کوئٹہ،پولیو سنٹر کے سامنے خود کش دھماکہ ،ایف سی اور پولیس اہلکاروں سمیت 14شہید ،24شدید زخمی

کوئٹہ،پولیو سنٹر کے سامنے خود کش دھماکہ ،ایف سی اور پولیس اہلکاروں سمیت ...

کوئٹہ،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن،صباح نیوز)کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاون میں پولیو سنٹر کے سامنے خودکش دھماکے میں 12سکیورٹی اہلکاروں سمیت14افراد جاں بحق اور 24شدید زخمی ہو گئے،زخمیوں کوسول ہسپتال منتقل کردیا گیا ، دھماکے سے قریبی عمارتوں اور دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ دوگاڑیاں مکمل تباہ ہو گئیں ۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاون میں حفاظتی ٹیکہ جات مرکز(پولیوسنٹر) کے سامنے والی روڈ پر کھڑی سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی کے قریب ایک زورداردھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 14افراد جاں بحق ہو گئے ، شہید ہونیوالوں میں12پولیس اہلکار ایک ایف سی اہلکا راور ایک راہ گیرشامل ہے ۔دھماکے کے فوری بعد رینجرز ، ایف سی ، پولیس اورامدادی ٹیموں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں اور زخمیوں سول ہسپتال منتقل کیا گیا ،سول ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ قریبی کھڑی دوگاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور دیگرکو نقصان پہنچا جبکہ دھماکے سے قریبی عمارتوں اور دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرلئے ۔پولیس کے حکام کے مطابق ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا یا ٹائم بم کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کواڑایا گیا ۔پولیس حکام کے مطابق دھماکہ پولیو سنٹر کے سامنے والی روڈ پر ہوا جہاں سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی پولیو سنٹر کے عملے کی حفاظت کیلئے کھڑی تھی ۔قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شرپسندوں کیخلاف سرچ آپریشن بھی شروع کردیا ہے ۔تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ میں تین روزہ پولیو مہم جاری تھی اور کچھ شرپسند عناصر پولیوٹیموں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں اوریہ دھماکہ انہی عناصر نے کیا ہے جو پاکستان کی ترقی وخوشحالی کے خلاف ہیں۔بتایا گیا ہے سکیورٹی اہلکاروں نے پولیو ٹیموں کے ساتھ مختلف علاقوں میں ڈیوٹی پر جانا تھا اور بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے تھے۔ سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دھماکہ خودکش ہونے کے امکانات موجود ہیں مگر اس حوالے سے مکمل تحقیقات کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جا سکے۔صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا پتہ کیا جارہا ہے ،ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خود کش نہیں تھا تاہم مزید تحقیقات کی جارہی ہے کیونکہ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ دھماکہ خود کش تھا ۔انہوں نے کہاکہ د ھماکہ پولیو سنٹر کے اندر بھی ہو سکتا تھا مگر پولیس اہلکاروں نے اسے ناکام بنایا ہے۔انہوں نے کہاکہ پولیس اہلکاروں نے اپنی جان دے کر عوام کی جان کا تحفظ کیا اور پولیو ورکرز کی جانیں بچائیں جس پر بلوچستان کے عوام کو فخر ہے۔انہوں نے کہاکہ شرپسند عناصر کیخلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی اور شرپسند قانون سے نہیں بچ سکتے۔صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دھماکے میں 7 سے 8 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، ادھر صدر، وزیر اعظم ، وزیرداخلہ سمیت دیگر سیا سی قائدین نے دھما کے کیمزمت کر تے ہو ئے واقعہ میں قیمتی انسا نی جا نو ں کے ضیا ع پر افسو س کا اظہا ر کیا ، وزیر اعظم نے اپنے بیا ن ملک سے دہشتگر دی کے نا سور کو ختم کر نے کے عزم کا ایک با ر پھر اعا دہ کر تے ہو ئے کہا کہ واقعہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے ،ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کر کے دم لیں گے،پاک فوج دہشت گردوں کو ان کے ٹھکانوں سے باہر نکال رہی ہے اور ملک سے دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کو ختم کیا جارہا ہے ،وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کے یہ حملہ ان کی بزدلانہ ذہنیت کا عکاسی ہے ،دیگر سیاسی قائدین نے بھی حملے کی مذمت کی ،علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کوئٹہ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آئی جی بلوچستان سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ادھر دھماکے کے بعد کوئٹہ جاری انسداد پولیو مہم سکیورٹی وجوہات کی بناء پر روک دی گئی ،پولیو مہم تیسرا دن جاری تھا۔

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) بلوچستان حکومت نے کوئٹہ میں خود کش بم دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاء کیلئے 10لاکھ روپے فی کس، شدید زخمیوں کو5لاکھ اور معمولی زخمیوں کو 50ہزار روپے دینے کا اعلان کر دیا۔ بدھ کو وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان کو صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سیٹیلائیٹ ٹاؤن خود کش دھماکے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کوئٹہ دہشت گردی کے واقعے میں ملوث عناصر اور سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

مزید : صفحہ اول