ دینا ہے جسکا آخری مقام یونین ٹریٹری کی صورت میں نکلے گا۔لے دے کے فارمولہ پر کشمیر کے ٹکڑے کر نا دراصل کشمیر کو لولا لنگڑا بنانے کا عمل ہے۔شکیل بخشی نے مزیدکہا یہ سارا عمل اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ پاک و ہند در پر دہ مذاکرات کے ذریعے جموں کشمیر کی تقسیم اور بندر بانٹ کر نے کی خطرناک سازش پر رضا مند ہو چکے ہیں اور بد قسمتی سے اس سازش کو عملی جامہ پہنانے کی شروعات کی ذمہ داری حکومتِ پاکستان کو سونپی گئی ہے تاکہ جموں کشمیر کے آزادی پسند عوام کے عزائم اور حوصلوں کو اپنوں کی جفا کے تیغ سے تہس نہس کیا جا سکے۔بخشی کا کہنا ہے حکومتِ پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان کی آئینی ہیت تر کیبی تبدیل کر کے اسے ایک مکمل صوبہ کا درجہ دینا حکومت بھارت کے لئے اس بات کا واضح پیغام ہو گا کہ وہ اس کے زیرقبضہ جموں کشمیر کے ساتھ بھی ایسا کر نے کا حق رکھتا ہے ۔شکیل بخشی مزید کہتے ہیں اس سازش کی دوسری کڑی پاکستانی زیرا نتظام کشمیر کو مکمل صوبہ بنانا ہو گا اور اس طرح سے کشمیر کی تحریک آزادی کی بساط لپیٹنے کا مکمل انتظام و انصرام کیا جا رہا ہے ۔شکیل بخشی نے کشمیر،پاکستانی زیرا نتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کی مخلص آزادی پسند قیادت اور عوام کو مصلحت پسندی اور گوشہ عافیت ترک کر نے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا یہ موقف واضح کریں کہ وہ اپنی تحریک آزادی اور مقدس قربانیوں کے ساتھ اس طرح کے مجرمانہ اور بہیمانہ کھلواڑ کی اجازت نہیں دے سکتے ۔شکیل بخشی نے کہا اگست 1947کا متحدہ جموں وکشمیر سارا کا سارا متنازعہ ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا اطلاق اس سارے علاقے کے رہنے والوں پر ہوتا ہے اور کسی ایک علاقے کو اس عمل سے الگ کر کے اپنے ملک میں ضم کر نا کشمیری عوام کی تحریک آزادی اور ان کی عظیم قربانیوں کے ساتھ بدترین غداری کے مترادف ہو گا۔بخشی نے کہا اسلامک اسٹوڈنٹس لیگ اس بات کو واضح کر دینا لازم سمجھتی ہے کہ اس طرح کی کسی بھی عمل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور کشمیر کی تحریک آزادی کو اب کی بار کسی شملہ،تاشقند معاہدے یا اندرا عبداللہ ایکارڈ کی نذر نہیں ہو نے دیا جائے گا۔

مزید : عالمی منظر