بھارت میں پاکستانی تاجروں ، فنکاروں اور کھلاڑیوں سے ناروا سلوک

بھارت میں پاکستانی تاجروں ، فنکاروں اور کھلاڑیوں سے ناروا سلوک
 بھارت میں پاکستانی تاجروں ، فنکاروں اور کھلاڑیوں سے ناروا سلوک

  

بھارت میں عدم برداشت نے ایک بار پھر سے سر اٹھانا شروع کردیااور پاکستان اور مسلمانوں کیخلاف ہونے والے نفرت انگیز واقعات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ بھارتی ریاست جھاڑکھنڈکے شہر دیرادون میں پاکستان، بھارت صنعتی نمائش ہو رہی تھی جہاں ہندو دہشت گرد تنظیم شیوسینا کے غنڈوں نے حملہ کرکے سٹال اکھاڑ دئیے اور پاکستان کیخلاف سخت نعرے بازی کی جبکہ پاکستانی تاجروں کو گیٹ بند کرکے یرغمال بنائے رکھا۔ شیوسینا کے غنڈوں نے انڈوپاک نمائش کے پینا فلیکس اکھاڑ دیئے اور نمائش کا نام تبدیل کرکے انڈو ایشیا کے فلیکس آویزاں کردئیے۔

اس سے قبل نومبر میں بھارت میں منعقد عالمی تجارتی میلے کے آخری روز پاکستان اور بنگلہ دیش کے تاجروں کے 99 سٹالز لگانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے مالکان کو 50,50 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا اور سامان ضبط کرلیا گیا۔ عالمی تجارتی میلے میں پاکستان کے تاجر 25 سال سے سٹال لگا رہے ہیں پاکستانی تاجر ’’وی اے ٹی‘‘ ڈیوٹی کی مد میں ہمیشہ سے ٹیکس دیتے آرہے ہیں۔ اس دفعہ بھی پاکستانی تاجروں نے ٹیکس ادا کیا تھا لیکن بھارتی حکومت نے بغیر پیشگی اطلاع کے نظام میں تبدیلی کی اور پھر غیر ملکی تاجروں کو اپنے نئے قواعدو ضوابط سے آگاہ بھی نہیں کیا۔ جس کے باعث پاکستانی اور بنگالی تاجروں کے پاس ’’پین کارڈ‘‘ نہیں تھا۔ اور وہ آن لائن رجسٹریشن نہیں کرواسکے۔ یہ تو بھارتی ٹریڈ آرگنائزیشن کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ غیر ملکی تاجروں کو نئے قواعد و ضوابط سے آگاہ کرتی۔ لیکن اس نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا۔ اس میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تاجروں کا کوئی قصور نہیں۔ بھارتی حکومت کو اپنی ٹریڈ آرگنائزیشن کو اس حوالہ سے مطلع نہ کرنے کی سزا دینی چاہئے تھی جبکہ بھارتی حکومت نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تاجروں کو 50 ہزار جرمانہ عائد کر کے ان کا سامان بھی ضبط کر لیا۔ جو سراسر زیادتی تھی۔

ایک اور اطلاع کے مطابق انٹراکشمیر ٹریڈ ایک بار پھر نئے تنازعہ کا شکار ہوگئی۔ آزاد کشمیر سے پِستہ گری اور ہربل کے مقبوضہ کشمیر جانے والے پانچ مال بردار ٹرکوں کو مقبوضہ کشمیر کے اسلام آباد ٹریڈ اینڈ ٹریول سنٹر پر تعینات کسٹم ٹی ایف او نے لینے سے انکار کرتے ہوئے لوڈ ٹرکوں کو واپس آزاد کشمیر بھیج دیا۔ تنازعہ کے باعث دونوں اطراف کے درجنوں ٹرک لائن آف کنٹرول کے آر پار کئی گھنٹوں تک پھنسے رہے۔ جمعہ کے روز آزاد کشمیر سے 9 مال بردار ٹرک مقبوضہ کشمیر گئے جن میں سے چار ٹرکوں میں پستہ گری اور ایک میں ہربل لوڈ تھی، کو مقبوضہ کشمیر کے اسلام آباد ٹرمینل پر تعینات کسٹم ٹی ایف او اور دیگر عملہ نے لینے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ یہ آئٹم دو طرفہ تجارتی لسٹ میں شامل نہیں جبکہ 2008ء سے شروع ہونے والی تجارت میں آج تک پستہ ڈرائی فروٹ میں مقبوضہ کشمیر جاتا تھا اور بھارتی حکام اسے ڈرائی فروٹ کے زمرے میں وصول بھی کرتے تھے۔ جمعہ کے روز بھارتی حکام نے اچانک اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے پستہ لینے سے انکار کردیا ۔ آزادکشمیر حکام نے ڈرائیوروں کے دونوں اطراف کئی گھنٹوں سے پھنسے ہونے کی وجہ سے لوڈ ٹرک لینے کی حامی بھری اور جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات دونوں اطراف سے ٹرکوں کی کراسنگ ممکن ہوئی۔ اس دوران بھارتی حکام نے آزاد کشمیر سے گئے ہوئے 9 ٹرکوں میں سے صرف چار ٹرک خالی کروائے اور پانچ لوڈ ٹرک واپس کئے۔بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا پاکستانی دانشوروں،کھلاڑیوں، فنکاروں کو کئی روز سے ہراساں تو کر ہی رہی ہے لیکن اب اس تنظیم کیخلاف نہ صرف بھارتی شہری اور ادیب میدان میں آ گئے ہیں۔ سابق بھارتی نیول چیف ایڈمرل ایل رام داس نے کہا ہے کہ شیوسینا جو کچھ کر رہی ہے اس سے سر شرم سے جھک گیا ہے۔

بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیم شیوسینا بے لگام ہوتی جا رہی ہے مگر اسکے پاکستان‘ اسلام اور انسانیت دشمن اقدامات پر مودی حکومت نے دانستہ چپ سادھ رکھی ہے۔ شیوسینا کی دہشت گردی نے پہلے خورشید قصوری کی کتاب کی رونمائی کرنیوالے انکے ہندو میزبان کے منہ پر سیاہی ملی۔ پھر پی سی بی کے چیئر مین شہر یار خان کی ملاقات منسوخ کروائی اور پاکستانی گائیک غلام علی کو پاکستان واپس دھکیلا اب پھران کے کولکتہ کے کنسرٹ کے موقع پر دھمکیاں دی گئیں دھمکیوں کے باوجود غلام علی نے پرفارم کیا اور داد پائی، سٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ دلت ہندوؤں کے بچوں کو مارا، آسٹریلوی جوڑے پر تشدد کیا۔ سکھوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کی اور اب پاکستانی فنکاروں کے پروگرام میں گھس کر سٹیج پر توڑ پھوڑ کی۔ پاکستانی فنکاروں کو سٹیج پر ڈرامے میں پرفارم کرنے سے روک دیا۔ شیوسینا کے ان شرمناک اقدامات پر بھارت کے ادیب اور مصنف تو پہلے ہی سراپا احتجاج تھے۔ اب سابق بھارتی نیول چیف نے بھی مودی کو کھلا خط لکھ کر اس کی مذمت کی ہے۔ رام داس نے شیوسینا کی غنڈی گردی کو سیکولر بھارت کے چہرے پر بدنما دھبہ قرار دیا ہے۔ بھارت کے اکثر ادیبوں اور فنکاروں نے احتجاجاً اپنے ایوارڈ حکومت کو واپس کر دیئے ہیں۔ اب بھارتی نغمہ نگار گلزار نے بھی اکیڈمی ایوارڈ احتجاجاً واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی شہریوں کی جانب سے مودی سرکار کی پاکستان مخالف مہم کیخلاف سوشل میڈیا کو بھی بروئے کار لایا جارہا ہے اور ٹوئٹر پر مودی کا منہ کالا کردیا گیا ہے۔اس سے قبل کہ بھارت انتہاپسندی کے ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے مودی سرکار شیوسینا کی دہشت گردی کا نوٹس لے ۔

مزید : کالم