اب بال وزیر اعظم کے کورٹ میں ہے

اب بال وزیر اعظم کے کورٹ میں ہے
 اب بال وزیر اعظم کے کورٹ میں ہے

  

ایک نجی چینل کے ٹاک شو میں وفاقی وزیر احسن اقبال کہہ رہے تھے کہ چائنہ پاکستان اکنامک کاریڈور دراصل ’’Opportunity of the Century‘‘ ہے۔ بلاشبہ اقتصادی راہداری کا یہ منصوبہ پاکستان کے لیے بالخصوص اور پورے خطے کے لیے بالعموم ایک عظیم گیم چینجر ثابت ہوگا۔ 46ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری سے پاکستان کے ساحلی شہر اور مستقبل کی عظیم بندرگاہ گوادر سے شروع ہونے والا یہ پاک چین منصوبہ دونوں ملکوں کے مابین تجارتی و معاشی تعاون اور ترقی کی نئی راہیں کھولے گااورپاکستان سے غربت، جہالت اور بے روزگاری کے اندھیرے ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ پوری قوم ابھی سے اپنے دل و دماغ میں اس منصوبے کے حوالے سے کیسے کیسے خواب سجا رہی ہے اور خواہش رکھتی ہے کہ یہ منصوبہ متنازعہ نہ ہولیکن بدقسمتی سے ہماری سیاست اسے متنازعہ بنائے جا رہی ہے۔ ایک طرف حکومت کو موردِ الزام ٹھہرایا جارہا ہے کہ وہ اس کا واضح نقشہ پیش نہیں کر رہی جس سے اپوزیشن جماعتوں میں تحفظات پائے جاتے ہیں تو دوسری طرف حکومت اپوزیشن کو بار بار باور کروارہی ہے کہ اس کے تحفظات اور اعتراضات درست نہیں۔ جو تحفظات ہیں، وہ مل بیٹھ کے دورکر لئے جائیں گے۔

گزشتہ سال 28مئی کوسی پی ای سی کے حوالے سے وزیراعظم کی زیرصدارت کُل جماعتی کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں تمام جماعتوں نے اس منصوبے پر اعتماد اور اتحاد کا مظاہرہ کیا لیکن اب نہ جانے کیوں کچھ جماعتیں اور ’’چھوٹے صوبے‘‘ اس پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ گزشتہ دِنوں اس مسئلے پر بلوچستان نیشنل پارٹی (اختر مینگل گروپ) نے اسلام آباد میں اے پی سی بلائی جس میں تمام جماعتوں نے شرکت کی۔ حکومت کی طرف سے احسن اقبال اور سعد رفیق اس اے پی سی میں شریک ہوئے۔ حکومت کی اتحادی جماعتوں نے بھی شرکت کی جن میں مولانا فضل الرحمن اور نیشنل پارٹی شامل تھی۔ کانفرنس کابنیادی مطالبہ توگوادر کو، بلوچستان حکومت کو دینا تھا کہ ’’ساحل‘‘ اور وسائل پر بلوچ حکومت کا اختیار ہے، دوسرے صوبوں کے لوگ اگر یہاں آگئے تو گوادرسمیت پورے بلوچستان میں بلوچ اقلیت میں بدل جائیں گے۔

احسن اقبال نے اس کانفرنس میں بھی اور 11جنوری کو ایک ٹی وی ٹاک شو میں بھی بہت تفصیل کے ساتھ اس پر بات کی۔ وزیر منصوبہ بندی واقتصادی ترقی نے اپوزیشن کے تمام خدشات کو دلائل کے ساتھ رد کردیا اور کہا کہ سوشل میڈیا پر جو نقشے پیش کئے جارہے ہیں، وہ اصلی نہیں جعلی ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ 2016کے آخر تک سب سے پہلے مغربی روٹ مکمل ہوگا جو گوادر ، خوشاب، ژوب، سبی، کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان، برہان سے ہوتا ہوا خنجراب تک جائے گا، انہوں نے مزید واضح کیا کہ مجموعی سرمایہ کاری میں 35ارب ڈالر توانائی جبکہ 11ارب ڈالر انفراسٹرکچر پر خرچ ہوں گے۔ پنجاب میں 6.9ارب ڈالر، بلوچستان میں7.1ارب ڈالر جبکہ سب سے زیادہ سندھ میں 11ارب ڈالر کے توانائی منصوبے ہیں اور یہ بات قطعاً درست نہیں کہ پنجاب پر زیادہ رقم خرچ ہوگی۔

بعض ناقدین تو اس حدتک چلے گئے کہ لاہور میں شروع ہونے والا اورنج لائن پراجیکٹ بھی سی پی ای سی کے کھاتے میں ڈال دیا جس کی تردیدخادمِ پنجاب نے گزشتہ دِنوں لودھراں سے رائیونڈ تک دو رویہ ریلوے ٹریک کے افتتاح کے موقع پر کردی ۔ان کا کہنا تھا کہ لاہوراورنج ٹرین کا سی پی ای سی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ منصوبہ پنجاب حکومت کا ہے۔ اورنج لائن سے یاد آیا، بلاول بھٹو زرداری نے لاہور کی ایک تقریب میں فرمایا کہ رنگ برنگی بسیں چلانے سے ترقی نہیں ہوتی بلکہ اصل کام عوام کے بنیادی مسائل حل کرنا ہے لیکن جناب بلاول کا اپنی سندھ حکومت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ پنجاب میں رنگ برنگی بسیں چل تو رہی ہیں لیکن سندھ میں بسیں چلانا تو درکنار ،خود سڑکوں کا بُراحال ہے۔ کراچی جیسا میٹروپولیٹن شہر کچرے کے ڈھیر اور کھنڈرات میں تبدیل ہورہا ہے۔ اقتصادی راہداری ایک وسیع منصوبہ ہے جسے 2030تک مکمل ہونا ہے۔ اہلِ سیاست کیوں اسے ایک ’’کالاباغ ڈیم‘‘ بناناچاہتے ہیں۔احسن اقبال اور حکومت کی پے درپے وضاحتوں کے باوجود اِن کی تسلی نہیں ہورہی۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک اعتراض کرتے ہیں کہ اگر پہلے کے پی کے میں صنعتی زونز، فائبر آپٹک ، ریلوے ٹریک نہ بنایاگیا توانہیں محض ایک سڑک قبول نہیں۔ وہ یہ دھمکی بھی دیتے ہیں کہ اس صورت میں یہ منصوبہ خیبر سے نہیں گزرے گا، ایک احتجاج پسند لیڈر کا پیروکار یہی بات کرسکتا ہے جبکہ اصل بات یہ ہے کہ ابھی صنعتی زونز، ٹریکس اور فائبر آپٹکس تو کسی بھی صوبے میں نہیں بن رہے، یہ تو مرحلہ وار ہر صوبے میں بنیں گے، پھریہ احتجاج کیوں؟ خود موصوف کی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ ترقیاتی بجٹ کا صرف30%صوبے پر خرچ کیاگیا باقی 70%خرچ کرنے کی صوبائی حکومت میں استعدادِ کار ہی نہیں تھی۔اب تو خود چین کو کہنا پڑگیا ہے کہ اس منصوبے پر سیاست نہ کی جائے اورجو خدشات ہیں انہیں دور کیاجائے۔اوریہ بھی کہ یہ منصوبہ پورے پاکستان کاہے جسے چین اور پاکستان نے مِل کر مکمل کرنا ہے۔ سی پی ای سی سے جہاں پاکستان کے پسماندہ علاقے ترقی یافتہ ہوں گے، وہاں چین کے مغربی علاقے جو مشرقی علاقوں کی نسبت کم ترقی یافتہ ہیں، وہاں بھی تعمیر و ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

سی پی ای سی کے حوالے سے یہ تاثر بھی دیا جاتا ہے کہ جیسے چین پاکستان کو نقد46ارب ڈالر دے رہا ہے جو حکومتِ پاکستان کے خزانے میں جائیں گے اور پھر وفاقی حکومت اس کا بڑا حصہ پنجاب پر لگادے گی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب نے تو بڑا بھائی ہونے کے ناطے این ایف سی ایوارڈ کے تحت پچھلے پانچ سال میں اپنے حصے کے 55ارب روپے چھوٹے صوبوں کو دیدئے ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بیرونِ ملک دوروں پر وزیراعظم اپنے چھوٹے بھائی شہبازشریف کو ساتھ لے جاتے ہیں لیکن وفاقی حکومت کی دعوت کے باوجود اگر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ، وزیراعظم کے ساتھ جانا پسند نہ کریں تو۔؟ہم کیوں اس منصوبے کو متنازعہ بنائیں جب یہ ہمارے دُشمنوں کی نظرمیں کانٹے کی طرح کھٹکتاہے اور وہ چاہتے ہیں کہسی پی ای سی کسی صورت مکمل نہ ہو۔ وزیراعظم جو ایک تجربہ کار، مدبّراور معاشی ویژن رکھنے والے منتظم ہیں ،کو چاہیے کہ سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھ کر اس معاملے کو حل کریں۔سی پی ای سی کے حوالے سے جس کے جو بھی خدشات اور تحفظات ہیں ایک بار پھرمل بیٹھ کر ان کو ختم کیا جائے اور تمام صوبوں کو یقین دلایا جائے کہ ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق حصہ ملے گاتاکہ جو قوتیں اس منصوبے کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں، اُن تک یہ واضح پیغام جائے کہ پاکستانی حکومت، عوام اور اہلِ سیاست اس عظیم منصوبے پر ایک ہیں۔

مزید : کالم