او آئی سی کا اگلا اجلاس!

او آئی سی کا اگلا اجلاس!
او آئی سی کا اگلا اجلاس!

1990-91ء کی پہلی خلیجی جنگ میں بھی امریکیوں نے عیاری اور مکاری سے کام لے کر سعودی عرب کو عراقی حملے سے بچانے کے بہانے ریاض میں ایک بڑی کولیشن فورس اکٹھی کر لی تھی۔ پاکستان نے بھی اپنا ایک پنج ہزاری فوجی دستہ اس جنگ میں صدام حسین کے خلاف بھیجا تھا۔ اس آپریشن ’’ڈیزرٹ سٹارم‘‘کا ٹیکٹیکل مقصود تو سعودی عرب کو صدام حسین کے حملے سے ’’بچانا‘‘ تھا۔ لیکن صدام بھی بہت بے وقوف تھا۔ا سے خیال نہ آیا کہ کہاں امریکہ اور کہاں عراق؟۔۔۔ فروری 1991ء میں صرف چار دن کی لڑائی نے عراقی ٹینک ڈویژنوں اور انفنٹری ڈویژنوں کو ادھیڑ کر ر کھ دیا۔ بش سینئر نے اس وقت بغداد پر قبضے کی آپشن منظور نہ کی اور یوں صدام کو ایک اور عشرہ مل گیا۔ جو کام باپ سے 1990-91ء میں نہ ہو سکا وہ بیٹے نے 2003ء میں انجام کو پہنچایا اور فارسی کی اس ضرب المثل کو معنوی اعتبار سے مجسم کر دیا:اگر پدرنتواند، پسر تمام کنند۔۔۔۔بش سینئر نے 1990-91ء کی پہلی خلیجی جنگ کو ادھورا چھوڑ دیا تھا جسے ان کے فرزندِ ارجمند بش جونیئر نے 2003ء میں ’’پورا‘‘ کر دیا!

اس پہلی خلیجی جنگ کا سٹرٹیجک مقصود صدام کی اس فوج کو برباد کرنا تھا جو مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی ملٹری پاور کے توازن کو درہم برہم کرنے کے امکانات رکھتی تھی۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ نے اس جنگ میں تل ابیب میں اپنی ایک ایشیائی آؤٹ پوسٹ کو مضبوط کر دیا تھا۔ ایک اور ثانوی فائدہ امریکیوں کو یہ بھی ہوا کہ تیل کی خرید کے وہ امریکی لیجر جن میں سعودی تیل کی درآمدات کی تفصیل درج تھی اور جو کئی بلین ڈالر کے سعودی کریڈٹ سے اَٹ گئے تھے، وہ اس جنگ نے نہ صرف ’’صاف‘‘ کر دیئے بلکہ الٹا Debet میں چلے گئے!

اب ایک بار پھر امریکہ اپنے درآمدی لیجروں میں سعودی کریڈٹ کو صفر کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے اس کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح ایران۔ سعودی تنازعہ، سرد کشیدگی سے نکل کر گرم جنگ کی صورت اختیار کر لے تاکہ ایک ہی تیر سے دو شکار کر لئے جائیں۔۔۔ ایک یہ کہ سعودیوں کے وہ اسلحی ذخیرے جو امریکی اور دوسرے مغربی ممالک کے بھاری ہتھیاروں سے بھرے ہوئے ہیں، ان کو تباہ کر دیا جائے اور دوسرے ایران کی جوہری اور میزائلی استعداد پر کاری ضرب لگا کر اسرائیلی آؤٹ پوسٹ کے لئے پہلے کی طرح میدان صاف کر دیا جائے۔ لیکن ایران ایسی غلطی کبھی نہیں کرے گا۔۔۔۔ وہ سعودی عرب پر کبھی حملہ نہیں کرے گا۔ ایک شیخ نمر النمر کی جگہ اگر دس باغی شیعہ شیوخ کے سر بھی سعودی تلواروں سے قلم کر دئے جائیں گے تو پھر بھی ایران اپنے اصل دشمنوں (اسرائیل اور امریکہ) سے غافل نہیں ہو گا۔۔۔۔ ایران کا فوکس ریاض نہیں، تل ابیب اور واشنگٹن ہے۔ اگرچہ کل اوباما نے اپنے آٹھویں(اور آخری) سٹیٹ آف دی یونین ایڈریس میں امریکہ کو دُنیا کی واحد سپر پاور کا خطاب خود ارزانی فرما کر خودستائی کی ایک اور ’’روشن مثال‘‘ قائم کر دی ہے لیکن ایران کا نہائی ہدف پھر بھی واشنگٹن (اسرائیل) ہی رہے گا اور وہ اپنے ’’مرگ بر امریکہ‘‘ کے نعرے پر کار بند رہے گا۔

ہمارے مشیر امور خارجہ نے یہ بیان دے کر پاکستانی سوادِ اعظم کی ترجمانی کر دی ہے کہ پاکستان اپنے فوجی بوٹ(Boots) کسی غیر ملکی سرزمین پر نہیں اتارے گا اور 34 اسلامی ممالک کا وہ اتحاد جو سعودیوں نے ’’عسکری اتحاد‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے اور اس میں پاکستان کا نام بھی شامل کر دیا ہے تو اس کا مطلب ایران۔ سعودی تنازعے میں پاک فوج کے دستوں کو سعودی عرب کے حق میں اور ایران کے خلاف استعمال کرنا نہیں، بلکہ ان کو دہشت گردی کی لعنت کے خلاف میدان میں اتارنا ہے۔

دو روز قبل اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی خارجہ امور کی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ہمارے مشیر خارجہ نے یہ نوید بھی سنائی کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تمام باتوں پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور پاکستان دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لئے سعودی عرب کے ساتھ صرف جاسوسی اطلاعات و معلومات ہی شیئر کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دو روز بعد 16جنوری 2016ء کو جدہ میں OIC کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے۔ پاکستان اس اجلاس میں دونوں ممالک (ایران اور سعودی عرب) کے مابین کشیدگی کم کرنے اور دونوں کو پُرامن رہنے کے لئے چند اہم تجاویز پیش کرے گا، جن سے ایران۔ سعودی اضطراب (Tension) کم ہو جانے کی توقع ہے۔

ویسے تو پاکستان کو کسی بھی ہمسایہ ملک سے تعلقات کشیدہ نہیں رکھنے چاہئیں، لیکن بھارت کے ساتھ ہمارے باہمی تعلقات کی نوعیت کا تعلق تشکیلی اور طبیعی وجوہات کے سبب دشمنانہ رہا ہے اور آج بھی ہے۔ افغانستان نے ہمارا ہمسایہ اور برادر ملک ہونے کے باوجود ہمارے اس دشمن سے دوستی کر کے خود کو ہمارا دشمن بنا لیا ہے یا ہم اس سے دشمنی پر مجبور ہو گئے ہیں۔۔۔۔ ہمارا تیسرا بڑا ہمسایہ ایران ہے۔ اگر ایران اور سعودی عرب کے تعلقات، عرب و عجم کے تعلقات کی قدیم بیگانگی سے آگے نکل کر مزید بیگانہ ہو چلے ہیں تو ہمیں چاروں اطراف میں دشمنوں میں گھر جانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہئے۔ پاکستان نے سعودیوں کو یہ یقین دہانی کروا کر مدبرانہ زیرکی کا ثبوت دیا ہے کہ اگر ان پر کسی طرف سے حملہ ہوا تو پاکستان کی شمشیر، حملہ آور کے خلاف فوراً بے نیام ہو جائے گی۔ لیکن محض حملے کے خطرے کو Pre-empt کرنے کے لئے ہم اپنی فوج سعودی عرب بھیج کراپنے تیسرے ہمسائے کو اپنا دشمن نہیں بنا سکتے۔

پاک ایران تعلقات میں زیادہ گرم جوشی کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ جنوبی ایشیاء میں نہ صرف یہ کہ طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے، بلکہ پاکستان اور بھارت کے طاقتی ترازو میں چونکہ بین الاقوامی جوہری قوتوں کے باٹ بھی ڈال دئے گئے ہیں اس لئے عالمی عسکری قوت کی مساوات بھی تبدیل ہو چکی ہے۔ صد شکر کہ اس حقیقت کا ادراک پاکستان نے خوب کر لیا ہے اور ماضی کی روایات سے چمٹا رہنے کی روش ترک کر دی ہے۔ پہلے یمن کے خلاف اور اب ایران کے خلاف افواجِ پاکستان کے بوٹ(Boots) وطن سے باہر نہ نکال کر ہم نے اپنے سٹرٹیجک مفادات کو مستحکم کرنے کی روش اپنائی ہے جو قابلِ صد تحسین ہے۔ ایران اور پاکستان کا ریل اور روڈ لنک پہلے تو صرف زاہدان۔ نوشکی کے راستے سے منسلک تھا لیکن اب ایک اور ریل اور روڈ لنک گوادر۔ چاہ بہار کی صورت میں تشکیل ہونے جا رہا ہے۔گزشتہ اتوار ایرانی بلوچستان (سیستان) کا ایک وفد گوادر آیا ہوا تھا۔ اس ریل روڈ لنک پروگرام کو حتمی شکل دینے کے سلسلے کو مزید مربوط و مستحکم بنانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ایران سے ہم بلوچستان کے لئے 700میگاواٹ بجلی بھی حاصل کر رہے ہیں اور مزید 300 میگاواٹ کی درآمد کے لئے بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔

گوادر اور اس کے آس پاس کا علاقہ بڑی تیزی سے ڈویلپ ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی تجارتی توازن کی تبدیلی کا جو ادراک دُنیا کی بڑی طاقتوں کو آج ہو رہا ہے اس کا براہِ راست اثر پاکستان پر پڑ رہا ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ ہم اس اثر کے ثمرات کا اندازہ لگانے سے غافل نہیں۔ ایران۔ سعودی تنازعے میں پاک فوج کو غیر ملکی سرزمین پر نہ بھیجنے کا اعلان کر کے ہم نے اس عزم کا اظہار کر دیا ہے کہ مستقبل قریب میں جو اہمیت پاکستان کو عطا ہونے والی ہے اور اس کے جو دور رس فوائد پاکستانی عوام کو ملنے والے ہیں، ان کا شعور ابھی سے پاکستان کو ہو رہا ہے۔

گزشتہ ماہ (15دسمبر2015ء) سعودی عرب نے 34ممالک کے جس اتحاد(Alliance) کا اعلان کیا تھا اس میں عرب ممالک کے علاوہ کئی غیر عرب مسلم ممالک مثلاً ترکی، ملائیشیا، پاکستان اور افریقی ممالک بھی شامل ہیں۔اس عسکری اتحاد کا سربراہ سعودی عرب ہو گا اور اس کا ہیڈ کوارٹر بھی ریاض میں ہو گا۔

سطور بالا میں 16جنوری کوOIC کے جس ہنگامی اجلاس کا ذکر کیا گیا ہے اس میں پاکستانی تجاویز کو جو اہمیت دی جائے گی اس کو جاننے کے لئے ہمیں دو روز اور انتظار کرنا ہو گا۔ خیال ہے کہ دہشت گردی کے قلع قمع کے لئے اس ملٹری الائنس کا دائرہ عمل وسیع کیا جائے گا،اس کے خدوخال (Contours) متعین کئے جائیں گے، اس کی مالی سپورٹ کے سرچشموں کا فیصلہ کیا جائے گا،اس کے اجلاس کی باقاعدگی کا ٹائم شیڈول طے کیا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ اس کا مستقبل ’’پائیدار اور روشن‘‘ ہو۔ یہ نہ ہو کہ چند ماہ تک تو جوش و خروش دکھایا جائے اور پھر رفتہ رفتہ (یا اچانک) نشستند و خورد ند وبر خاستند کا وہی شیوہ اختیار کر لیا جائے جو اسلامی ممالک ہمیشہ سے کرتے چلے آئے ہیں۔ اگر اب اسلامی ممالک نے مغربی ممالک کے عسکری بلاکوں کی تشکیل، ان کی برقراری اور ان کی عسکری کارکردگی سے کچھ سبق حاصل کر لیا ہے تو اس کا ثبوت اس 34 اسلامی ممالک کے اتحاد کو فراہم کرنا ہو گا۔ البتہ اس کی پرفارمنس اور کامیابی کے گراف کا اندازہ مستقبل کے ماہ و سال ہی پر موقوف ہو گا!

دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...