فرقہ وارانہ جنگیں مسلم اُمہ کے لئے بڑا خطرہ

فرقہ وارانہ جنگیں مسلم اُمہ کے لئے بڑا خطرہ

گزشتہ دنوں سعودی عرب کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے وزیراعظم نوازشریف اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقاتیں کیں اور ان سے اسلامی ممالک کے 34 رکنی اتحاد کی حمایت اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں یقین دہانیاں حاصل کیں۔ اس وقت مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک فرقہ وارانہ خانہ جنگی کا شکار ہیں، جن میں عراق، شام اور یمن بہت نمایاں ہیں۔اس خانہ جنگی کی جڑیں بہت گہری ہیں، جن کی راہ ہموار کرنے کے لئے عرب کی تیل سے مالا مال ہستیوں، امریکہ اور شہنشاہ ایران کے معزول ہونے کے بعد کے ایران نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

سعودخاندان کئی دہائیوں سے سعودی عرب پر حکومت کر رہا ہے اور سعودی حکمران عقیدے کے لحاظ سے سلفی (حنبلی) ہیں ، جبکہ تین عرب ممالک شام، عراق اور یمن کی اکثریت اہل تشیع اور سنی مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ عرب سے جڑا ہوا ایران اہل تشیع کی بھاری اکثریت پر مشتمل ملک ہے۔ شاہ ایران کے دور میں اکثریتی عوام کے عقیدے کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی،جبکہ انقلاب ایران کے بعد شیعہ علماء نے اقتدار سنبھال لیا توانہوں نے نہ صرف اپنے عقائد پر بھرپور توجہ دی، بلکہ عرب ممالک میں اہل تشیع کی حمایت بھی شروع کر دی۔ سعودی حکومت نہ صرف اپنے مُلک میں اپنے عقیدے کو مضبوط رکھنے کے لئے کام کرتی ہے،بلکہ دیگر ممالک میں اہل حدیث عقائد پھیلانے اور اپنے عقائد کے دینی مدارس کی بھی مدد کرتی ہے۔ سعودی عرب کے بعد یہ سلسلہ ایران نے بھی شروع کر رکھا ہے۔ ملکوں کی اس لڑائی میں باہمی دہشت گردی ایک بڑے عنصر کے طور پر شامل ہو چکی ہے، جس کے سینکڑوں مناظر پاکستان میں بھی دیکھے گئے ہیں۔ سنی مسجدوں اور امام بارگاہوں میں بم دھماکے اس کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں۔ پاکستان ایک سنی اکثریت کا مُلک ہے اور پاکستان میں سنی اور شیعہ عقائد کے لحاظ سے ایک دوسرے کے قریب سمجھے جاتے ہیں ،جبکہ دیو بندی اور اہل حدیث بھی ایک دوسرے کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستان کے عوام کی ذہانت کو سلام پیش کرنا چاہئے کہ وہ بار بار فرقہ وارانہ دہشت گردی کا شکار ہوئے، لیکن انہوں نے دہشت گردوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنا دیا اوران دہشت گردیوں کے نتیجے میں خانہ جنگی کی طرف جانے سے انکار کر دیا۔ یہ پاکستانی عوام کی وہ فہم و فراست ہے، جس کا مظاہرہ عراق، شام اور یمن میں نہیں کیا جا سکا۔ خطہ عرب میں بحرین بھی شیعہ اکثریت کا ملک ہے،لیکن وہ سنی حکومت کے خلاف خانہ جنگی کا شکار نہیں ہوئے اور اُمت کے وسیع تر مفاد میں عقل و شعور کا ثبوت دیا۔ عرب ممالک ، خصوصاً سعودی عرب میں امریکہ کی جڑیں بہت گہری ہیں اور ان ممالک کی تیل کی پیداوار پر امریکہ کا غلبہ ہے۔ امریکی اسلحہ کے خریدار بھی سب سے زیادہ عرب ممالک ہی ہیں۔ امریکہ جو پوری دُنیا میں جمہوری نظام کا سب سے بڑا چمپئن سمجھا جاتا ہے، عرب ممالک میں وہ بادشاہت کو سپورٹ کرتا ہے، کیونکہ اس کا بہترین مفاد اسی پالیسی میں مضمر ہے۔ امریکی ایک بادشاہ یا ایک شہزادے سے بات کر کے اپنے 100 فیصد مقاصد حاصل کر لیتے ہیں،جبکہ کسی جمہوری پارلیمان کی موجودگی میں وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ مسلم ممالک میں فرقہ وارانہ لڑائی بھی امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے، کیونکہ اس لڑائی کی موجودگی میں کسی بھی مسلم ملک میں قومی اتحاد کی کوئی صورت پیدا نہیں ہو سکتی، کیونکہ اگر کسی بھی مسلم مُلک میں قوم آپس میں اتحاد کرلے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اختیار کر لے تو اس سے نہ صرف بادشاہتوں کو خطرہ ہو گا، بلکہ امریکی مفادات بھی خطرے کی زد میں آ جائیں گے۔

در اصل امریکہ اور عرب ممالک کے بادشاہ ایک کنٹرولڈ فرقہ وارانہ لڑائی کے حامی ہیں ،جسے جب چاہیں بڑھائیں اور جب چاہیں کم کریں، لیکن اس بار ایسا ہوا نہیں۔ عراق میں صدام حسین کی آمریت ختم کرنے کے لئے امریکہ اور بعض عرب ممالک نے شیعہ اکثریت کے لیڈروں کو استعمال کیا، اس کے نتیجے میں عراق میں ایک شیعہ حکومت معرض وجود میں آ گئی، جس نے ایران سے دوستی کر لی۔ شام میں بشار الاسد کو ہٹانے کے لئے امریکہ اور بعض عرب ممالک نے داعش کو استعمال کیا، لیکن جب داعش نے امریکی مفادات اور بعض عرب ممالک کے مفادات پر حملے شروع کر دیئے تو امریکہ داعش کا مخالف بن گیا اور وہ عرب ممالک بھی داعش کے مخالف ہو گئے، کیونکہ داعش نے اپنی جڑیں ان عرب ممالک میں بھی پھیلاناشروع کر دیں۔ جب یمن میں بغاوت ہوئی اور سعودی عرب نے یمن پر ہوائی حملے شروع کئے تو وزیراعظم نے پاکستان سے فوج بھیجنے کی سعودی درخواست کے باوجود سعودی دباؤ کا بہت خوبصورتی سے مقابلہ کیا اور پاکستان کو کسی فرقہ وارانہ آگ میں جھونکنے سے گریز کیا۔ اس کی پہلی وجہ تو یہ تھی کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ مُلک ہے اور اس کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ نواز شریف کی حکومت پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں چاہتی۔ اب جبکہ پاکستان کو ایسے ہی دباؤ کا سامنا ہے تو وزیراعظم نے سعودی وزراء کو یقین دلایا کہ اگر سعودی عرب کی سالمیت کو کسی جانب سے خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان اس کی بھرپور مدد کرے گا۔ وزیراعظم اور پاکستانی قیادت یہ اچھی طرح جانتی ہے کہ ایران کبھی سعودی عرب پر حملہ نہیں کرے گا ، اس طرح سعودی سالمیت کی حفاظت کے لئے ان کا وعدہ عملی صورت اختیار نہیں کرے گا۔ وزیراعظم نواز شریف نے سعودی وزراء کے ہاتھوں یہ پیغام بھی بھیجا ہے کہ اگر سعودی عرب چاہے تو پاکستان ایران اور سعودی عرب میں مصالحت کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ وہی بات ہے جس کا مطالبہ اپوزیشن کے لیڈر بھی کر رہے ہیں۔ بہرحال یہ بغاوتیں اور دہشت گردی بادشاہت والے ممالک میں جمہوریت کی جانب سفر کا ایک ارتقائی عمل ہے جبکہ فطرت کے اس سفر کو تشدد،ریاستی طاقت اور دہشت گردی سے نہیں روکا جا سکتا۔ منزل کی جانب اس سفر میں صرف تاخیر ہو سکتی ہے، لیکن اس ارتقائی عمل کو روکنے کی کوششوں میں صرف تباہی اور بربادی چھپی ہوئی ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...