مسلمانوں کی بے عزتی کرنیوالے سیاستدان غلط کام کر رہے ہیں :اوبامہ

مسلمانوں کی بے عزتی کرنیوالے سیاستدان غلط کام کر رہے ہیں :اوبامہ

واشنگٹن (اظہر زمان ،بیوروچیف) امریکی صدر بارک اوبامہ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ہمیں ہرایسی سیاست کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے جو نسل یا مذہب کی وجہ سے لوگوں کو نشانہ بنائے۔ جو سیاست دان امریکہ کے اندر یا بیرون ملک مسلمانوں کی بے عزتی کرتے ہیں، کسی مسجد کو نقصان پہنچاتے ہیں یا مسلمان بچوں پر آوازے کستے ہیں وہ سراسر غلط کام کررہے ہیں۔ اس حرکت سے ہم زیادہ محفوظ نہیں ہوتے بلکہ دنیا کی نظر میں ہماری حیثیت کم ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کی شام کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے بطور صدر اپنے آخری ’’سٹیٹ آف یونین‘‘ خطاب کے دوران کہی۔ صدر اوبامہ وائٹ ہاؤس میں سات سال پورے کرچکے ہیں اور ابھی ان کے عہد ے صدارت کا ایک سال باقی ہے لیکن انہوں نے اپنے اس تاریخی خطاب میں سب باتیں ایک سابق صدر کے طورپر کیں۔ انہوں نے مخالف ری پبلکن پارٹی کے سب سے مضبوط امیدوار ڈونلڈٹرمپ کا نام لئے بغیر ان کے مسلمانوں کے خلاف بیانات پر مبنی سیاست پر سخت نکتہ چینی کی اور بالواسطہ اشارہ دیا کہ وہ انہیں وائٹ ہاؤس میں دیکھنا نہیں چاہتے۔ صدراوبامہ نے نائب صدر سینیٹ چیئرمین جوبائیڈن اور سپیکر پال رائن کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے اجلاس میں یاد دلایا کہ اسی ایوان میں پوپ فرانسس نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ظالموں اور قاتلوں کی نفرت اور تشدد کے سامنے اگر ہم بھی ان کی نقل شروع کردیں تو پھر ہم میں اور ان میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے۔ صدر اوبامہ نے امریکی شہریوں پر زوردیا کہ ایک ایسے وقت میں جب ہمیں داعش کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا ہے وہ مسلمانوں کی بے عزتی کرنے پر اکسانے والوں کی ٹھوس طریقے سے مزاحمت کریں۔ صدراوبامہ نے اپنے گزشتہ خطاب میں سارازور اپنے ایگزیکٹو آرڈرز پر دیا تھا تاہم اس مرتبہ ان کی تقریر ان بنیادی سوالات پر مرکوز رہی جو امریکی شہریوں کو درپیش ہیں جن میں مستقبل میں تمام شہریوں کو مواقع کی برابر فراہمی، ٹیکنالوجی میں تبدیلی سے فائدہ اٹھانے کے طریقوں، ملک کو محفوظ بنانے اور امریکہ کی ٹوٹی سیاست کو جوڑنے کی پالیسیاں شامل تھیں۔ انہوں نے کانگریس سے اپیل کی کہ وہ امریکی عوام کے مفاد میں ان کی شروع کی جانے والی پالیسیوں کی حمایت کریں جن میں کم ازکم اجرت میں اضافہ، امیگریشن قوانین پر نظرثانی اور گن کنٹرول کے مزید سخت ضوابط شامل ہیں۔ صدر اوبامہ نے کانگریس کوبتایا کہ ہم ملک کے اندر اور باہر ’’ایچ آئی وی یا ایڈز‘‘ کے خلاف جنگ جیت رہے ہیں اور ملیریا کے خلاف مکمل کامیابی کا امکان بھی پیدا ہوگیا ہے جن کے لئے اس سال کانگریس کو فنڈ فراہم کرنا ہوگا۔ انہوں نے گوانتاناموبے جیل کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ہم اسے جلدازجلد بند کرنا چاہتے ہیں جو اپنی افادیت کھوچکی ہے اور ہمارے دشمن اس جیل کی موجودگی کو ہمارے خلاف پراپیگنڈے کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے صدراوبامہ نے بتایا کہ اتحادیوں نے دہشت گردوں کے خلاف تقریباً دس ہزار فضائی حملے کرکے ان کا تیل، تربیتی کیمپ اور ہتھیار تباہ کئے ہیں اور ہم زمین پر ان فوجوں کو تربیت، ہتھیار اور دیگر امداد فراہم کررہے ہیں جو پیش قدمی کرکے داعش سے مقبوضہ علاقہ واپس لے رہی ہیں ۔ اگر کانگریس سنجیدگی سے چاہتی ہے کہ ہم یہ جنگ جیتیں تو وہ دنیا اور امریکی فوج کو یہ پیغام داعش کے خلاف امریکی فوج کو استعمال کرنے کی منظوری دے کر بھیج سکتی ہے ۔ کانگریس کو اس کے حق میں ووٹ دینا چاہئے۔ انہوں نے داعش کو تباہ کرنے کی اپنی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ وہ جب یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی کارروائیوں سے تیسری عالمگیر جنگ شروع کررہے ہیں تو وہ دراصل دہشت گردوں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔ صدراوبامہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اس زمین پر سب سے طاقت ور قوم ہے۔ اس لئے ہم نے اسے محفوظ بھی بنانا ہے اور عالمی پولیس مین بنے بغیر دنیا کی قیادت کی ذمہ داری بھی پوری کرنی ہے۔ دنیا ہمارے اسلحے یا فوجی طاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ ہماری کھلی پالیسیوں اور جمہوری اورانسانی حقوق کے حق میں اقدامات کی وجہ سے ہمارااحترام کرتی ہے۔ صدراوبامہ نے اپنے سات سالہ دور اقتدار کی ایک پرامید تصویر پیش کی اور بتایا کہ امریکی معیشت میں ترقی آئی ہے اور دنیا میں اس کی حیثیت میں بہتری ہوئی ہے تاہم وہ اپنے مقاصد کے حصول میں کمی کو بھی تسلیم کرتے ہیں، صدر اوبامہ نے اپنی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے عالمی مسائل کے حل کے لئے عالمی طاقتوں میں اتحاد اور یگانگت پیدا کرنے میں کردار اداکیا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کرنے میں کامیابی حاصل کی، کیوبا کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک تاریخی معاہدہ طے کرنے کے لئے مثبت کوششیں کیں اور ایبولا کی بیماری کو پھیلنے سے روکا۔ صدراوبامہ نے کہا کہ ہم ٹیکنالوجی میں آنے والی تبدیلیوں سے خوف زدہ نہیں ہوئے بلکہ ہم نے انہیں انسانی فلاح کے لئے استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوت ہماری روشن خیالی اور اخلاقیات پر مبنی ہے۔ ہم قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم ایجادات ، نئی دریافتوں اور بہتر تبدیلیوں کی طرف گامزن رہتے ہیں کیونکہ اسی طرح ہی ہم اپنی آئندہ نسل کو خوشحالی کی طرف لے کر جاسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ایک کروڑ چالیس لاکھ نئے جاب پیدا کئے ہیں جن میں گزشتہ چھ برس میں مینو فیکچرنگ کے شعبے میں تقریباً نو لاکھ نئے جاب شامل ہیں۔ ہماری بجٹ کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ ہم نے خسارے کو تین چوتھائی کم کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے لئے تعلیم کا حصول آسان بنادیا گیا ہے۔ قبل ازیں بارہ سال کی پڑھائی مفت ہے اور اب اس میں مزید اضافہ کرکے کمیونٹی کالج کے دوسال شامل کردیئے ہیں اس طرح چودہ سال کی پڑھائی مفت ہوگئی ہے۔ ہیلتھ کیئر اور سوشل سکیورٹی کو مضبوظ بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں۔ امریکی معیشت میں پرائیویٹ سیکٹر بہت اہم ہے جسے بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے تارکین وطن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اجرت میں اضافہ نہ ہونے کا سبب وہ نہیں بلکہ اس کی ذمہ دار وال سٹریٹ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ’’صاف توانائی‘‘ کے حصول کے لئے سات سال پہلے جس مہم کا آغاز کیا تھا اب وہ کامیابی سے آگے بڑھ چکی ہے۔ صدر اوبامہ نے واضح کیا کہ ہماری اولین ترجیح امریکی عوام کو تحفظ فراہم کرنا اور دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کا پیچھا کرناہے۔ پہلے القاعدہ اور اب داعش بھی ان دہشت گرد قوتوں میں شامل ہوگئی ہے جو امن پسند شہریوں کے لئے براہ راست خطرہ ہیں۔ یہ دہشت گرد بہت تھوڑے ہیں لیکن چونکہ انہیں اپنی اور دوسروں کی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اس لئے وہ آسانی سے دنیا کا امن برباد کرسکتے ہیں۔ وہ اب ہمارے شہریوں کے دماغ میں زہر بھرنے کے لئے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ان کے خلاف ہماری جدوجہد جاری ہے جو یقیناً کامیابی سے ہم کنار ہوگی۔

مزید : صفحہ اول