مظاہرے، ٹریفک بلاک اور انتظامیہ کا کردار!نابینا افراد کو کون لایا؟

مظاہرے، ٹریفک بلاک اور انتظامیہ کا کردار!نابینا افراد کو کون لایا؟

نابینا حضرات نے دو روز تک میٹرو بس اور فیروز پور روڈ کی ٹریفک کو بری طرح متاثر کیا۔میٹرو بس بالکل بند رہی اور فیروز پور روڈ کے اردگرد سے لوگ گزرے اور بہت زیادہ مشکل پیش آئی۔ دو روز تک ان کو کچھ نہ کہا گیا، نابینا افراد کلمہ چوک میں ٹریک پر دھرنا دیئے بیٹھے رہے بالآخر پیمانہ صبر لبریز ہوا اور منگل کی شب پولیس کے سفید پوشوں نے زبردستی ان کو ہٹا کر ٹریفک بحال کرائی اور پھر مذاکرات شروع ہوئے جو اب تک ناکام ہی ہیں۔جہاں تک میٹروبس کا تعلق ہے تو اسے کم وقت میں روٹ پورا کرنے کے لئے خصوصی راستہ بنا کر دیا گیا ہے جو گجومتہ سے شاہدرہ تک ہے اور یہ راستہ محفوظ بھی بنایا گیا ہے تاہم مسلم ٹاؤن سے گجومتہ کے دوران جب کوئی احتجاج ہو تو مظاہرین اس سڑک پر آکر دھرنا دیتے اور مظاہرہ کرتے ہیں جو میٹرو کے لئے مختص کیا گیا ہے ، ایسا کئی بار ہو چکا ہے گزشتہ تین روز کے دوران پہلے ایک مزدور جاوید کے قتل پر مظاہرین نے بس سروس معطل کی اور فیروز پور روڈ کی ٹریفک بھی معطل کر دی۔ مقامی پولیس مظاہرین کو منانے اور ہٹانے میں ناکام رہی تو ریزرو جمعیت بلائی گئی پھر ہلکا لاٹھی چارج اور اس کے بعد مذاکرات کام آئے اور احتجاج ختم ہوا، نابینا افراد نے اپنے دیرینہ مطالبات منظور نہ ہونے پر احتجاج کیا، بعض بینا حضرات ان نابیناؤں کو میٹرو روٹ پر لے آئے تھے یوں میٹرو بھی معطل ہوئی اور فیروز پور روڈ پر بھی ٹریفک جام ہو گئی۔ یہ سلسلہ دو روز تک رہا، ہزاروں شہری پریشان ہوئے، مشکل سے ٹریفک بحال ہوئی۔یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے جبکہ مال روڈ پر فیصل چوک اور شملہ پہاڑی پر پریس کلب مظاہرین کا مرکز ہیں، جو لوگ بھی احتجاج کرتے ہیں ان کی بھاری اکثریت پہلے سے اعلان کرکے آتی ہے اور اپنے دکھ اجاگر کرنے کے لئے عوام کو پریشانی میں مبتلا کیا جاتا ہے ، یہاں انتظامیہ کا کردار عجیب ہے کہ جب مطالبات ہو رہے ہوں اور احتجاج کا بھی اعلان کیا جا رہا ہو تو اس طرف کوئی دھیان نہیں دیتا اور جب مظاہرین ٹریفک بلاک کرکے شہریوں کے لئے پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں تو پھر ہوش آتا ہے اکثر سختی سے کام لیا جاتا اور بات بھی بگڑ جاتی ہے جس کے بعد مذاکرات اور یقین دہانی کے ذریعے ہی مظاہرہ ختم کرایا جاتا ہے۔اس سلسلے میں یہ انتظامیہ کی سستی ہی کہلائے گی ہونا تو یہ چاہیے کہ جو بھی متاثر ہوں اور احتجاج کا اعلان کریں متعلقہ محکمے اور انتظامیہ پہلے ہی ان کے ساتھ بات چیت کرکے مسئلہ حل کرائیں تو شہریوں کی پریشانی کم سے کم ہو سکتی ہے۔ یہ انتظامیہ ہی کی ذمہ داری ہے کہ اگر متاثرین کے حوالے سے متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ حکام متحرک نہ ہوں تو یہ ان کو آگاہ کرکے بلائے تاکہ معاملہ احسن طریقے سے حل ہو اور عوام کی پریشانی بھی کم ہو جائے۔ جہاں تک نابینا افراد کے احتجاج کا تعلق ہے تو تعجب اس امر پر ہے کہ پولیس نے کارروائی کر کے ان کو ہٹا تو دیا، لیکن ان کو یہاں لانے اور یہ راستہ دکھانے والے بینا حضرات کو تلاش کر کے قابو نہیں کیا گیا۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...