نواز شریف معاشی ترقی کیلئے زمین کا سودا کرنے سے کوئی سٹیٹس مین نہیں بن سکتا،یاسین ملک

نواز شریف معاشی ترقی کیلئے زمین کا سودا کرنے سے کوئی سٹیٹس مین نہیں بن ...

سری نگر(کے پی آئی) جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک نے وزیراعظم نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دیئے جانے کی تجویز کے بعد کشمیر کاز پر اس کے اثرات کے حوالے سے ہوشیار رہیں۔وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں یاسین ملک نے میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت میں تبدیلی سے کشمیر تنازع پر اثرات مرتب ہوں گے، اگر پاکستان گلگت بلتستان میں اپنی رِٹ قائم کرتا ہے تو بھارت کی حکومت کو یہ سیاسی اور اخلاقی حق حاصل ہوجائے گا کہ وہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرلے۔

، اس طرح اپنے اس ایک قدم سے پاکستان، کشمیر میں رِٹ قائم کرنے کے لیے بھارت کی بالواسطہ مدد کرے گا۔یاسین ملک نے اپنے خط میں لکھا کہ وہ کشمیری عوام کی خواہشات اور جذبات کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سے درخواست کرتے ہیں کہ اس اقدام سے دور رہا جائے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے نام خط میں گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی اطلاعات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوے کہا ہے کہ معاشی ترقی کیلئے زمین کا سودا کرنے سے کوئی سٹیٹس مین نہیں بن سکتا ۔ یہ آپ کیلئے ایک سٹیٹس مین بننے کا موقع ہے کہ آپ معاشی دبا کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں اور آپ ایک سٹیٹس مین بنیں اور مختصر وقتی ترغیبات کو ترک کردیں۔ یاسین ملک نے لکھا ہے کہ اطلاعات ہیں کہ14جنوری2016کو آپ کی حکومت گلگت بلتستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کرنے جارہے ہیں ۔اس حوالے سے بہت سے حلقوں کی طرف سے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ آپ کی حکومت گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کرنے کیلئے کسی قسم کا اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اس فیصلے سے مسئلہ جموں کشمیر پر دوررس منفی نتائج مرتب ہوں گے ۔نواز شریف کو مخاطب کرکے ملک مزید لکھتے ہیں اگر پاکستان نے اپنی خودمختار عملداری کا اطلاق گلگت بلتستان کے خطے پر کردیا تو بھارت کے پاس ایک سیاسی اور اخلاقی جواز ہوگا کہ وہ بھی اپنے زیر قبضہ کشمیر کے علاقوں کو بھارت کے اندر ضم کردے۔ اس کا صاف مطلب ہوگا کہ پاکستان بیک جنبش قلم کشمیر پر بھارت کے قبضے کو مضبوط تر کرنے میں مدد کرے گا۔یاسین ملک رقمطراز ہیں اگر آپ کی حکومت گلگت بلتستان کو پاکستان کے اندر ضم کردیتی ہے اور اس کے نتیجے میں اگر بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنے تسلط اور قبضے کو مستحکم بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے ،تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگاکہ لوگوں کے جذبات و احساسات کا سودا کیا جارہا ہے ۔یاسین ملک کا کہناہے کشمیر کوئی سرحدی یا زمین کا تنازعہ نہیں ہے۔یہ لوگوں کے حقوق کا مسئلہ ہے اور زمین کیلئے حقوق کا سودا کرنا لوگوں کے جذبات و احساسات کو قتل کردینا ہے۔فرنٹ سربراہ مزید لکھتے ہیں وزیر اعظم ،اخباری اطلاعات میں کہا جارہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی وجہ سے آپ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ معاشی ترقی بہت اچھی ہے لیکن آپ اس ضمن میں کوئی اخلاقی جواز نہیں رکھتے کہ آپ کوئی ایسی پالیسی اختیار کریں جو لاکھوں کروڑوں کشمیریوں کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ میں جانتا ہوں اور ہمیں احساس ہے کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک دور سے گزررہا ہے۔لیکن اس کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ آپ لوگوں کے جذبات کا سودا کریں۔یاسین ملک نے انہیں2009میں ان کے ساتھ کئے گئے وعدے یاد کراتے ہوئے لکھا ہے جب آپ2009 میں مجھ سے لاہور میں ملاقی ہوئے تھے ۔آپ نے صاف طور پر اس وقت گلگت بلتستان پر کشمیریوں کے موقف کو تسلیم کیا تھا اور گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کی مخالفت کی تھی۔ ملک کا کہنا ہے تاریخ لوگوں کو انکی عظمت اور بڑے اہداف کی بناپر یاد رکھتی ہے اسلئے میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ تاریخ کی لمبی سوچ رکھیں اور مختصر وقتی مفادات کو ترک کردیں۔میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ اس میراث کو سمجھیں جو آپ لوگوں کو انکے تاریخی،سیاسی،اور اخلاقی حقوق سے محروم کرکے اپنے پیچھے چھوڑیں گے ۔یاسین ملک نواز شریف سے آخر میں ملتمس ہیں معاشی ترقی کیلئے زمین کا سودا کرنے سے کوئی سٹیٹس مین نہیں بن سکتا ۔ یہ آپ کیلئے ایک سٹیٹس مین بننے کا موقع ہے کہ آپ معاشی دبا کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں اور آپ ایک سٹیٹس مین بنیں اور مختصر وقتی ترغیبات کو ترک کردیں۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...