پٹھانکوٹ حملہ ،جیش محمد کے متعدد ارکان گرفتار ،دفاتر سیل،مولانا مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا

پٹھانکوٹ حملہ ،جیش محمد کے متعدد ارکان گرفتار ،دفاتر سیل،مولانا مسعود اظہر ...

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان نے پٹھان کوٹ ایئربیس حملے میں ملوث کالعدم تنظیم جیش محمدکے سربراہ مولانا مسعود اظہر سمیت متعدد ارکان کو گرفتار کرلیا ،کالعدم تنظیم کے دفاتر سیل کر کے بھارتی حکام سے حملے کے حوالے سے مزید معلومات طلب کرلی ہیں۔وزیراعظم نوازشریف کے زیرصدارت گزشتہ روز اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں سربراہ پاک فوج جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار، وزیرخزانہ اسحاق ڈار، مشیرخارجہ سرتاج عزیز، قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں پٹھان کوٹ حملہ ،سعودی ایران کشیدگی ،34اسلامی ممالک کے اتحاد سمیت ملکی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ سعودی عرب کے وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کی پاکستان آمد اور ملاقاتوں کے حوالے سے شرکاء کو اعتماد میں لیا گیا۔اجلاس میں کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز اورافغانستان کے شہر جلال آباد میں پاکستانی قونصلیٹ کے قریب ہونیوالے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ۔اجلاس کے دوران شرکا نے بھارتی ایئربیس پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات اورتفتیش میں پیش رفت ، دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں اعلیٰ سکیورٹی حکام کی جانب سے شرکاء کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بھارت کی جانب سے فراہم کئے گئے ثبوتوں پر کارروائی کی گئی اور اس دوران بھارتی ایئربیس پٹھان کوٹ پرحملے میں ملوث ملزمان پکڑلئے گئے جبکہ ملک میں کالعدم تنظیموں کے دفاتر سیل کرنے کا عمل جاری ہے جبکہ پورے ملک میں کالعدم تنظیم جیش محمد کے دفاتر کو ڈھونڈ کر ان پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نوازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور ہر قسم کی دہشت گردی وانتہا پسندی کا خاتمہ چاہتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سرزمین بھارت سمیت کسی بھی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی ۔وزیراعظم نے کہاکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک پاکستان بھارت کے ساتھ رابطے میں رہے گا اور مکمل تعاون جاری رکھے گا ۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پٹھان کوٹ واقعے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور ابتدائی تفتیش اور معلومات کی روشنی میں حملے میں ملوث ملزمان کو گرفتارکیا جاچکا ہے جن کا تعلق کالعدم جیش محمد سے ہے جبکہ ابتدائی معلومات کے مطابق کالعدم جیش محمد کے متعدد ارکان کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے دفاترسیل کردیئے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کے تحت بھارت سے رابطے میں رہیں گے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پٹھان کوٹ واقعے کی مزید تحقیقات کے لئے خصوصی ٹیم بھارت میں پٹھان کوٹ ایئربیس جائے وقوعہ پر بھیجی جائے گی اور اس کے حوالے سے بھارتی حکام سے مشاورت ہوگی جبکہ بھارت سے مزید معلومات بھی طلب کی جائیں گی ۔دریں اثنا وزیراعظم نوازشریف نے پٹھان کوٹ واقعے کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کی 6رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کی ہدایات کے مطابق پٹھانکوٹ واقعہ سے متعلق بھارت کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کیلئے قائم کمیٹی میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے بریگیڈئیرنعمان سعید،ملٹری انٹیلی جنس کے لفٹیننٹ کرنل عرفان مرزا،ڈائریکٹرایف آئی اے عثمان انور،ایڈیشنل ڈائریکٹرسی ٹی ڈی خیبر پختونخوا کے صلاح الدین ڈائریکٹرآئی بی عظیم ارشدمحکمہ انسداددہشتگردی پنجاب کے ایڈیشنل آئی جی رائے طاہرشامل ہیں ،کمیٹی کے کنونیئرایڈیشنل آئی جی پنجاب رائے طاہرہونگے ۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) سیکیورٹی اداروں نے کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لے کر پٹھان کوٹ حملے سے متعلق پوچھ گچھ کا آغاز کر دیا ۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے بہاولپور کے علاقے میں چھاپے مار کر جیش محمد تنظیم کے 13 افراد کو گرفتار کیا جن میں مولانا مسعود اظہر کے بھائی مفتی عبد الروف اصغر اور ان کے دیگر قریبی ساتھی شامل ہیں۔حکومتی ذرائع کے مطابق مولانا مسعود اظہر کو بہاولپور کے علاقے سے تحویل میں نہیں لیا گیا ،مولانا مسعود اظہر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بہاولپور میں موجود نہیں تھے،سیکیورٹی اداروں نے انہیں کسی دوسرے مقام سے حفاظتی تحویل میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر کے پٹھان کوٹ حملے سے متعلق پوچھ گچھ شروع کردی ہے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...