قوم کیسے بنتی ہے؟

قوم کیسے بنتی ہے؟
 قوم کیسے بنتی ہے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انسانی ذات مادہ اور ذہن کا مرکب ہے مادی زندگی کی بقاء کیلئے ہمیں مادی وسائل جبکہ ذہنی وجود کی بقاء کیلئے ہمیں مابعد الطبیعاتی وسائل درکار ہوتے ہیں روٹی اور پانی جہاں انسان کے مادی وجود کی بقاء کے ضامن ہوتے ہیں وہاں عقائد اور مذاہب انسان کے ذہنی پیراڈائمز کو قائم رکھتے ہیں سوال یہ ہے کہ قومیں نظریات سے بنتی ہیں یا اوطان سے؟ برصغیر میں قیامِ پاکستان سے قبل اس اہم مسئلہ پر سیاسی نوعیت کی کافی بحث ہو چکی لیکن یہاں پر میرا مقصد اس سوال کا خالص منطقی جواب ڈھونڈنے کی کوشش ہے اگر نظریہِ پاکستان سے مراد اہلِ اسلام کے اسلامی تشخص کی بقاء ہے تو پھر ہند میں بسنے والا ایک بھی مسلمان پاکستان بننے کے بعد انڈیا میں رہنے کا اصولی طور پر حقدار نہیں ٹھہرتا کیونکہ پاکستان کا وجود ہی دراصل نظریاتی اور اہلِ اسلام کے اسلامی تشخص کی حفاظت ہے خیر اس بحث کو یہیں پر چھوڑ کر ہم آگے بڑھتے ہیں ۔مارکس کا کہنا ہے کہ مادہ اصل ہے اور ذہن اْسکی پریکٹیکل فارم، جب مادہ محفوظ نہیں رہے گا تو اذہان کی وجودیت فنا ہو جائے گی اس لئے انسانی کاوش کی توجہ مادہ پر ہونی چاہئے نہ کہ اذہان پر، آپ کا کہنا ہے کہ ذہین لوگ عوام کے اذہان مروجہ عقائد کے ذریعے ماؤف کرکے اْن کا مادی اور فطرتی استحصال کرتے ہیں اور خود ہر طرح کی سہولت سے لطف اندوز ہوتے،جبکہ جفاکش کو جہانِ آئندہ کی لامحدود آسائشوں کے سپرد کر دیتے ہیں بلاشبہ کارل مارکس ایک عظیم انسان تھے وہ صرف فلاسفر نہیں بلکہ اپنے سینے میں ایک غریب پرور دل بھی رکھتے تھے جبھی تو اقبال نے اْن کے متعلق یہاں تک کہہ دیا :

وہ کلیمِ بے تجلی وہ مسیحِ بے صلیب

نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب

جہانِ اسباب میں نظریات یا عقائد سے پیٹ نہیں بھرتا نظریہ اور عقیدہ کی اہمیت اپنی جگہ مسلم مگر نظریات یا عقائد کی بنیاد پر قانون سازی عالمگیر انسانی معاشرت کیلئے ایک انتہائی خطرناک فعل ہے کیونکہ جب عقائد کی بنیاد پر قانون سازی کی جائے گی تو عقائد مخالف افراد کیلئے اْس معاشرہ میں مکمل آزادی کے ساتھ رہنا ناممکن ہو جائے گا ایک ہی نظریات کے حامل افراد ایک نظریاتی گروہ تو کہلا سکتا ہے لیکن ایک مربوط قوم نہیں کیونکہ نظریات انسان کو متحرک کرتے ہیں چنانچہ تحریک کا انجام حصولِ اقتدار یا بغاوت کی راہ ہموار کرتا ہے پس اقتدار تک پہنچ جانے کے بعد بھی وہ نظریاتی گروہ ایک گروہ ہی رہتا ہے قوم نہیں بن جاتا قوم کا تعلق نہ تو عقائد سے ہوتا ہے اور نہ ہی وطن سے چنانچہ نظریہ یا مٹی سے اقوام نہیں بنتیں بلکہ خون یعنی نسل سے اقوام بنتی ہیں پس ہاشمی اور اموی ایک ہی قوم سے ہیں یعنی عرب، اسی طرح اقبال سری نگر کے سپرو براہمن تھے چنانچہ وہ مسلمان ہونے کے بعد بھی اپنی قوم پر فخر کرتے رہے اب اقبال کو پاکستانی کہیں یا ہندوستانی لیکن وہ قوم کے لحاظ سے بہرکیف سپرو ہی رہیں گے اب اس سے آگے کا نکتہ یہ ہے کہ ہر قوم کا تعلق ایک مخصوص تہذیب سے ہوتا ہے اور ہر تہذیب مٹی سے بنتی ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ قوم بھی مٹی یعنی وطن سے بنتی ہے چنانچہ راجپوت، چوہان، راؤ، سپرو، لوہانا وغیرہ خالص ہندوستانی قومیں ہیں ان سب کا تعلق براہ راست ہندو تہذیب و تمدن سے ہے پس چوہان اور ہاشمی مل کر اپنی ایک الگ ریاست تو بنا سکتے ہیں مگر ایک قوم نہیں بن سکتے کیونکہ ہاشمی عرب ہیں اور چوہان خالص ہندوستانی، مختلف اقوام کی بنیاد پر ایک ریاست تو بن سکتی ہے مگر ایک قوم نہیں کیونکہ قوم خون سے کھڑی ہوتی ہے نظریہ یا قانون سے نہیں یہی وجہ ہے کہ ایک آزاد ریاست میں نظریات یا عقائد کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی وہاں صرف اور صرف ایک شہری کے حقوق کے تحفظ کی اہمیت لابدی ہوتی ہے نظریات کا کیا ہے انسان اکثر جوانی میں آزاد خیال ہوتا ہے جبکہ بڑھاپے میں وہی آزاد خیال خدا خوفی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

نظریہ اور عقیدہ کبھی جامد نہیں ہوتا بے شک اسے جس قدر گرفت میں رکھا جائے کبھی نہ کبھی انسان یک رنگی سے اْکتا ہی جاتا ہے عین جوانی میں’’خدا کہاں ہے‘‘جیسے لادینیت پر مبنی ناول لکھنے والے دانشور بڑھاپے میں ’’درود شریف کے فضائل‘‘ لکھنے بیٹھ جاتے ہیں اس میں قطعاً کوئی قباحت ہے نا ہی مرجعِ استہزاء لیکن بات دراصل یہ ہے کہ نظریہ اصل نہیں ہوتا انسان کے خون میں جو تہذیب مرقع ہو جاتی ہے مرتے دم تک انسان اْسی تہذیب کا پرتو رہتا ہے چاہے وہ عرب سے ہندی یا سنسکرتی سے مدنی بن جائے اپنے اذہان پر غیر تہازیب لاد لینے سے آپ اپنے اصل سے کسی طور منقطع نہیں ہو سکتے چنانچہ آپ کنہیّا لعل سے غلام محمد تو بن سکتے ہیں لیکن خون میں رچی مرلی منوہر کی عقیدت بہرحال اْبل پڑے گی جب آپ شعور کی روشنی حاصل کر لیں گے پس اسی بنیادی حقیقت کے ادراک کے بعد مغربی دانشوروں نے ریاست کو مذاہب کے چنگل سے آزاد کر دیا کیونکہ مذہبی ریاستیں ایک مخصوص شخص یا نظریات کے گرد گھومتی ہیں جبکہ عوامی ریاستیں خالص عوامی رائے پر منحصر ہوتی ہیں جن میں انسانی جان، مال اور عزت تمام تر نظریات سے بالاتر ہوتی ہے چنانچہ یہی اصل مفہوم ہے سیکولرازم کا جسے رجعت پسند مافیا نے لادینیت سے معروف کر دیا۔

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ نظریات تحاریک وقوع پذیر کرتے ہیں مثال کے طور پر اسلام اور بدھ مت دو مختلف تحریکیں ہیں اسلام ایک خالص عربی تحریک ہے اور بدھ مت ایک خالص ہندو اصلاحی تحریک، اسلامی تحریک عرب قوم میں نمودار ہوئی تو بدھ مت ہندوؤں میں. دونوں تحاریک آج تک موجود ہیں لیکن کوئی بھی بدھ متی اسلام قبول کرنے کے بعد عربی بن جائے گا نہ ہی کوئی قریشی بدھ مت اختیار کرنے کے بعد ہندو، درآمد شدہ نظریات جس قدر بھی حقائق پر مبنی کیوں نہ ہوں آپ کو اپنی تہذیب سے بیگانہ نہیں کر سکتے شعوری یا لاشعوری طور پر انسان اپنی ہی تہذیب و تمدن کا پالنہار ہوتا ہے اور یہی عین فطرت ہے چاہے اسے منطق کی کسی بھی کسوٹی پر کیوں نہ پرکھ لیا جائے نظریہ، وطن اور قوم تین مختلف چیزیں ہیں جن میں زبردست بْعد پایا جاتا ہے نظریات کی بنیاد پر وطن بنتا ہے نہ ہی قوم،نظریات کی بنیاد پر جو کچھ بنتا ہے اْسے تحاریک کہتے ہیں جیسے اسلام، بدھ مت، بہائی مت، مارکسزم وغیرہ وغیرہ، رہا وطن کا معاملہ تو انسان کسی بھی ریاست میں رہ کر اْس کے آئین کی اطاعت کا عہد کرنے کے بعد اْس سے بغاوت نہیں کر سکتا چاہے وہ پاکستان ہو یا ہندوستان، نظریات یا مذاہب کی بنیاد پر بننے والی ریاستیں دنیا دیکھ چکی ہے کہ وہ ہر لحاظ سے یعنی اخلاقی، سماجی اور معاشی طور پر غیر متوازن، ظلم و استبداد اور منافقت پر مبنی ہوتی ہیں اگر ریاست کو نظریہ یا مذہب کا پابند کر دیا جائے تو وہ ریاست مخالف عقائد کے حامل شہری کیلئے جہنم سے کم نہیں ہوتی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک مذہبی ریاست مخالف مذہبی ریاست کی ہر لحاظ سے شدید مخالف ہوتی ہے جوکہ عالمگیر اخلاقی ضوابط کی خلاف ورزی کے مترادف ہے.

مزید : کالم