لبنانی ہوائی اڈے خطے میں ایرانی مداخلت،عوامی حلقوں میں تشویش

لبنانی ہوائی اڈے خطے میں ایرانی مداخلت،عوامی حلقوں میں تشویش

بیروت(کے پی آئی)لبنان کے صدر مقام بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے عناصر کی سرگرمیوں نے لبنان کے سیاسی اورعوامی حلقوں میں گہری تشویش پیدا کی ہے۔ عرب ٹی وی رپورٹ کے مطابق ہوائی اڈے کے امور میں حزب اللہ کی مداخلت نہ صرف اس لیے باعث تشویش ہے کہ تنظیم مسافر اور مال بردار طیاروں کے ذریعے اسلحہ کی اسمگلنگ میں ملوث ہو سکتی ہے بلکہ حزب اللہ کے طریقہ واردات سے دولت اسلامی داعش جیسے گروپ بھی مداخلت کرتے ہوئے دہشت گردی کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔

پیشتر لبنانی رکن پارلیمنٹ احمد فتفت نے انکشاف کیا تھا کہ لبنان کے جن ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر حزب اللہ کا کنٹرول ہے وہاں سے سامان سے لدے کنٹینروں کی کوئی خاص تلاشی اور چیکنگ نہیں کی جاتی اور پانچ سو ڈالر وصول کر کے ہر کنیٹیر کو وہاں سے گذرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔انہوں نے حزب اللہ پر متوازی نظام معیشت چلانے اور لبنان میں اپنی مخصوص حکومت قائم کیے رکھنے کا بھی الزام عاید کیا۔جہاں تک بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے میں حزب اللہ کی مداخلت کا معاملہ ہے تو وہ بھی کم باعث تشویش نہیں۔ حزب اللہ کی سرگرمیاں لبنانی عوام کے لیے پریشانی کا موجب بن رہی ہیں کیونکہ تنظیم ہوائی اڈے سے اسلحہ کی منتقلی اور دیگر ممنوعہ سامان کی اسگلنگ کر سکتی ہے۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...