پنجاب یونیورسٹی کی زبانی تاریخ مرتب کرنے کے سلسلے میں تیسری تقریب

پنجاب یونیورسٹی کی زبانی تاریخ مرتب کرنے کے سلسلے میں تیسری تقریب

لاہور( اپنے نامہ نگار سے ) پنجاب یونیورسٹی شعبہ باٹنی کے سابق پروفیسر (ر) ڈاکٹررضی عباس شمسی نے کہا ہے کہ ملک کے سیاسی حالات، وائس چانسلر ز کا ویژن اور مسائل کے خاتمے کیلئے اقدامات براہ راست یونیورسٹیوں کی تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔وہ وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر مجاہد کامران کی ہدایت پر یونیورسٹی کی زبانی تاریخ مرتب کرنے کے سلسلے کی الرازی ہال میں منعقدہ تیسری تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران، رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی،ڈین آف لائف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال قاضی، ڈاکٹر نعمانہ امجد،چیف لائبریرین حسیب احمد پراچہ، مختلف صدورِ شعبہ جات ، فیکلٹی ممبران اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے متعلق اپنی یادداشتیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ باٹنی اور زوالوجی کو کئی برسوں تک مسائل کا سامنا رہا ہے حتیٰ کہ ان شعبہ جات میں داخلہ لینے و الے طلبہ کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی عمارت میں موجود شعبوں میں پڑھایا جاتا تھا۔ جو دو کلاسز پر مشتمل بلڈنگ تھی۔ ان شعبہ جات کو 1963ء میں پنجاب یونیورسٹی میں شفٹ کیا گیا اور آنے والے پچاس برسوں تک کی سہولیات کی فراہمی کا خیال رکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 60ء کی دہائی میں پنجاب یونیورسٹی کی سیاست کا یہ حال تھا کہ اکیڈمک سٹاف ایسو سی ایشن تو تھی پر الیکشن نہیں ہوتے تھے اور طلبہ تنظیموں کے الیکشن میں لڑائی جھگڑوں کا یہ عالم تھا کہ کئی بار تو گولی بھی چل جاتی تھی۔انہوں نے کہا کہ شعبہ باٹنی سے سنٹر آف ایکسی لینس ان مالیکیولر بائیولوجی ، مالیکیولر بائیولوجی اینڈ مالیکیولر جنیٹکس اور ایم پی پی ایل جیسے شعبہ جات نے جنم لیا۔ انہوں نے کہا کہ 77ء میں ملک کے حالات کی طرح یونیورسٹی کے حالات بھی خراب تھے پھر مارشل لاء لگنے کے بعد یونیورسٹی میں سیاست زیادہ اور تعلیم کم رہ گئی یہاں تک کے سنڈیکٹ، اکیڈمک کونسل، ایڈوانسڈ سٹڈیز اور دیگر سرگرمیاں ختم نہ ہونے کے برابرہوگئیںیعنی ماضی میں وائس چانسلر ز حالات کو قابو میں رکھنے سے قاصر رہے۔ اس کے برعکس پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران کے چارج سنبھالنے کے بعد سے یونیورسٹی میں نہ صرف تعلیم وتحقیق کا کلچر پروان چڑھا ہے بلکہ سیاست میں بھی کسی حد تک کمی آئی ہے اور انفراسٹرکچر بھی بہت بہتر ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں وائس چانسلر سیاسی دباؤ اور سفارش کی بنا پر تعینات ہوتے رہے ہیں جبکہ ڈاکٹر مجاہد کامران پہلے وائس چانسلر ہیں جو سرچ کمیٹی کی سفارش پر آئے جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب اساتذہ وائس چانسلر ز سے ملاقات ہی نہیں کر سکتے تھے جبکہ ڈاکٹر مجاہد کامران نے اس کلچر کی حوصلہ شکنی کی جس سے اساتذہ میں خود اعتمادی میں اضافہ ہوا اور عزت نفس بحال ہوئی۔ تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان اساتذہ کیلئے ایسی تقاریب خاصی دلچسپ اور معلوماتی ہوتی ہیں لہذا انہیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ اپنے سینئرز کو سنیں اور سیکھیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4