عمران فاروق قتل کیس میں نیا موڑ

عمران فاروق قتل کیس میں نیا موڑ
 عمران فاروق قتل کیس میں نیا موڑ

  

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس اب نئے موڑ میں داخل ہو گیاہے۔ گرفتار ملزمان میں سے دو ملزموں محسن علی اور خالد شمیم کے مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ راولپنڈی کی عدالت میں دفعہ 164کے تحت دئیے گئے اعترافی بیان میں تسلیم کر لیا گیا ہے کہ انہوں نے ہی لندن میں ایم کیو ایم کے سینئر رہنما محمد انور کے کہنے پر ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کیا جس کے لئے الطاف حسین نے محمد انور کو ہدایات جاری کی تھیں۔ الطاف حسین نے اپنے کزن کے ذریعے انہیں 25ہزار برطانوی پاؤنڈبھی بھیجے تھے۔ ملزمان کا کہنا ہے کہ الطاف حسین ڈاکٹر عمران فاروق کو ایم کیو ایم کے لئے ’’خطرہ‘‘ سمجھنے لگے تھے، کیونکہ انہیں یہ عندیہ مل رہا تھا کہ عمران فاروق پارٹی میں اپنا ایک علیحدہ گروپ بنا رہے ہیں جس کے لئے وہ متحرک بھی ہو چکے ہیں۔اگرچہ مذکورہ دونوں ملزمان سمیت تیسرا ملزم معظم علی، جو محسن، خالد شمیم اور ملزم کاشف کا سہولت کار بتایا جاتا ہے، ایف آئی اے راولپنڈی کی تحویل میں اپنا جسمانی ریمانڈ گزارنے اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے 164کے اعترافی بیان کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر اب جیل جا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود اتنے اہم اور ہائی پروفائل کیس میں ملزمان کے وکلاء پُرامید ہیں کہ وہ اپنے سائلین کو بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے، جلد یا بدیر اُن کی ضمانت ہو گی اور وہ جیل سے باہر آ جائیں گے۔

قانونی ماہرین کے نزدیک بھی اس کیس میں بہت سے نقائص اور سقم موجود ہیں، جن کا یقیناًاس کیس کے نامزد ملزمان کو فائدہ پہنچے گا ۔ کیا حکومت یا ایف آئی اے کو ان نقائص کا علم نہیں؟مگر اس کے باوجود وہ اتنا اہم کیس رجسٹر کرنے کے بعد کیا یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ گرفتار ملزمان کو ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں سزا ہو سکے گی؟ ایف آئی اے ایک وفاقی تحقیقاتی ادارہ ہے جو وفاقی حکومت کے تحت کام کرتا ہے۔ا س کے ذمے تمام وفاقی اداروں سمیت امیگریشن اور بینکنگ فراڈ، غبن اور جرائم شامل ہیں۔ جعلی کرنسی اور جعلی ویزوں کے معاملات بھی ایف آئی اے ہی ’’ڈیل‘‘ کرتا ہے، جبکہ فوجداری جرائم جن میں قتل، ڈکیتی، اغواء وغیرہ شامل ہیں، پولیس ’’ڈیل‘‘ کرتی ہے، یعنی اس نوعیت کے تمام وقوعہ جات کے مقدمات یا ایف آئی آرز کا اندراج صرف پولیس کے پاس تھانوں میں ہو سکتا ہے۔ کسی بھی وقوعہ کی ایف آئی آر کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ایف آئی آر اُسی تھانے کی حدود میں رجسٹر ہو، جہاں وقوعہ کا سرزد ہونا پایا جائے۔

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا وقوعہ لندن میں سرزدہوا، اس لئے قانونی اور منطقی طور پر سمجھا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں اس کا اندراج کسی طرح بھی صحیح، درست اور مناسب فیصلہ نہیں۔ اگر اس بات کو بنیاد بنا لیا جائے کہ چونکہ پاکستان میں اس قتل کی منصوبہ بندی کی گئی، جیسا کہ محسن اور خالد شمیم کے مقامی مجسٹریٹ کے روبرو دئیے گئے 164کے اعترافی بیان سے ظاہر ہوتا ہے، تب بھی یہ ثابت کرنا ہو گا کہ قتل کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی۔ اس موقع پر ایف آئی اے راولپنڈی میں درج کی گئی ایف آئی آر کے برعکس یہ تضاد بھی سامنے آ رہا ہے جو ملزم محسن اور خالد شمیم کے بیان سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ عمران فاروق کے قتل کی ہدایات الطاف حسین نے اپنے ساتھی محمدانورکو دیں، یعنی اس کیس کا اہم حصہ یہ بھی ہے کہ قتل کے منصوبے کی تیاری کا عمل لندن میں شروع ہوا۔ اس لئے یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ’’منصوبہ بندی‘‘ پاکستان میں ہوئی۔ ویسے بھی قتل جیسے مقدمات کے اندراج کا اختیار صرف پولیس کو حاصل ہے۔ پرچہ درج کرنا ہی تھا تو سہولت کار معظم علی کی رہائش گاہ والے مقام کا تعین کر کے متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کرایا جا سکتا تھا۔

اگرچہ انسداد دہشت گردی کورٹ نے، جہاں اس اہم مقدمۂ قتل کی سماعت ہونی ہے۔ مقدمے میں نامزد کئے گئے نئے ملزمان الطاف حسین، محمد انور اور مختار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ہیں۔ خبر یہی ہے کہ انٹرپول کے ذریعے لندن میں تینوں مذکورہ ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔ اس اعتبار سے پاکستانی کورٹ میں مقدمے کا ٹرائل ہو گا، لیکن ’’ٹرائل‘‘ کے لئے جن ضروری وجوہات اور ثبوتوں کا ہونا قانونی طور پر ضروری ہے، وہ وجوہات اور ناقابل تردید ثبوت ایف آئی اے کی انویسٹی گیشن ٹیم کے پاس نہیں۔ اہم نکتہ تو یہی ہے کہ کسی بھی مقدمۂ قتل میں ’’ڈیڈ باڈی‘‘ کا ’’ریکور‘‘ ہونا اور اُس کا پوسٹ مارٹم ہونا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ پھر آلہ قتل، جس کے ذریعے موت واقع ہوئی ہو، چاہے اُس کی شکل کوئی بھی ہو، یعنی وہ چاقو ہو، خنجر، پسٹل، ڈنڈا یا کچھ اور، برآمد ہونا اور ’’مال مقدمہ‘‘ میں شامل ہونا ضروری ہوتا ہے، مگر اس مقدمے میں ایسی کوئی بھی چیز پوسٹ مارٹم رپورٹ سمیت ایف آئی اے کو دستیاب نہیں۔ عدالت نے اسی بنیاد پر ٹرائل کرنا ہوتا ہے اور مقدمے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ایسی صورٹ میں جبکہ کچھ بھی ایف آئی اے کے پاس نہیں۔ اس مقدمے کے مثبت نتائج کیسے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے ایف آئی اے میں درج ہونے والا یہ کیس نہایت کمزور ہے، جس کے نتائج نکلتے نظرنہیں آتے۔

مقدمے کے وہ مبینہ ملزمان جو ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش تیار کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ انٹرپول کے ذریعے انہیں گرفتار کر کے پاکستان لانا ہی جوئے شیر کے مترادف لگتا ہے؟ اگر پاکستان ممکنہ طور پر اس قتل کیس میں سکاٹ لینڈیارڈ کی مدد کرتا اور گرفتار ملزمان معظم علی، محسن اور خالد شمیم تک رسائی کے علاوہ انہیں مزید تفتیش کے لئے سکاٹ لینڈ یارڈ کے سپرد کر دیتا تو اس کیس کے حتمی نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ نے بھی ملزمان کی حوالگی کی کوئی درخواست نہیں کی۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ شاید سکاٹ لینڈ یارڈ کے پاس بھی اس کیس سے متعلق کوئی ایسے ٹھوس ثبوت یا شواہد موجود نہیں، جن کی بناء پر وہ ان ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ کرتی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انگلینڈ ہو یا پاکستان، عمران فاروق قتل کیس کا ٹرائل کہیں بھی ہو، کوئی نتیجہ نکلتا نظر نہیں آتا۔ کیا مقتول ڈاکٹر عمران فاروق کے اہل خانہ پاکستان ہو یا لندن، انصا ف سے محروم رہیں گے؟ یہ اہم سوال ہے جس کا جواب ضرور ملناچاہیے۔ چودھری نثار کو اُن سوالات پر روشنی ڈالنی چاہیے جو ہم نے اس کالم میں اٹھائے ہیں۔ قوم کا بھی حق ہے کہ انہیں ان سوالات کے صحیح جواب ملیں۔

مزید : کالم