والدین کا مقام،قرآن و سنت کی روشنی میں (2)

والدین کا مقام،قرآن و سنت کی روشنی میں (2)
 والدین کا مقام،قرآن و سنت کی روشنی میں (2)

  

(قرآن کریم )میں ارشاد ہے کہ اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا: ’’اف تنگ کر دیا تم نے ،کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ: مرنے کے بعد قبرسے نکالا جاؤں گا؟حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں (ان میں سے کوئی اُٹھ کر نہیں آیا) باپ اللہ کی دہائی دے کر کہتے ہیں: ’’ارے بدنصیب، مان جا، اللہ کا وعدہ سچا ہے‘‘۔۔۔مگر وہ کہتا ہے یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں۔۔۔(سورۃ الاحقاف آیت17)۔۔۔ قرآن کریم کے اس حکم کے تحت اولاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ جائزہ لے کہ میری ذمہ داری کیا ہے ،اگر ماں باپ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے تووہ جانیں اور ان کا رب،لیکن اجتماعی زندگی کے لئے یہ بہت بڑی وصیت اور نصیحت ہے کہ ہر شخص اپنی ذمہ داری پوری کرے یہ نہ دیکھے کہ دوسرے نے میرے ساتھ کیا کیا ہے اور اگر ہر مذہب کا پیروکار اور ہر چھوٹا بڑا اس پر عمل کرے تواس کی زندگی سہولت اور آرام سے گزرتی ہے ۔ سعادت مند آدمی اللہ کے حقوق بھی ادا کر تا ہے اور والدین کے حقوق بھی اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو نعمتیں دی ہیں، ان کا بھی شکرادا کرتا ہے اور ان کے ساتھ ان نعمتوں کا بھی شکربجا لاتا ہے جو اللہ کی طرف سے ان کے والدین کوعطا کی گئیں ، والدین کے واسطے سے بھی اولاد کو نعمتیں حاصل ہوتی ہیں اور بہت سی نعمتیں والدین سے منتقل ہو کر اولاد کو ملتی ہیں۔ اہلِ ایمان کے لئے اللہ کا یہ حکم ہے کہ والدین کے ساتھ ایسی کوئی بات نہ ہو جس سے ان کو نفرت ہواوروہ ناراض ہوتے ہوں ،ان کی طبیعت پر گراں گزرے، یعنی کوئی ایسی حرکت ،کوئی کام ،کوئی فعل جو والدین کو ناپسند ہو وہ نہ کرو۔

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا بار بار تذکرہ آیا ہے۔ والدین کا بڑا مقام ہے اور یہ مقام اللہ نے خودطے کر دیا ہے۔ والدین حسن سلوک و آداب واحترام کے سب سے زیادہ حق دار ہیں ۔حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یار سول اللہ ﷺ میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے ؟فرمایا کہ تیری ماں، پھر پوچھا اس کے بعد کون، فرمایاکہ تیری ماں، پھر پوچھا اس کے بعدکون ،آپؐ نے فرمایا تیری ماں۔ انہوں نے پھر پوچھا ماں کے بعد کون، آپ ؐ نے فرمایا کہ تیری ماں ۔پوچھا اس کے بعد کون، آپ ؐ نے فرمایا تیرا باپ۔۔۔ (بخاری)۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی نبی اکرم ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی، آپ ؐ نے ان سے دریافت فرمایا کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں، انہوں نے کہاجی ہاں، آپ ؐ نے فرمایا کہ پھر انہی میں جہاد کر و(یعنی ان کی خدمت کروانہیں خوش رکھنے کی کوشش کرو)۔(بخاری)

والدین کے لئے بھی رسول اللہ ﷺنے ہدایات دیں اور اولاد کے لئے اس عظیم نعمت سے آگاہ فرمایا، حضرت سعید بن العاصؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ ماں باپ نے اپنی اولاد کو کوئی عطیہ اور تحفہ حسن ادب اور اچھی تربیت سے بہتر نہیں دیا۔نیک اولاد دُنیا میں بڑی نعمت ہے ، آنکھوں کی ٹھنڈک اورآخرت کے لئے صدقہ جاریہ ہے، لیکن یہی اولاد اخلاقی اوردینی قدروں سے بیگانہ ہو تو خمیازہ والدین کو ہی بھگتنا ہوتا ہے، اس لئے ابتداء سے ہی والدین بہتر تدابیر اختیار کریں، ابتداء سے ہی اولاد کی دینی تربیت کی فکر کریں۔رسول اللہ ؐ کا فرمان ہے کہ بچے کو والدین کاپہلا بہترین تحفہ اس کا نام ہے، اس لئے اچھانام رکھئے جس کامعنی و مفہوم اچھا ہو ۔غیر اسلامی اور غیر شرعی نہ ہو۔بچہ بولنے لگے تو اس کی زبان کا افتتاح اللہ کے نام اور کلمہ طیبہ سے کراؤ۔ رسول اللہﷺ نے ماں باپ کو اولاد کی تربیت کے بارے میں کس قدر حساس رہنے کی تلقین کی ہے اور فرمایا کہ کسی باپ نے اچھی تربیت سے زیادہ اچھا تحفہ اپنی اولادکو نہیں دیا ۔اولاد کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے ۔ اہلِ ایمان کے لئے اولاد کی تربیت دینی فریضہ ہے، والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ بیٹے ،بیٹی کو مروجہ تعلیم دلائیں اور دینی تعلیم کا بھی بندوبست کریں ۔علم ہی وہ دولت ہے، جس سے انسان کی صلاحیتیں اجاگر ہوتی ہیں اور وہ انسانیت کے زیورسے آراستہ ہوتا ہے ۔

اولاد کی خوش بختی ہے کہ وہ اپنے والدین کی خدمت کرے، وہ دُنیا سے رخصت ہو جائیں تو ان کے لئے مغفرت کی دعا کرے ،اولاد کے نیک اعمال والدین کی بخشش اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتے ہیں۔والدین کی رضامندی میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہوتی ہے۔ والدین کے لئے نیکی کی یہ عظمت ہے کہ حضرت حارث بن نعمانؓ اپنے والدین کے لئے قرآن پڑھتے تھے۔ رسول اللہ ؐ نے بحالت خواب ان کے قرآن پڑھنے کی آواز جنت میں سُنی۔ والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے سے اللہ تعالیٰ کاکتنا قرب ملتا ہے۔وَ اخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ۔۔۔۔’’نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جْھک کر رہو‘‘۔یعنی کمال تواضع، عاجزی ،انکساری اور شفقت کاان سے برتاؤکیا جائے۔ والدین کے لئے تواضع ازراہ شفقت فرض ہے نہ ازراہ عارو ننگ ۔بعض نادان سمجھتے ہیں کہ والدین کو روٹی کپڑا دو تاکہ لوگ طعنہ نہ دیں کہ فلاں اپنے والدین کا نافرمان ہے: ان کا خیال نہیں رکھتا، لیکن بعض اس عاروننگ سے بچنے کے لئے والدین کی واجبی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ والدین کی خدمت ،تواضع ازراہ شفقت محبت کرو اور والدین کے لئے دُعا کرو کہ اے میرے رب توان دونوں پر رحم کر، جیسے ان دونوں نے مجھے پرورش کیا، حالانکہ مَیں چھوٹا تھا ۔

اس تحریر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلام میں ماں باپ کا درجہ ،حیثیت اور مقام کیاہے اور اولاد کو والدین کے ساتھ قرآن وسنت کی روشنی میں کس طرح پیش آناچاہئے، نیز رشتوں ناطوں کو ملانے کی تاکید کی گئی ہے اور ان کو توڑنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ سب رشتے محض والدین کے سبب معرض وجود میں آتے ہیں جن کے ساتھ اچھا تعلق، سلوک اور میل ملاپ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ۔اس سے والدین کے ساتھ نیک سلوک بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کتنے گنازیادہ حسن سلوک ، اطاعت اورفرمانبرداری کے مستحق ہیں ۔اہلِ ایمان کے لئے خاندان کا نظام ہی پوری امت کے لئے مضبوط استحکام کا باعث اور بے دینی ،بد تہذیبی کے مقابلہ میں مضبوط دفاعی نظام دیتا ہے ۔(ختم شد)

مزید : کالم