ایران، امریکا کو 40 ٹن بھاری پانی فروخت کرے گا،نائب سربراہ جوہری ادارہ

ایران، امریکا کو 40 ٹن بھاری پانی فروخت کرے گا،نائب سربراہ جوہری ادارہ

تہران(آن لائن) ایرانی جوہری ادارے کے نائب چیف علی اصغرزریں نے کہا ہے کہ عالمی طاقتوں سے معاہدے کے تحت ایران ’’بھاری پانی‘‘ کا کچھ حصہ امریکا کو فروخت کرے گا،اراک جوہری ریکٹر کا کوئی حصہ ختم نہیں کیا، بھاری پانی کی پیداوار کا پلانٹ موجود ہے ۔ غیر ملکی خبررساں کے مطابق علی اصغر زریں نے ان رپورٹس کی تردید کی کہ ایران نے اراک جوہری ریکٹر کے اہم حصے کو ختم کردیا ہے، جو کہ تہران کے عالمی طاقتوں سے ہونے والے جوہری پروگرام معاہدے کے بدلے میں پابندیاں اٹھائے جانے کے حوالے سے اہم قدم تصور کیا جارہا تھا۔ ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے نائب سربراہ علی اصغر زریں کا کہنا تھا کہ ایک تیسرے فریق ملک کے ذریعے سے ایران امریکا کو 40 ٹن بھاری پانی فروخت کرے گا۔انھوں نے کہا کہ برآمد کیے جانے والے بھاری پانی کا 6 ٹن جوہری سہولیات جبکہ دیگر امریکی ریسرچ سینٹر میں استعمال ہوگا۔خیال رہے کہ ایران کی جوہری سائٹ اراک میں بھاری پانی کی پیداوار کا پلانٹ موجود ہے جو کہ گذشتہ کئی سالوں سے کام کررہا ہے۔ زریں کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ہے اور یہ بھی کہ تہران اب بھی معاہدے کے مطابق اس کے متبادل ڈیزائن کے حوالے سے امریکا اور چین کی مدد سے کام کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے 'ہمارا دیگر ممالک سے ایک ٹھوس معاہدہ ہونا ضروری ہے، جس میں چین بھی شامل ہے۔علی اصغر زریں کا کہنا تھا کہ معاہدے کا مسودہ رواں ہفتے یا آئندہ ہفتے میں سرکاری سطح پر تبادلہ کرلیا جائے گا۔'جب تک معاہدہ نہیں ہوتا، ہم اراک ریکٹر کے اہم حصوں کو ہٹانے کے حوالے سے عملی اقدامات نہیں کرے گے۔

یاد رہے کہ معاہدے کے تحت تہران اپنے سنٹری فیوجز کی تعداد میں کمی اور کم افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے بڑے حصے کو روس منتقل کرے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال جولائی میں ایران اور 6 عالمی ممالک کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کے مطابق ایران نے اراک کے بھاری پانی کے ریکٹر کو منتقل کرنے اور اس بات کی یقین دہانی کروانے کہ آئندہ یہ جوہری ہتھیار بنانے کے لئے استعمال نہیں ہوگا پر اتفاق کیا تھا۔یاد رہے کہ یہ معاہدہ ایران اور 6 عالمی طاقتوں (پی فائیو228وان گروپ) امریکا، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور جرمنی کے درمیان طے پایا تھا۔گذشتہ دنوں آنے والے رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اراک کا اہم حصہ ہٹا دیا گیا ہے ۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...