مسلم اُمہ کے وسائل امن کے لئے خرچ ہونے چاہئیں

مسلم اُمہ کے وسائل امن کے لئے خرچ ہونے چاہئیں

وزیراعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان سے فوج مانگی اور نہ ہی بھجوائی جائے گی۔ پاکستان کی فوج صرف اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں بھیجی جاتی ہے،اس کے سوا کہیں فوج بھیجنے کی ہماری پالیسی ہی نہیں۔ مشیر خارجہ نے قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان34ملکی فوجی اتحاد میں باضابطہ طور پر شامل ہو چکا ہے۔ یہ اتحاد کسی خاص مُلک کے خلاف نہیں،سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو بھرپور جواب دیں گے۔ایران اور سعودی عرب میں کشیدگی کم کرانے کے لئے کردار ادا کر رہے ہیں، دونوں ملکوں کے تنازع میں فریق نہیں بنیں گے۔ او آئی سی اجلاس میں تجاویز دیں گے۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے بارے میں اسلامی ممالک کا اجلاس16جنوری کو جدہ میں ہو گا،جس کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم ہونے کا امکان ہے۔ شام کے تنازعہ کے حل کے لئے پُرامن مذاکرات کی بحالی کے حامی ہیں۔ سعودی عرب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے معلومات کا تبادلہ ہو گا۔ سرتاج عزیز نے بتایا کہ ملکی مفاد سامنے رکھ کر کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے، خارجہ امور کمیٹی نے فوجی اتحاد میں شمولیت کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔پاکستانی فوجی مُلک سے باہر کسی بھی جگہ بھیجنے کے متعلق سرتاج عزیز کی یہ وضاحت تسلی بخش قرار دی گئی ہے کہ پاکستانی فوج اقوام متحدہ کے زیر اہتمام امن مشنوں میں خدمات انجام دیتی ہے۔ اس کے سوا کہیں بھی فوج بھیجنا پاکستان کی پالیسی نہیں ہے، پاکستان جس متوازن پالیسی پر گامزن ہے موجودہ حالات میں اسے بہترین قرار دیا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران دونوں مسلم اُمہ کے رُکن ہیں اور اب اگر ان کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی ہے تو پوری اُمہ کا فرض ہے کہ وہ اجتماعی کوشش کرکے دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت کرا دے اور جو ممالک انفرادی طور پر یہ خدمت انجام دے سکتے ہیں، انہیں بھی آگے بڑھنا چاہیے۔ بعض غلط فہمیوں یا وقتی اشتعال کے باعث تعلقات میں جو رخنے آ جاتے ہیں اُن کا زیادہ دیر تک باقی رہنا مسلمان ملکوں کے اپنے مفاد میں نہیں۔ توقع ہے مسلمان ملکوں کا جو اجلاس جدہ میں ہو رہا ہے، وہ اس سلسلے میں بہتر راہِ عمل تجویز کرے گا پاکستان نے بھی اس اجلاس میں غور کے لئے تجاویز پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدقسمتی سے او آئی سی اِس سلسلے میں زیادہ کردار ادا نہیں کر سکی، اِس تنظیم کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اُمہ کے باہمی تنازعات میں موثر کردار ادا کر سکے اور عضوِ معطل بن کر نہ رہ جائے، او آئی سی اگر اسی طرح لنگڑی بطخ بنی رہے تو اِس تنظیم کا کوئی فائدہ نہیں۔

سعودی عرب اور ایران میں اگرچہ بہت سے اختلافات ہیں اور ان کا تعلق دونوں ملکوں کی عالمی خصوصاً مشرق وسطیٰ کے متعلق پالیسیوں سے ہے، لیکن تازہ تنازع کا آغاز سعودی عرب میں 47افراد کو سزائے موت دینے سے ہوا تھا، جن میں ایک شیعہ عالم نمر النِمر بھی شامل تھے، جو طویل عرصے تک ایران میں زیر تعلیم رہے، اُن کی بعض سرگرمیوں پر سعودی حکومت کو کئی سال سے اعتراض تھا،اِس لئے انہیں نظر بند بھی رکھا گیا تھا اور کئی سال تک اُن کے خلاف مقدمہ چلانے کے بعد اُنہیں موت کی سزا دی گئی تھی، جس پر عمل درآمد معطل تھا۔2015ء میں دہشت گردی کی کچھ ایسی پریشان کن وارداتیں ہوئیں جو اس سے پہلے کبھی سعودی عرب میں نہیں ہوئی تھیں۔ سعودی حکومت نے اِن واقعات کے بعد سزائے موت کے فیصلوں پر عمل درآمد کر دیا، جس پر تہران میں شدید ردعمل ہوا اور سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے کو آگ لگا دی گئی، جس کے بعد سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے،کئی خلیجی عرب ملکوں نے بھی سعودی عرب کی حمایت میں یہی اقدام کر ڈالا، تاہم اب اس انتہائی اقدام کے بعد مصالحت کی جو کوششیں شروع ہوئی ہیں توقع ہے کہ ان میں کامیابی ہو گی۔سعودی حکومت کے اقدام کے بعد بعض حلقوں نے ایران سعودی عرب تنازعے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی اور اسے مخصوص زاوئے اور عینک سے دیکھا، جس کے جواب میں سعودی علماء نے اپنے مُلک کے اندر جزا و سزا کے نظام کی وضاحت کی جو ظاہراً مخالفین کو تو چنداں مطمئن نہیں کر سکتا، تاہم اب تنازعات کو طول دینے سے کچھ حاصل نہ ہو گا اور اگر دونوں مسلمان مُلک اپنے وسائل جنگی تیاریوں میں جھونکتے رہیں گے، تو دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح و بہبود متاثر ہو گی۔ سعودی عرب دُنیا میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا مُلک ہے، ایران اِس لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔ تیل کی دولت اور گزشتہ عشروں میں اِس سے حاصل ہونے والے ڈالروں نے دونوں ملکوں کو اِس قابل بنایا کہ وہ اپنے عوام کا معیارِ زندگی بلند سے بلند تر کرتے رہے، اسی دولت کی وجہ سے دونوں ملکوں نے بیرونِ مُلک بھی اپنے سیاسی اور مذہبی اثرو رسوخ میں اضافہ کیا۔

اب تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں معتد بہ کمی ہو چکی ہے۔ عالمی منڈی میں جو قیمتیں ایک وقت میں120ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں اب وہ کم ہوتے ہوتے محض32ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہیں۔ پچھلے عشرے میں ایران پر عالمی پابندیاں بھی عائد رہیں، جس کی وجہ سے اس کے تیل کے خریدار کم رہ گئے، جو پابندیوں کے باوجود خریدتے رہے انہوں نے ادھار کا سہارا لے لیا اس طرح دونوں ملکوں کے وسائل کم ہو گئے، جس کی وجہ سے سعودی عرب میں پہلی بار عوام پر بعض ایسے ٹیکس لگائے گئے ہیں، جن کی اِس سے پہلے مثال نہیں ملتی، جو سہولتیں سعودی شہریوں کو حاصل تھیں ان میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ملازمتوں میں بھی مقامی لوگوں کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث کم ہونے والی آمدنی کا نتیجہ ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر دونوں مُلک کشیدگی کے راستے پر چلتے رہے اور مشرق وسطیٰ کی گھمبیر صورت حال سے نکلنے کی کوئی سبیل نہ کی تو خطے کی آگ میں دونوں کے پاؤں جلیں گے، اور اگر تیل کی محدود ہوتی ہوئی آمدنی جنگی تیاریوں میں جھونکی جاتی رہی تو جو عوام ایک مخصوص معیارِ زندگی کے عادی ہو چکے ہیں، اب اِس میں کمی ہو گی تو معاشرے میں بے چینی اور اضطراب کی لہریں اُٹھیں گی اِس لئے یہ ضروری ہے کہ دونوں مُلک اپنے تنازعات کے حل پر آمادہ ہوں اور پاکستان جیسے دوست مُلک جو کردار اِس سلسلے میں ادا کر رہے ہیں اُن کی آواز بھی سنی جائے۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے فوری بعد ایران پر عراق نے حملہ کر دیا تھا، اِس طویل جنگ میں بھی ایران کو وسیع جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا، عراق نے اِس حملے سے کیا حاصل کیا؟ صدام حسین ایران سے فارغ ہو کر اِس کے بعد کویت پر حملہ کر بیٹھے اور سعودی عرب جیسے مُلک جو ایران پر حملے کے وقت عراق کی حمایت کر رہے تھے، کویت پر حملے کے بعد عراق کے مخالف ہو گئے، امریکہ نے بھی کویت خالی کرانے کے لئے عراق پر حملہ کر دیا، پہلی خلیجی جنگ سے نڈھال ہونے کے بعد عراق کو دوسری جنگ کا صدمہ بھی سہنا پڑا اور اب یہ عالم ہے عراق کا چپہ چپہ لہولہان ہے، وسیع علاقے پر داعش قابض ہے اور باقی مُلک کو بھی تباہی کا سامنا ہے، ہزاروں لاکھوں لوگ مُلک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، بہت تھوڑے لوگ یورپی ملکوں میں پناہ حاصل کر سکے ہیں، شام کا عراق سے بھی برا حال ہے،لاکھوں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ابھی نہیں کہا جا سکتا کہ ان دونوں ملکوں کے عوام کی مصیبتیں کب ختم ہوں گی؟عالم اسلام کی یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ مسلمان ملکوں کی قیادت جاگے، ہوش کے ناخن لے، تدبر و دانش کا مظاہرہ کرے اور جو آگ چند ملکوں کو جلا کر راکھ کر چکی ہے اس کو پھیلنے سے روکا جائے، جو نقصان ہو چکا اس کے ازالے کی کوئی صورت نکالی جائے۔اگر تنازعات اسی طرح بڑھتے رہے تو جو حال چند عرب ملکوں کا ہو چکا وہی حال دوسروں کا بھی ہو سکتا ہے۔ اِن حالات میں تنازعات کو سمیٹنے کی ضرورت ہے، ورنہ سب کچھ بھسم ہو کر رہ جائے گا۔اس وقت دُنیائے اسلام میں کہیں کہیں امن کے جو جزیرے نظر آتے ہیں کشیدگی کی آگ وہاں تک بھی پہنچ جائے گی اور پھر اس کو بجھانے والے بھی کم پڑ جائیں گے۔ بہتر حل یہی ہے کہ تنازعات ختم کریں اور کشیدگی چھوڑ کر امن کا راستہ اختیار کریں۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...